تازہ ترینکالمندیم چوہدری

۔۔۔۔۔۔تین دن کا وزیر صحت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 3 دن کا وزیر صحت بنایا گیا ۔فلم میں تو ایک دن کا وزیر اعظم دیکھا تھا لیکن پاکستان کے وزیر اعظم نے تین دن کے وزیر صحت کا بھی نوٹفکیشن جاری کیا عالمی اسمبلی میں پاکستان کی طر ف سے وزیر صحت کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اس اجلاس میں نمائندگی کریں چونکہ پاکستان کی جمہوری حکومت نے دنیا کا انوکھا کام کی تھا کہ تعلیم اور صحت کو بھی صوبوں کو منتقل کیا اور اٹھارویں ترمیم کے تحت صحت کی وزارت ختم کی ،انٹرنیشنل امدادی اداروں کے اسرار پر وہ پروگرام جو ان اداروں کی مدد سے چل رہے تھے ان کو مرکز میں رکھا گیا جو کہ اب بین الصوبائی رابط وزارت کے تحت چل رہے ہیں ،دنیا کے کسی بھی ملک میں آج تک صحت اور تعلیم کی پالیسی مرکز نے صو بوں کو منتقل نہیں کی ہے ،سینٹر رضا ربانی جو کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد کروانے کے چیمپئین بنے انھوں نے اس پر کتاب بھی لکھ دی ،لیکن آج تک وہ اس کے مسائل پر توجہ نہیں دے سکے انھوں نے ایک ضد رکھی میں کسی بھی وزارت کو مرکز میں نہیں رہنے دوں گا چایئے کچھ بھی ہو جائے لیکن اس کے باجود کئی نئی وزارتیں وجود میں آگئیں پاکستان کے اداروں کو جو نقصان پہنچا یا آنے والے وقت میں ان کو کیئے گئے غلط فیصلو ں کو قو م بھگتے گی وہ تو اپنے آپ کو فاتح بنا کر نکل جائیں گے ،اگر اداروں کے پالیسی سسٹم کو بھی صوبوں کو منتقل کرنا تھا تو بین القوامی امدادی اداروں سے بھیک مانگنے کے لیے 3 دن کا وزیر صحت کیوں بنایا گیا تھا یہ سب کچھ پہلے کیوں نہین سوچا گیا تھا کے آنے والے وقت میں جو ہمارے ادارے امداد سے چل رہے ہیں وہ ہر صوبے میں تو جا کر ڈیل کرنے سے رہے ذرائع کے مطابق کچھ دن قبل عالمی ادارہ صحت نے وزیر اعظم پاکستان کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صحت کے شعبہ کو واپس مرکز میں منتقل کیا جائے ،جتنے بھی پروگرام اس وقت بیرونی امداد سے چل رہے ہیں ان کو ایک سال ہو گیا ہے صوبوں کو منتقل ہوے آج تک صوبے اپنا پی سی ون نہیں بنا سکے ،اس کا ذمہ دار کون ہو گا ،پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان کے اندر پولیو کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے خبریں چل رہی ہیں کے ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،لیکن وہ وقت دور نہیں جب ان مریضو ں کی تعداد ہزاروں میں جا سکتی ہے کیونکہ پولیو کے پروگرام ای پی آئی کو ختم کر دیا گیا ہے ،پچھلے دہ ماہ سے اس ادارے کا بجلی کا بل جمع نہیں ہوا اور وہ وقت دور نہیں جب بجلی کٹ جائے گی اور وہاں پر پڑی پولیو ویکسین استحمال کے قابل نہیں رہے گی ،صوبوں نے پولیو کے پی سی ون ابھی تک نہیں بنائے ویکسین کو ن دے گا ،جب صحت کی وزارت موجود تھی تو اس وقت بھی بیورو کریسی کی اپنی جنگ نے اداروں کو بہت نقصان پہنچایا تھا اپنی طاقت قائم رکھنے کے لیے مرکزی سیکرٹر ی صحت خشنود لاشاری اور نرگس سیٹھی کی آپس کی جنگ نے صحت کے شعبہ کو بہت نقصان دیا اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے نرگس سیھٹی نے وزیر اعظم ہیلتھ کمپلیکس کا افتتاح کروایا تھا اور اپنے چہتے ڈاکٹر جہانزیب اورگیزئی کو اس کا سربراہ بنا دیا ،وزارتوں کی موجودہ صورتحال دیکھ کے 1947 کا پاکستان یا د آجاتا ہے کسی بھی ادارے کو نہیں پتہ کے انھوں نے اپنی فائل منظوری کے لیے کس پاس بھیجنی ہے ،ہر فائل کئی دفتر وں کے چکر لگانے کے بعد واپس اسی جگہ پہنچ جاتی ہے ،جو نئی وزارتیں بنائی گئی ہیں ان کے وزیروں کو بھی نہیں پتہ کے ان کی وزارت میں کون کون سے محکمے ہیں ،یہ ہیں اٹھارویں ترمیم کے کارنامے ،سارک ممالک کی تنظیم میں ابھی تک پاکستا کی سیٹ خالی ہے کیونکہ وہ سیٹ وزیر صحت کی ہے اور پاکستان کا کوئی بھی وزیر صحت نہیں ہے عالمی اجلا س میں بھی میر ہزار خان بجرانی کو 3 دن کا وزیر صحت بنا کر بیجھا گیا ،عالمی امدادی ادارے اپنی جگہ پریشان ہیں کے وہ دیئے گئے فنڈ کا حساب کس سے لیں ،صحت کے بھی کئی شعبے ہیں جو مختلف وزارتوں کے ماتحت ہیں ،نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز کی نئی وازرت بھی بنائی گئی ہے ،جس میں صحت کے مطعلقہ کئی ادارے دیئے گئے ہیں گزشتہ دنوں ایک مقامی ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز کی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی پھٹ پڑیں ،انھوں نے کہا کہ پاکستان کی بیورو کریسی کے بلنڈر کی انتہا دیکھیں کہ مجھے ڈی آر اے ،نرسنگ کونسل ۔پی ایم ڈی سی ۔اور صحت کے شعبے دیئے گیے ہیں ساتھ انھو ں نے مجھے انٹر ٹین کرنے کے لیے فلم سسنر بورڈ بھی دے دیا ہے تا کہ میں بور ہوں تو تفریح کا سامان بھی میسر آجائے ،ہمارے وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم اپنی وزارت کے علاوہ پی ایم ڈی سی کے نائب صدر بھی ہیں ،کیونکہ ان کا اپنا ذاتی میڈیکل کالج بھی ہے ،اس لیے ان نیں اپنی ایک ٹانگ اس میں بھی پھنسا رکھی ہے ،ذرائع کے مطابق پاکستان کے کئی میڈیکل کالجز کو پیغام بیھجا گیا ہے کے جس نے اپنے کالج میں بیس سیٹو ں کا اضافہ کرنا ہے وہ دو کروڑلے آئے اور منظو ری مل جائے گی یہ حالات ہیں ہمارے اداروں کے ،اختیارات پوری دنیا میں نچلی سطح پر منتقل کیے جاتے ہیں لیکن وہ سرف انتظامی معاملا ت منتقل کیے جاتے ہیں لیکن یہاں تو کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ،یہ مصرع ہمارے نظام پر پورا اترتا ہے ،بجائے اس کے انتظامی معاملات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جاتا ،نیشنل پالیسی کو بھی صوبوں کو منتقل کر دیا گیا ،موجودہ حالات برقرار رہے تو کوئی بھی ادارہ سلامت نہیں رہے گا ،ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت اور تعلیم کی پالیسی وفاق اپنے پا

یہ بھی پڑھیں  بھارت میں مسلمان اور ہندوسماج

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker