تازہ ترینعلاقائی

غذائی قلت کا شکار 40 فیصد بچے ملک کے عقلی ارتقاءمیں کردار ادا نہیں کر سکتے . وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمدزکریا ذاکر

اوکاڑہ(محمد مظہررشید چودھری سے) یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمدزکریا ذاکرنے کہا ہے کہ غذائی قلت کا شکار 40 فیصد بچے ملک کے عقلی ارتقاءمیں کردار ادا نہیں کر سکتے ،ذہنی قابلیت جسمانی صحت سے منسلک ہے، غذائی قلت بچوں میں مختلف بیماریاں پیداکرتی ہے ، غذائی قلت کا شکار بچوں میں جسمانی کمزوری اور معذوری ان کی ذہنی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتی ہیں اور نتیجے کے طور پر ایسے بچے تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں، ان خیالات کا اظہارانہوں نے نیشنل نیوٹریشن سروے 2018 کی رپورٹ کے متعلق اپنی فیکلٹی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمدزکریا ذاکر نے کہا کہ جب ملک میں 40 فیصد بچے غذائی قلت اور غیر متوازن غذا کے باعث مختلف اقسام کی بیماریوں اور جسمانی مسائل کا شکار ہوں تو ہم شرح خواندگی میں اضافے اور مناسب ذہنی صحت کی توقع کیسے کر سکتے ہیں۔ وائس چانسلر، جو کہ پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ بھی ہیں، غذائی قلت اور اس کے نتیجے میںپیداہونے والے مسائل لوگوں کے مالی وسائل سے منسلک ہیں، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشرتی و مالی عدم توازن کی وجہ سے بہت سارے گھرانے اپنے بچوں کو پوری خوراک دینے سے قاصر ہیں۔ پروفیسر زکریا نے بتایا کہ جن بچوں کی جسمانی صحت درست نہیں ہوتی وہ یا تو اسکول سے ڈراپ آوٹ ہو جاتے ہیں یا پھر ان کی پرفارمنس نہایت مایوس کن ہوتی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی اور پبلک ہیلتھ کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ ان موضوعات پہ تحقیق کریں تاکہ پالیسی ساز اداروں کو مزید مدد فراہم کی جا سکے٭

یہ بھی پڑھیں  لیاقت جتوئی کا ساتھیوں سمیت مسلم لیگ ن چھوڑنے کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker