شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / ایڈیٹر کے قلم سے / کشمیر بزور شمشیر

کشمیر بزور شمشیر

editor k qalam syدنیا میں اکثر دن کسی نا کسی نام سے منسوب ہوتا ہے جیسے یکم مئی کو یوم مزدورکا نام دیا ہوا ۔اسی طرح 5فروری کادن کشمیری بھائیوں سے اظہار یک جہتی کا دن ہے ۔ ہر سال پاکستان میں5 فروری کو مختلف سیاسی پارٹیاں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے جلوس، ریلیاں ، سیمینار اور بہت سے پروگرام تشکیل دیتی ہیں۔کشمیر کی سرحد پرانسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے جس سے یہ ثابت کرایا جاتاہے کہ پاکستان کی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ تمام اخبارات میں مضامین اور سپیشل ایڈیشن شائع کیے جاتے ہیں اور ٹی وی چینلز پر کشمیر کے حوالے سے خصوصی شو اور ڈاکومینٹری پروگرا م کے ساتھ ساتھ ٹاک شو بھی ہوتے ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر منانے کا سلسلہ ابھی چند سال پہلے شروع کیا گیا۔ شروع شروع میں چند مذہبی اور سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طور پریہ دن دن مناتی تھیں مگر بعد میں اس دن کو حکومتی سطح پر مناناشروع کردیاگیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کیوں منایا جاتا ہے؟ اور گزشتہ چند سالوں میں اس دن کے حوالے سے جو سرگرمیاں ہوئیں ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے۔ اگر ہم اس دن پرہم تفصیلی غور کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں نے اس دن کو اس لیے منانا شروع کیا کیونکہ وہ کشمیریوں سے وابستگی کو بنیاد بنا کر اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سیاسی حمایت حاصل کی جائے۔ کشمیری عوام کی تاریخی جدوجہد جو کشمیر کی آزادی‘ خوشحالی اور ایک شاندار مستقبل کے لیے ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی ہے جس نے پاکستانی عوام کے دلوں میں کشمیریوں کے لیے زبردست ہمدردی، یکجہتی اورمحبت کے جذبات پیدا کیے۔اس صورتحال کومدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی سیاسی پارٹیوں نے اس دن کو مناناشروع کردیا جس کا یہ عمل آج بھی جاری و ساری ہے۔
دراصل جس وقت پاکستان اوربھارت کی تقسیم ہوئی اس وقت کشمیر پاکستان کے حصے میں شامل تھا مگر ہندواور انگریزوں کی چالاکی اور بے ایمانی سے یہ کشمیر پاکستان کی بجائے ہندوستان میں شامل کردیا گیا۔ کشمیر کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان چارجنگیں بھی لڑی گئیں مگر اس کے باوجود کشمیر کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکل سکا۔ کشمیر کی عوام پاکستان کے قیام سے لیکر آج تک پاکستان کو اپنامسیحا سمجھتی ہیں۔پاکستان کے آزادی کے دن وہ بھی یوم آزادی مناتے ہیں مگر بھارت کے یوم آزادی کو آج بھی کشمیری عوام یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں اوراسی طرح پاکستان بھی کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے۔کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کشمیرمیں کئی لاکھ کشمیری شہید ہوچکے ہیں اور اس سے زائد زخمی ہوئے۔ کشمیری عوام جانی و مالی قربانیوں کے باوجود اپنے وہ مقاصد حاصل نہ کر پائے ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں مزید جوش و جذبہ پروان اور تڑپ بڑھ رہی ہے۔ ہر عہد میں کشمیریوں نے اپنی تاریخی مزاحمت سے اپنی آزادی کی تڑپ کو عیاں کیا ہے۔ کشمیری عوام آج بھی ہندوستانی حکمران طبقے کے خلاف آواز بلند کیے ہوئے ہے۔ 1947 میں جب برصغیر کے عوام نے انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد شروع کی تو انگریز سامراج ہندوستان سے بھاگنے پر مجبورہوگیاکیونکہ انگریز سامراج کو یہ محسوس ہو گیا تھا کہ اب برصغیر میں ایک نیانظام قائم ہو کر رہے گا اور اگر ایسا ہوا تویہ ہمارے نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو گا اس لیے انگریزوں نے ہندوستان کو شعوری طور پر تقسیم کیا۔ اس وقت دنیا کے نقشے پر جودو ریاستیں معرض وجود میں آئیں۔اس دوران لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور لاکھوں لوگ ہی موت کی آغوش میں چلے گئے۔ اس تمام صورت حال سے کشمیر بھی متاثر ہوا اورآخر کار کشمیر تقسیم ہو گیا۔کشمیری عوام کی ہمدردی پاکستان کے ساتھ تھیں اور ساتھ رہیں گی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی جنگ لڑی گئی اس کی وجہ لڑائی کشمیر ہے۔پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ مانتا ہے اسی لیے پاکستانی عوام کی کشمیر سے دلی اورمذہبی وابستگی ہے۔اسی لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا
یاران جہاں کشمیر کوکہتے ہیں جنت
جنت کسی کافر کوملی ہے ناملے گی
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح دن منانے سے کیا کشمیری عوام کی نجات ممکن ہے؟ یقیناً نہیں۔ اگر ایسا ہونا ہوتا تو شاید بہت پہلے ہو چکا ہوتا۔ کشمیری عوام سے 5فروری کو یکجہتی منانے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا۔ اگر اسکی آزادی منظور ہے تو اس کے لیے عملی اقدام کرنا ہونگے۔آج کوئی شخص کسی کے ایک فٹ جگہ پر قابض ہوجائے تو وہ لوگ مرنے مرانے تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر پاکستان کشمیر کو کیسے دشمنوں کو دے سکتا ہے؟پچھلے کافی عرصہ سے کشمیر کے حل کے لیے ایک کشمیر کمیٹی بنائی ہوئی ہے اسکا کیا فائدہ؟ سوائے ملک کے خزانے پر بوجھ کے۔ اگرہمارے حکمرانوں نے تجارت کرنی ہوتو چندماہ میں ڈائیلاگ کرکے تجارت کے لیے سرحدیں کھول دی جاتی ہیں مگر کشمیر کے نام پریہ حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھیں ہیں۔کشمیر ی عوام پرجو ظلم ہندوستانی حکمران ڈھا رہے ہیں اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔ آج بھی کشمیر کے لوگ محمد بن قاسم کا انتظار کر رہے ہیں جو آئے اور ان کا آزادی دلائے۔کشمیر کا سودا کوئی بھی مسلمان قبول نہیں کرسکتا کیونکہ ہمارے بزرگوں نے جو قربانیاں کشمیر کی آزادی کے لیے دی ہیں کیا ہم ان قربانیوں کو رائیگاں جانے دیں گے؟ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان کا بچہ بچہ بھارت کو کبھی اپنا دوست قبول نہیں کرے گا۔
آج یوم یکجہتی کشمیر یا کشمیر ڈے پر پاکستانی عوام کو یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ کشمیری عوام سے یکجہتی کی بنیاد اور طریقہ کار کیا ہو گا؟ کیا یکجہتی حکمران طبقے کے نقطہ نظر پر کی جانی چاہئے یا عوام کے؟ اس پرغورکریں کہ آج حکمران طبقہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش اختیا رکر سکتا ہے۔ تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ بینک دولت بنا سکتاہے۔ مگر عوام کے لیے قدم قدم پر رکاوٹیں ہیں وہ اگر ایک شہر سے دوسرے شہر جانا چاہیں تو انہیں مطلوبہ سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ اگرعوام ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی بات کریں تو انہیں قومی‘ مذہبی‘ علاقائی اور لسانی تعصبات میں الجھا دیاجاتا ہے۔ جبکہ حکمران طبقہ تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر پوری دنیا میں عیاشی کرتا پھرتا ہے ۔ آج آزادی اور نجات کی ضرورت صرف کشمیری عوام کو نہیں پاکستانی عوام کو بھی ہے۔ کیونکہ غربت، بیروزگاری، بیماری، جہالت، دہشت گردی اوربنیادی ضروریات زندگی کی عدم دستیابی نے آج پاکستانی عوام کو قید کررکھا ہے۔
آئیے آج اس کشمیر ڈے (یوم یکجہتی کشمیر)کے موقع پر ہم عہد کریں کہ ہم اپنے مسلم حکمرانوں کو کشمیر کے آزادی کے لیے مجبور کریں گے اور کشمیر ی بھائیوں کو ان کا حق دلائیں گے خواہ اس کے لیے ہمیں اپنی جانوں کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے اور بھارت کے ساتھ اس وقت تک تعلقات نہیں بنائیں گے جب تک وہ ہمارے کشمیر بھائیوں کو انکا حق نہیں دے دیتا ۔اگر ایسا نہ ہو پھرکشمیر کی آزادی کے دن تک پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ایک ہی نعرہ رہے گا’’ کشمیر کی آزادی تک، جنگ رہے گی جنگ رہے گی۔ بھارت کی بربادی تک، جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘‘

یہ بھی پڑھیں  اعلیٰ عدلیہ خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے، چیف جسٹس

note