تازہ ترینسائنس و آئی ٹی

تھری جی سپیکٹرم ٹیکنالوجی کےلائسنس کی نیلامی،عدم مسابقت تشویش کاباعث ہے

اسلام آباد﴿بیورو رپورٹ﴾ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی نے تھری جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی میں مسابقت کے عمل کی غیر موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  نیلامی کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چوہدری محمد برجیس طاہر کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں تھری جی سپیکٹرم ٹیکنالوجی کے حوالے سے پالیسی کا جائزہ لیا گیا  مسابقتی کمیشن کے چیئرمین راحت کونین نے تھری جی لائسنس کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی تاہم کمیٹی نے لائسنس کی نیلامی کے عمل میں مسابقت کی غیر موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسابقتی کمیشن کے چیئرمین کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ فریقوں سے صلاح مشورہ کرکے لائسنس کی نیلامی کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لیں اس موقع پر سیکرٹری  انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ تھری جی سپیکٹرم کے لائسنس کی نیلامی کے حوالے سے پالیسی ابھی تشکیل کے مراحل میں ہے اس لئے پرانی پالیسی کے تحت ہی لائسنی کی نیلامی کی جائے گی اس موقع پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پرانی پالیسی  کے تحت یا زائد المعیاد طریقہ کار کے مطابق تھری جی سپیکٹرم کے لائسنس کی نیلامی کس طرح  شفاف ہوسکتی ہے  اس موقع پر ہمایوں سیف اللہ خان نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے باہمی اختلافات کی وجہ سے گزشتہ چار سال سے اس حوالے سے مشیروں کا تقرر نہیں کرسکی چیئرمین قائمہ کمیٹی برجیس طاہر نے کہا ہے کہ تھری جی سپیکٹرم کے لائسنس کی نیلامی کے لیے جاری عمل سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ معاملہ بھی ملک کے کرپشن کے بڑے سکینڈلز میں ایک ہوگا کیونکہ یہ کوئی معمول معاملہ نہیں ہے بلکہ پچاس ارب روپے ہے قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے تھری جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے انوشا رحمن کی سربراہی میں  ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ٹیلی کمیونیکشن  کے گہرے ٹریفک کی وجہ سے ملک کو اربوں روپے کے پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات کے لیے بھی قائم کمیٹی نے  ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker