آصف یٰسین لانگوتازہ ترینکالم

23مارچ1940ء سے 2015ء تک

asif23مارچ 1940ء تاریخ برصضیر کا انتہائی اہم ترین اور سنہری دن تصور کی جاتی ہے اس دن اپنے ہی گھر میں غلام پاک و ہند قوم کو آ زادی کی حصول کی حوصلہ افزائی ملی ہے ۔23مارچ1940ء کو برصغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے چونیسویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلمانوں کی آ زادی اور ایک الگ وطن کے قیام کے لئے قرار داد منظور کی گئی تھی۔ جسے قرار دار لاہور یا قرار داد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو 1941ء میں نہ صرف مسلم لیگ کے آ ئین کا حصہ بنی بلکہ اسی کی بنیاد پر سات سال بعد 14اگست 1947ء کو پاکستان معر ضوجود میں آ یا ۔ آ ل انڈیا مسلم لیگ کا چونتیسواں سالانہ اجلاس 22سے 24 مارچ 1940ء کو منٹو پارک میں منعقد ہوا جسے آ ج کل اقبال پارک کہا جاتا ہے ۔قائد اعظم محمد علی جناح نے اجلاد کی صدارت کی جس میں نواب سر شاہ نواز ممڈوٹ نے استقبالیہ خطبہ دیا اور اے کے فضل الحق نے تاریخ ساز قرار داداد لاہور پیش کی ۔ اجلاس سے خظاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ ’’ ہندوستان کا مسئلہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں بلکہ بین الا قوامی ہے اور اس کو اسی لحاظ سے حل کرنا چاہئے جب تک اس کی اساسی اور بنیادی حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا جو دستور بھی بنایا جائے گا وہ نہیں چل سکے گا اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ انگریزوں اور ہندؤں کے لئے بھی تباہ کن اور مضر ثابت ہوگا۔‘‘
قائد اعظم نے کہا کہ ’’ لفظ قوم کی ہر تعریف کی رو سے مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے اور اس لحاظ سے ان کا علیحدہ وطن ،اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ہونی چاہیے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آ زاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنی روحانی ، ثقافتی ، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اس طریق پر زیادہ سے زیادہ ترقی دیں جو ہمارے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے نصب العین سے ہم آ ہنگ ہو ۔‘‘
قیام پاکستان کے 13 سال بعد قرار داد لاہور کی یاد میں منٹو پارک میں ایک یادگار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مغربی پاکستان کے گورنر اختر حسین نے آ زادی کی اس یاد گار مینار پاکستان کا سنگ بنیاد 23مارچ 1960ء کو ایک سادہ تقریب میں ٹھیک اسی جگہ جہاں 1940ء میں مسلمانوں کے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مینار پاکستان کی تعمیر میں کنکریٹ ، پھتر اور سنگ مر مر کا استعمال کیا گیا ہے مینار کا فرنٹ بادشاہی مسجد کی طرف ہے جس کی اطراف چاروں چبوترے بنائے گئے ہیں ۔ پہلا چبوترا بغیر تراشے سنگ ٹیکسلا کے پتھر سے بنایا گیا ہے آ زادی کی جدو جہد کو ظاہر کرتا ہے۔
ابتدائی ایام میں پاکستان غربت اور بیت المال ِ ریاست خالی ہونے کی وجہ اور تقسیم پاک و ہند میں پاکستان کے ساتھ ناروا سلوک ، پاکستان و مشرقی پاکستان کے حقوق کی فراہمی میں بھارتی ڈاکہ ، سادہ و بے لوث حکمران اور آ ئین جیسے مسائل سے دو چار تھا۔ دنیا کے نظر میں پاکستان اور مشرقی پاکستان ناکام ریاست بن کر دو بارہ انگریزوں کے گرفت میں آ ئیں گے جیسے خیالات عروج پر تھے ۔
قائد اعظم محمد علی جنا ح پاکستا ن کے پہلے گورنر جنرل اور خان لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔ ان کی انتھک محنت اور ایمانداری نے ریاست کی بنیاد کو مضبو طی سے قائم رکھاہوا تھا کہ قائد اعظم کی انتقال اور بعد ازاں خان لیاقت علی خان کی قتل نے پاکستان کو بانی حکمرانوں سے محروم کیا ۔ وقت اور حالات گزرتا گیا حکمران آ تے گئے ملک میں بیرونی اور اندرونی سیاسی اختلافات کی وجہ بے شمار مسائل سامنے آ تے گئے ۔ بھارت کی جانب سے جنگیں بھی ہوتی رہی مگر پاکستان ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ کا نعرہ کی طاقت نے کامیاب کیا ۔ مشرقی پاکستان کے سیاست دانوں خیالات تھے کہ مشرقی پاکستان کو نظر انداز کیا جارہا ہے اسے الگ اور آ زاد کیا جائے جیسے خیا لات کے بعد بالآ خر شیخ مجیب الر حمن کی قیادت میں1971ء مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا جس سے پاکستان بہت نقصان پہنچااور پاکستان کا زوال شروع ہونا ہوگیا ۔
پاکستان کے حالات سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے دور یعنی اکیسویں صدی کی شروعات کے بعد خراب ہونا شروع ہوگئے جو تاحال معمول کے مطابق نہیں ۔ پرویز مشرف پاک امریکہ دوستی میں ذاتی مفادات کی وجہ سے زیادہ گہری تعلقات قائم کی جس وجہ افغانستان سے آ ئے طالبان نے پاکستان پر حملہ کرنا شروع کردیا ۔ اصلی اور جعلی طالبان بن گئے ۔ ہزاروں بے گناہ کا قتل ، ٹارگیٹ کلنگ ، دشت گردی ، علماء اور طلباء کا قتل عام ، خودکش بم دھماکے ، ڈرون حملے اور افر تفری کا عالم عروج حاصل کرتا گیا۔ دن بدن حالات خراب ہوتے گئے ۔ آ صف علی زرداری نے پانچ سال حکومت کی مگر حالات کے درست کرنے کے بجائے مشرف پالیسیوں کو بحال اور انھیں وسعت دیتا گیا ۔ جس سے مزید حالات خراب ہو گئے ۔ بلوچستان اور قبائل علاقوں میں بغاوت کے باوجود سیاسی حکومت بے بس اور لا پرواہ رہی جس سے ملک میں مزید ہزاروں قتل ہوئے ۔ اب جبکہ میاں نواز شریف کی حکومت ہے ۔ آ پریشن ضرب عضب اور کراچی آ پریشن کی کامیابی کے بعد حالات کنٹرول میں آ گیا ہے مگر اب تک حالات معمول کے مطابق نہیں ۔ اب بھی بے گناہ کا قتل ، ٹارگیٹ کلنگ ، دشت گردی ، علماء اور طلباء کا قتل عام ، خودکش بم دھماکے ، ڈرون حملے اور افر تفری کا عالم عروج پر ہے ۔ بے روزگاری اور لاقانو نیت نے عوام الگ پریشان کر رکھا ہے ۔ حکومت کی لاپروائی سے عوام کافی مایوس ہے ۔
اس ملک میں بہت سے ایسے غیر معمولی واقعات رونماء ہوئے ہیں پھر حکومت کی عدم توجہ اور لا پروائی نے حالات کو مز ید خراب کرنے راست کھول دیئے ہیں۔ جیسا کہ
27جنوری 2011ء کو ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں کو قتل کیا مگر ریمنڈ ڈیوس امریکی جا سوس ہونے کی وجہ سے بہت جلدی آ زاد ہو کر با عزت طریقے سے باہر بھی چلا گیا۔ جس سے امریکی و دیگر دشمن ممالک کے ایجنٹوں کے راستے ہموار ہوئے۔
26نو مبر 2011ء کو نیٹو نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے 28 جوانوں کو شہد کیا لیکن چند کی پاکستانی ناراضگی اور پھر امریکہ کو اپنا آ قا تصور کرکے ناراضگی ختم کا فیصلہ کیا ۔
پاکستان میں سینکڑوں کی تعداد مین ڈرون حملے ہوئے جس سے ملک کی سا لمیت اور آ زادی پر سوال پیدا ہوتا ہے ؟ دوسری جانب امریکہ نے ایک بار اپنا جاسوس ڈرون طیا ر ہ پاکستا ن کے ہی پڑوس اسلامی ریاست ایران کی حدود میں بھیجا تھا تو خود مختاری اور آ زادی کی وجہ سے 2011دسمبر کو ایران نے امریکا کا ڈرون طیارہ اتار لیا تھا لیکن پاکستان میں ہزاروں بے گناہ قتل ہو چکے ہیں جس سے پاکستان کی محتاجی کے ثبوت ملتے ہیں۔
2مئی 2011ء کو پاکستان کے شہر ایبٹ آ باد میں امریکا نے آ پریشن کر کے اسامہ بن لادن کو شہد کیا تھا لیکن افسوس پاکستانی حکومت کو میڈیا کے زریعے اس آ پریشن کا پتہ چلتا ہے ۔ بے خبر حکمرانوں نے ایک بار پھر روایات کے مطابق خاموشی بہتر سمجھا ۔
پاکستانی خاتون سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکا نے پاکستان سے لے گیا اور اپنے ملک میں جھوٹی مقدمہ چلایا ہے خاتون سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج تک امریکی کتوں کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے ۔ ایک آ زاد اسلامی ملک کے حکمرانوں سے اپنی مدد کی طلبگار ہے ۔
محترم قارئین حضرات : ہم جوش و جزبے کے ساتھی یوم آ زادی اور یوم قرار دار پاکستان تو مناتے ہیں لیکن موجودہ حالات کو مد نظر رکھ کر سوچا جائے ہم اپنے ساتھ خود دھوکہ کر رہے ہیں ۔ اس موقع ہر مجھے وہ کبوتر یاد آ تا ہے جو بلی کو دیکھ کر اپنی آ نکھیں بند کرتی ہے اورسوچتا ہے کہ اب اندھیرا ہے بلی نہیں دیکھے گی لیکن بلی کے لئے تو وہی روشنی ہوتی ہے اور بلی کبوتر کی شکار باآ سانی سے کرتا ہے ۔ اس ملک میں رہنے والوں حالت بھی اس اس کبو تر جیسی غلط فہمی میں رہنے والوں کی ہے ۔ ہمیں یوم آ زادی اور یوم قرار دار پاکستان اُس دن منانا چاہئے جس دن پاکستان واقعی میں آ زاد ہو نہ کے دنیا کا محتاج اور غلام ہو

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button