امتیاز علی شاکرکالم

یوم جمہوریہ ۔۔۔۔قوم کو تحفہ

یوں توپاکستانی حکومت آئے دن عوام کو کوئی نہ کوئی تحفہ دیتی رہتی ہے لیکن اس سال 23مارچ کو یوم جمہوریہ پاکستان کے موقع پرحکومت نے عوام کو پہلے سے کچھ بڑا تحفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ایسا تحفہ کے عوام خوشی سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوجائے گی یا شہر چھوڑ جنگل کے دور میں لوٹ جانا چاہے گی۔عزیزہم وطنوں تحفہ یہ ہے کہ نیشنل پاورریگولیٹری اتھارٹی ﴿نیپرا﴾نے آئندہ چار(4)ماہ کے لئے بجلی کی قیمتوں میں 16سے48فیصداضافے کا اعلان کردیا ہے ۔20مارچ کونیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مزید2.24روپے﴿47.5﴾فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے ۔جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 4.71روپے فی یونٹ کا اضافہ کیا اور ماہ نومبر میں بھی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 5.025روپے فی یونٹ اضافہ کیا جا چکا ہے ۔ پاکستان میں دنیا کی مہنگی ترین بجلی ہونے کے باوجود بجلی لوڈشیڈنگ ختم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے ۔پنجاب میں 18سے20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ۔شائدیہ لوڈشیڈنگ بھی ہمارے لیڈرہمیں تحفہ سمجھ کردے رہے ہیں ۔قوم تونہیں لیکن لیڈر وں کو خوش قسمت کہا جا سکتا ہے کہ ان کو کتنی اچھی عوام ملی ہے جو ہر ظلم خاموشی سے برداشت کرلیتی ہے۔ کبھی لیڈر ہوتے تھے قوم کے لیکن آج کل قوم ہے لیڈروں کی ۔لیڈر ہونا اس قدر فائدے کی بات ہے کہ آج ہر کوئی لیڈر بننا چاہتا ہے ۔مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عام لوگ جب اپنے لیڈروں کوشاہانہ زندگی بسر کرتا دیکھتے ہیں تو ان کا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی لیڈر بن جائیں تاکہ ان کی زندگی بھی عیش و عشرت میں بسر ہوجائے ۔یہ بات سچ ہے کہ آج کے دور میں لیڈر ہونے کے بہت سے فائدے ہیں ۔لیڈر شپ سے قوت ،اقتدار،عزت واحترام ،شہرت کے ساتھ ساتھ دنیا کی اور بہت سی کامیابیاں لیڈر کی جھولی میں آ گرتی ہیں۔جس قوم کے لیڈر قوت ، اقتدار،عزت واحترام ،شہرت اور دولت کے نشے میں اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نہ نبھائیں تو پھر اس قوم کے حصے میںکبھی بھی قوت ، اقتدار،عزت واحترام نہیں آتا اور ایسی قومیں دنیا میں رسواہو جاتیں ہیں ۔ایسے حالات میںلیڈرتو قوم کے نہیںہوسکتے ہاں قوم ضرور لیڈروں کی ہوسکتی ہے ۔ اگر لیڈرحضرت محمد علی جناح اور حضرت علامہ اقبال جیسے ہوں تولیڈر بھی قوم کے ہوتے ہیںاور قوم بھی لیڈروں کی ہوتی ہے ۔جب لیڈر قوم سے مخلص ہوں تو قوم کا مستقبل کس قدر روشن ہوسکتا ہے۔ اس بات کا اندازہ ہم اپنے تاب ناک ماضی سے لگا سکتے ہیں ۔جب مخلص لیڈروں کی قیادت میں قوم متحد ہوئی تو صرف سات سال کے مختصر عرصے میں دنیاکا سب سے بڑا اسلامی ملک آزاد ہوا ۔وہی آزاد مملکت خدادادپاکستان آج اسلامی دنیا کاواحد ایٹمی طاقت ہے، لیکن آج ہم صرف سوچ ہی سکتے ہیں ۔ محترم قارئین آج میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 72ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنی اوقات کے مطابق اپنے عظیم قائدین کوخراج تحسین پیش کرنے جا رہا ہوں ۔ 23مارچ 2012اسلامی جمہوریہ پاکستان کا72واں یوم جمہوریہ ۔قوم ہرسال یہ دن روایتی جوش وجذبے اور بانیان پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح اورحضرت علامہ اقبال کے فلسفہ اوراصولوں کے مطابق جمہوری،فلاحی پاکستان کی حقیقی منزل کے حصول کے لئے اپنی تمام تر توانیاں صرف کرنے کے جذبے اور عزم کے ساتھ مناتی ہے ۔یہی وہ تاریخ ساز دن تھاجب 23مارچ 1940ئ کے دن منٹو پارک لاہورمیں قائداعظم محمد علی کی زیر صدارت مسلم لیگ کے عظیم الشان اجتماع میں قراردادلاہورمنظور کرکے دو قومی نظریے پرقیام پاکستان کی بنیاد رکھی گئی اور پھر سات سال کے مختصر عرصہ میںبرصغیر کے مسلمانوںکواپنی پرامن اور مخلص جمہوری جدوجہدکے ذریعے14اگست1947تصور اقبال کو حقیقت کی صورت حاصل کرلیا۔قارئین یہ ہم سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے آزاد ریاست کا خیال سب سے پہلے محترم حضرت علامہ اقبال نے پیش کیا جس کو برصغیر کے مسلمانوں نے دل سے قبول کیا۔میرے مطالعہ کے مطابق حضرت ڈاکٹرعلامہ اقبال9نومبر1877ئ کوسیالکوٹ میں پیداہوئے ان کے والد کا نام شیخ نور محمدتھا جن کا تعلق کشمیری برہمنوں کے خاندان سے تھانور محمد ایک سچے ۔کھرے اور ایماندار انسان تھے ۔حضرت علامہ اقبال نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے ہی حاصل کی آپ ایف اے کے امتحانات مرے کالج سیالکوٹ سے پاس کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے لاہور چلے گئے جہاں آپ نے بی اے اور ایم اے کے امتحانات گورنمٹ کالج لاہور سے پاس کئے ۔1905میں آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اورکیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پھر وہاں سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد حضرت علامہ اقبال جرمنی چلے گئے جہاں آپ نے مونخ یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔اور یوں آپ اس دور کے نہایت پڑے لکھے شخص تھے ۔آپ نے اپنے اردو اور فارسی کلام کے ذریعے برصغیر پرانگریزی تسلط اورہندوستان کے عہد غلامی میں مسلمانان ہندوستان کوبیدار کرنے کے لیے اپنے لوح وقلم فکروادراک اور شعروادب کووقف کردیا۔ہندواور انگریزسامراجی عہدجبروت میںبرصغیرکے مسلمانوں کوآزادی کی اہمیت کادرس دیا۔یہ کام اس وقت آسان نہ تھا مگر حضرت علامہ اقبال نے اپنے چراغ فکر کا اجالا پھیلاکرمسلمانوں کوظلم وستم کے تاریک اندھیروںمیں وہ روشنی دی جس کا وجود آج بھی نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کے مسلمان محسوس کرتے ہیں۔جی ہاںوہ علامہ اقبال ہی تھے جنہوں نے دسمبر1930ئ کوالہ آباد میںمنعقدہ آل انڈیامسلم لیگ کے سالانہ
اجلاس میںاپنا صدارتی خطبہ دیتے ہوئے صاف صاف الفاظ میںفرما دیا کہ انگریزی تسلط کے اندر یاباہرہندوستان کے ان علاقوں پر مشتمل جن میںمسلمانوںکی اکثریت تھی ۔بہرحال مسلمانوںکے لیے ایک الگ خطے کا قیام نا گزیر ہوچکا تھا۔علامہ اقبال کا وہ ا علان قیام پاکستان کے اندھیرے راستوں کو روشن کرنے والا پہلا چراغ تھا ۔اور پھر علامہ اقبال ہی کے اصرارپرمسلمانان ہندوستان کے بطل جلیل اورمسلمانان ہندوستان کے منتشر شرازے کومجتمع کر کے ایک قوم کے ڈھانچے میںڈھال دینے والے عظیم رہبر حضرت قائداعظم محمد علی جناح انگلستان سے واپس بمبئی تشریف لائے اور آل انڈیا مسلم لیگ کی نئے سرے سے تنظیم سازی کرنے کے بعد 23مارچ1940ئ کولاہورمیںبرصغیر کے تمام مسلم لیگی رہنماوںکی موجودگی میںصدارت کرتے ہوئے وہ قراردادمنظور کرائی جس نے ہندئو پریس کو قرارداد پاکستان تسلیم کرنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔اور پھر حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم الشان قیادت میں وہ ناقابل شکست تحریک چلی جس کی کوئی مثال نہیںملتی اور بلاآخر 14اگست 1947ئ کوپا کستان دنیا کی پہلی اسلامی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔قائد اعظم محمد علی جناح کوان کی اصول پسندی ،مستقل مزاجی،فرض شناسی اورامان داری کی وجہ سے پاکستا ن کے پہلے گورنر جنرل بنایا گیا بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس عہدے پر سرفرازی ،قائد کی بے لوث خدمات کا اعتراف تھا ۔ کیونکہ صرف جناح کی قیادت اور درخشندہ شخصیت ہی مسلمانوں کو مطمئن ومتحرک کر سکتی تھی۔بحثیت گورنر جنرل قائد اعظم کی حیثیت بے مثل تھی ان کی حیثیت مروجہ طرز حکومت میں محض ایک روایتی سربراہ مملکت کی نہیں تھی،بلکہ انہیں وہ حیثیت حاصل تھی جو کہ بانی پاکستان اور بابائے قوم کے لیے وقف تھی ایسی شخصیت جنھیں نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی مانتے تھے ۔قائد اعظم کے کارنامو ں اور تاریخی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹینلے والپرٹ نے تحریر کیا کہ چند افراد نے تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی نمایاںکوشش کی ،اور صرف چند نے دنیا کا نقشہ تبدیل کیا،لیکن شائد ہی کسی رہنما کو قومی ریاست قائم کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہو۔محمد علی جناح نے یہ تینوں کارنامے انجام دیے۔قائد اعظم ایک ہمہ گیر عمل سیاسی رہنما تھے یہ ان کی سچی اور پر خلوص جدوجہد کانتیجہ تھاکہ بے شمار دشواریوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایک مقتدر مملکت پاکستان وجود میں آئی۔ قائد اعظم پاکستان کو مضبوط و مستحکم ،ترقی یافتہ اور خود کفیل بنانا چاہتے تھے مگر زندگی نے ان کو مہلت نہ دی اور وہ مختصرعلالت کے خالق حقیقی سے جاملے،لیکن مجھے لگتا ہے جیسے صرف محمد علی جناح ہی دنیا فانی سے رخصت ہوئے ہیں ۔قائداعظم نہیں وہ آج بھی اپنے اقوال میں زندہ ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker