تازہ ترینکالممحمد وجیہہ السماء

23مارچ اور ہماری ذمہ داریاں

MUHAMMAD WAJI- US- SAMAقبل از اسلام بر صغیر کی حالت بہت خراب تھی ہر برائی اس علاقے کے لوگوں میں موجود تھی نہ عورت کی کوئی عزت تھی اور نہ ہی اسکے کوئی حقوق مانے جاتے تھے چور بازاری اپنے عروج پر تھی ناجائز منا فع خوری کو غلط تصور نہیں کیا جاتا تھا ملاوٹ کو گناہ کی بجائے لازم و ملوم سمجھا جاتا تھا غرض کوئی ایسی برائی نہیں تھی کہ جو اس علاقے کے لوگوں میں موجود نہ تھی مگر 710ء کو وہ انقلاب آ یا جس کی وجہ سے اس علاقے کی تقدیر ہی بد ل گئی جب محمد بن قاسم نے ایک مظلوم اور قیدی لڑکی کی فریاد پر اس علاقے کی طرف پیش قدمی کی۔ اپنے آنے سے قبل محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو ایک خط بھی لکھا جس میں لکھا گیا تھا کہ ’’تمہیں اپنی فوج، سازو سامان اور ہاتھیوں پر ناز ہے مگر ہمارا بھروسہ صرف خدا کی ذات پر ہے ہار جیت اسی کے ہاتھ میں ہے مگر راجہ نے اسے مذاق سمجھا پھر محمد بن قاسم نے سندھ کی طرف کوچ کیا اور راجہ داہر کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا جس کے ساتھ ہی پورے ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھ دی گئی۔ محمدبن قاسم نے اسلامی احکامات پر عمل کر تے ہوئے پنڈتوں و پروہتوں کو سرکاری خزانے سے رقمیں فراہم کیں جو ان کو ملتی تھیں عام محکمے سندھیوں کے پاس ہی رہے بس نگرانی کے لئے جابجا مسلمان افسر مقر ر کئے گئے اس کے ساتھ ساتھ محمد بن قاسم نے وہ تمام احکامات منسوخ کر دیئے جو انسانو ں کے درمیان امتیاز پیدا کرتے تھے کیونکہ جب مسلم برصغیرمیں داخل ہوئے تو لوگ گروہوں میں بٹے ہوئے تھے بتوں کی پوجا عام تھی انسان اور جانور میں کوئی فرق روا نہ تھا خصوصاً شودر کو دوسری قوموں کے مقابلے انتہائی برا سلوک برداشت کر نا پڑتا تھا مگر جب مسلمانوں نے حکومت کا انتظام سنبھالا تو نہ صرف اپنی حکومت کا بہترین انتظام کیا بلکہ بہت ساری یاد گاریں بھی تعمیر کیں جس میں دہلی کا لال قلعہ، شاہی قلعہ، دیوان خاص، تاج محل وغیر ہ شامل ہیں جو ان کی �آج بھی یاد تازہ کرتی ہیں مسلمان حکمرانوں نے اس علاقے میں سوا تین سو سال حکومت کی اور ان دنوں کو بہترین ادوار کہا جا سکتا ہے جن میں تمام مسالک کو ان کے دین کے حوالے سے آزادی تھی اور انصاف بھی انصاف کے پلڑے میں تل کر ملتا تھا مگر ان کے بعد آپسی رنجشوں اور نا اتفاقیوں نے بر صغیر میں گھر کر لیا اور حکمرانو ں نے ایک دوسرے کے خلاف ہی لڑنا شروع کردیا اور اس طر ح انگریز جو تجارت کی غرض سے یہاںآیا تھا اس نے مقامی لوگوں کی مد د سے آ ہستہ آ ہستہ دربار پھر حکومتی معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کر دی جب کہ یہ سازش حید ر علی بخوبی جا ن چکے تھے کہ اگر انگریزوں کو اپنے قدم جمانے کا مو قع مل گیا تو وہ اس پورے ملک کے لئے خطرہ بن جا ئیں گے ان کو ختم کر نے کے لئے انھوں نے ان کے خلاف جہاد شروع کر دیا جب کہ اسی دوران وہ وفات پا گئے اس کے بعد ان کے بیٹے ٹیپو سلطان نے قمان سنبھالی اور وہ بھی اپنوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی بھینٹ چڑھ کر شہید ہو گئے اور اس کے بعد انگریزوں کا پورے علاقے پر قبضہ ہوگیا اور ا نھوں نے ہندوؤں کے سا تھ مل کر مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیئے انگریز جانتے تھے کہ کبھی بھی مسلمانوں کو کو ئی لیڈر مل گیا تو وہ ان سے آ زادی حاصل کر کے رہیں گے اور قدرت نے بر صغیر کے مسلمانوں کی دعایں سن لیں اور 18ویں صدی میں برصغیر میں دو ہستیاں پید اہو ئیں جنھیں دنیا علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے جا تنی ہے ان ہستیوں نے اپنے دوسرے دوستو ں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے حقو ق کے لئے آواز اٹھانی شرو ع کر دی اور ہر اس پلیٹ فارم پر آواز اٹھا ئی جہاں محسو س ہو تا کہ یہاں مسلمانوں کی د ل آزاری کی جائے گی اور شاید یہی وجہ تھی کہ قائداعظم نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی کہ شاید وہ بھی ایک غلام قوم کا درد اپنے دل میں محسوس کر تی ہے اور وہ بھی شاید مسلمانوں کے حقو ق اور آزادی میں اس کا ساتھ دے مگر اس میں شمولیت کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ محسو س کیا کہ کانگر یس تو برصغیر کی تمام جماعتوں کی نمائندہ جماعت نہیں بلکہ وہ تو صرف اور صرف ہندوؤں کے حقو ق کی حفا ظت کرتی ہے اور دو سرے مذاہب کے حقوق کی ترجمان نہیں اگر انگریز اس کے حوالے بر صغیر کر گئے تو مسلمان پہلے سے زیادہ اذیت کا شکار ہو جا ئیں گے اس موقع پر تمام مسلمانوں نے اپنی الگ جماعت کی کمی محسوس کی اور یوں 1906ء میں مسلم لیگ کے نام سے مسلمانوں کی جماعت سامنے آئی جس میں قائد اعظم جیسے نڈر اور اصول پسند لیڈر موجود تھے اور یہ وہ مو قع تھا کہ قوم کو ایک سید ھی راہ دکھا ئی جا ئے تا کہ منزل کا حصول آسان ہو جائے اس جماعت نے اپنے پہلے دور میں مسلمانو ں کی الگ پہچان انگریزوں کے سامنے کروائی اس جماعت کی آ واز پر مسلمانوں نے لبیک کہا اور اپنا تن من دھن بھی قربان کر نے کی ٹھان لی کیونکہ مسلمان 1936-37کے انتخابات میں مسلم لیگ کو خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہو ئی مگر مسلمانوں کی آ واز بلند کرنے والا پلیٹ فارم میسر آ گیا ان انتخابات کے بعد مسلمانوں پر ہندوؤں نے ظلموں کا پہاڑ توڑنے شروع کر دیا اور یوں آزادی کا مشن ایک جد جہد اختیار کر گیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑی اور 23مارچ 1940ء کا وہ تاریخ ساز دن آگیا جب لاہور میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقدہوا جس کی صدارت علامہ اقبال نے کی انھوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ’’ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں کچھ اور آ گے جانا چاہتا ہوں میر ی خواہش ہے کہ صوبہ پنجاب، صوبہ شمال مغربی سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک الگ ریاست کی شکل دے دی جائے ‘‘ جب کہ اس مو قع پر قائد اع ظم محمد علی جناح نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ’’ ا سلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں ہیں بلکہ درحقیقت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں چنانچہ اس خواہش کو خواب و خیال ہی کہنا چاہئے کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک مشترکہ قومیت تخلیق کر سکیں یہ لو گ آ پس میں شادیاں نہیں کرتے ایک دستر خوان پر کھانہ نہیں کھاتے میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ یہ دو مختلف تہذیبیں ہیں اور ایک دوسرے کی ضد ہیں‘‘ اور اس قرار دار کو ہندوستانی اخبارات نے ’’قرار داد پاکستان‘‘ کا نام لکھ کر مسلمانوں کا مذاق اڑانے کی کوشش کی جبکہ یہ کوشش مسلمانوں میں جذبہ آزادی بیدار کرنے میں چراغ بن گئی اور آخر کار 1940سے لے کر 1947ء تک لاکھوں انسانوں کی قربانیوں سے ہمیں یہ پیارا پاکستان حاصل ہوا اس کی جڑوں میں ہماری شہید بہنوں‘ ماؤں اور بہنوں کا خون شامل ہے اور وہ تو یہ وطن ہمارے حوالے کر گئے کہ ہمیں اس کی حفاظت کر نی ہے اور اس کو ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل کر نا ہے تا کہ کوئی بیرونی طاقت اس پر ا نگلی نہ اٹھا سکے اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ا پنے آ باؤ اجداد کے وطن کو ان کی امنگوں کے مطابق سنواریں ان اصولوں کو اپنائیں جس سے ملک کا نام عالمی سطح پر روشن ہو عام آدمی کے سا تھ ساتھ حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ اپنے آ باؤ اجداد کی دی ہوئی قربانیوں کو یاد رکھیں تا کہ روشن پاکستان کے لئے فیصلے کرتے ہوئے وہ کمزور نہ ہوں کیونکہ یہ ملک ہے تو ہمیں وہ سب سہولتیں میسر ہیں جو کسی بھی انسان کیلئے ضروری ہیں دوسرے اگر ملک نہ رہا تو حکومت کس پر ہوگی اور کیسے مسند اقتدار پر فائز ہوسکیں گے۔*note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button