تازہ ترینصابرمغلکالم

25 سال بعد بابری مسجد کے ملزما ن ہر فرد جرم عائد

تاریخی بابری مسجد کیس کی سماعت کے لئے سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت پر قائم ہونے والی خصوصی عدالت نے حکمران جماعت بھارت جنتا پارٹی کے تین اہم رہنماؤں لال کرشنا ایڈوانی ،مرلی منوہر اور اوما بھارتی پر فرد جرم عائد کر دی ہے تینوں رہنماؤں نے کمرہ عدالت میں اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے نفرت انگیز تقریر کی تھی جس کی بنیاد پر مشتعل ہندوؤں نے6دسمبر1992کو تاریخی بابری مسجد کو شہیدکر دیا تھا،سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آر)جو ہمیشہ سے یہ کہتا رہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے پیچھے سوچی سمجھی سازش تھی،سی بی آر کی ہی خصوصی عدالت میں فرد جرم عائدکرنے کی جرح کے دوران کے دوران ایڈاوانی نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیاانہوں نے فرد جرم پڑھنے کے پانچ منٹ بعد اس پر دستخط کئے وشو ہندو پریشد(وی ایچ بی)کے سابق صدربشنوی ڈالمیا نے اس موقع پر کہاالزام تو طے ہوناہی تھے لیکن سی بی آئی کے ذریعے عائدکردہ الزامات بے بنیاد ہیں،شیوسینا کے سابق ممبر ہاون پانڈے نے کہا عدالت نے پہلے ہی الزامات طے کر رکھے ہیں ،حالانکہ انہوں نے ہمیشہ او رہر فورم پر تسلیم کیا کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے میں ان کا ہاتھ ہے،اوما بھارتی جو آبی وسائل ،ندیوں کی ترقی اور گنگا کی صفائی کی وزیرہیں نے کہاایودھیا میں کچھ سازش نہیں ہوئی یہ ایک کھلی تحریک تھی جس میں بی جے پی کے کروڑوں کارکن شامل ہو گئے تھے، رواں سال سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ مسجد کی شہادت کے کیس میں ان تینوں کو مقدمے کا سامنا کرنا ہے اور ساتھ ہی خصوصی عدالت کے قیام کا حکم دیتے ہوئے کہا مقدمہ دو برس کے اندر مکمل اورروزانہ سماعت کسی صورت ملتوی نہیں ہونی چاہئے ، اب اس عدالت میں مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلنا شروع ہو چکا ہے ،مرکزی جانچ پڑتال کی خصوصی عدالت نے مسٹر ایڈوانی ،جوشی،ہونے کٹیا،وشنوہری ڈالمیا،اوما بھارتی اور مادھوری رتمبھرا کے خلاف مجرمانہ سازشB۔120اور ڈاکٹر رام بلاس داس دیدانتی،سیکنتھ لال شرما عرف پریم،چمپت رائے ہنسل،مہنت نرتیہ گوپال داس،ستیش پردھان اور دھرم داس پر مجرمانہ سازش کے ساتھ تعزیرات ہند کی دفعات 153اے،153بی،295اے،295اور505کے تحت الزامات طے کئے گئے ہیں،عدالت نے ایڈوانی ،مرلی منوہر اور اوما بھارتی سے کہا ذاتی طور پر عدالت میں حاضری کا استثنیٰ نہیں ملے گا البتہ تینوں کی ضمانت ضرور منظور کر لی گئی ،عدالت میں پیشی سے قبل ایڈوانی اور جوشی کے ساتھ کچھ دیگر ملزم دہلی سے صبع نو بجے لکھنؤ ہوائی اڈے پر پہنچے وہاں سے وہ سیدھے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس چلے گئے جہاں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور لال جی ٹنڈن سمیت کئی لیڈروں نے ان سے ملاقات کی ,مئی 2001میں بابری مسجد کو شہید کئے جانے کا مقدمہ جو 13رہنماؤں خلاف تھا اسے لکھنؤ کی عدالت نیافراد کے خلاف مجرمانہ الزامات کو تکنیکی بنیادوں پر خارج کر دیا تھا جس کے بعد سی بی آئی نے الہ آباد ہائی کورٹ کا رخ کیاجہاں لکھنؤ عدالت کے فیصلہ کو معطل کر دیا گیا،اس تنازع کے حوالہ سے الہ آباد ہائی کورٹ کافیصلہ آنے کے بعد فریقین نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کیں جو کئی سال سے زیر سماعت تھیں، لکھنؤ ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ کے دو ججز نے متنازع علاقے کی2.77ایکڑ زمین مسلمانوں،ہندوؤں اور نرموہی اکھاڑا(ہندو گروپ)کے درمیان برابر تقسیم کرنے کا بھی کہا تھا جسے فریقین نے تسلیم نہ کیا،کیس ختم ہونے کے 16سال بعد سپریم کورٹ نے بحال کیا ہے اسی سال مارچ میں چیف جسٹس جے ایس گھہیر کی سربراہی میں تین رکنی پینچ نے ۔رام مندراور بابری مسجد۔کا تنازع عدالت سے باہر ھل کرنے کا بھی مشورہ دیا تھا ،25برسوں میں ایل کے ایڈوانی دوسری مرتبہ کسی عدالت میں خود پیش ہوئے ہیں ان پر ہزاروں ہندو مذہبی عقیدت مندوں کے جذبات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات ہیں۔لال کرشن کے لئے یہ مقدمہ سب سے بری خبر ہے کیونکہ اب ان کے لئے صدر جمہوریہ بننے کا رواستہ بند ہو چکا ہے،وفاقی وزیر اوما بھارتی کے لئے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ،کانگریس پارٹی نے اس سے اخلاقی بنیاد پر مستعفی ہونے کا مطابلہ کر دیا ہے،بابری مسجدکوعظیم مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے نام سے منسوب ہے جو بھارتی ریاست اتر پردیش کی چند بڑی مساجد میں سے ایک ہے اسے ظہیر الدین بابر کے حکم پر دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص ۔میر باقی۔کے ذریعے 1527میں تعمیر کرایا تھا یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی،ایک سال بعد ہی ہندوؤں کا یہ دعویٰ سامنے آگیاکہ یہ ۔رام ۔کی جائے پیدائش تھی،1859میں برٹش گورنمنٹ نے مسجد میں عبادت کی جگہ تقسیم کر دی،1949میں ہندوؤں نے مسجد کے اندر سے رام کی مورتی کی دریافت کا دعویٰ کر کے حکومت کے ذریعے اسے متنازع مقام قرار دیتے ہوئے بند کر دیا،1984میں وشوا ہندو پریشد کی جانب سے ۔رام کی جائے پیدائش۔کوآزاد کرانے کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے بی جے پی کے رہنماء سابق ڈپٹی وزیراعظم لعل کرشن ایڈوانی کی قیادت میں سخت گیر ہندو تنظیموں وشواہندو پرشد،بجرنگ دل اور شیوسینا پر مشتمل اس تحریک کی قیادت سنبھال لی ، 1986میں وشوا ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھ دی،6دسمبر1992کو ہزاروں ہندوؤں ۔کارسیوکیوں نے بی جے پی اور دیگر تنظیموں کے اعلیٰ سطع کے رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں تاریخی مسجد کو شہید کر دیا اس وقت ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت تھی ،اس عظیم سانحہ پر امت مسلمہ چیخ پڑی،دوسرے روز پاکستان میں عام تعطیل کی اور ملک میں ہڑتال اور سخت مظاہرے ہوئے،2015میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کے رکن عبدالرحیم نے ایک تقریب کے دوران کہا۔رام ۔کی پیدائش ایودھیا میں نہیں بلکہ پاکستان کے علاقہ ۔ہڑپہ۔میں ہو گی ،انہوں نہ یہ بات ماہر�آثار قدیمہ ۔سورام۔کے تحقیقی مقالات کی روشنی میں کی،ان کے مطابق ایودھیا میں تین مرتبہ کھدائی کی گئی مگر مندر کے ثبوت نہیں ملے،19اپریل 2017کو سپریم کورٹ نے اس کیس میں سینئر رہنماؤں سمیت دیگر کے خلاف مجرمانہ سازش کے مقدمات بحال کئے ،با اثر ہندو راہب نرتیا گوپال نے امیدکی کرن قرار دیتے ہوئے اس صورتحال میں نریندر مودی کا وزیر اعظم کا ہونا خدا کا عظیم تحفہ قرار دیا ہے ہمیں امید ہے کہ یہ مندر نریندر مودی کے دور میں تعمیر ہو جائے گا،اس مقام کی جگہ مندر تعمیر کرنا بی جے پی کے منشور کا بھی حصہ ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مندر کی تعمیر کی ہر ممکن کوشش کرے گی،انتہا پسند مودی محض اس وجہ سے خاموش ہیں کہ اگر مندر کی تعمیر کا اعلان کرنے کا مطلب ۔گرین سگنل۔سے اپنے حامیوں کو تو خوش کر دیں گے لیکن ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو جائیں گے،بابری مسجد کی شہادت پر پھوٹنے والے ہنگاموں سے3ہزار سے زائد افراد جان سے گئے،صرف ممبئی میں ایک ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ جوابی حملوں میں مزید257افراد موت کے منہ میں چلے گئے،ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے،گجرات کے ہندو مسلم فسادات کی بھی بنیادی وجہ یہی تھی، اترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ کی وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے ریاست کے مسلم معاشرے میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہر جگہ ہر مقام پر خوف کا ماحول پیدا ہو چکا ہے،اس ریاست کا مسلمان خود کو تنہا اور غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے اس ریاست میں مسل آبادی20فیصد ہے،بہرحال معاشرہ کوئی بھی ہو،ریاست کوئی بھی ہو،مذہب کوئی بھی ہو انصاف ،انصاف ہی ہوتا ہے اس کے بل بوتے پر معاشرے اور قومیں ترقی کرتی ہیں اب بھارتی سپریم کورٹ کی قائم کردہ خصوصی عدالت اس تعصب زدہ ماحول میں اس کیس کو انصاف کے ترازو میں ضرور تولے گی۔

یہ بھی پڑھیں  قصور اور گردونواح میں ڈکیتی ،چوری ،راہزنی ،کی متعدد وارداتیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker