تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

یوم یکجہتیِ کشمیر

MUHAMMAD MAZHAR RASHEEDچار ہزار سال تک ہندوراجاؤں کی حکومت جس ریاست پر قائم رہی وہ آخر کار انگریزوں کے تسلط میں 1846کوصرف75لاکھ کے عوض ڈوگر ہ راجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دی گئی جی ہاں میں جس ریاست کا ذکر کر رہا ہوں وہ برصغیر کے شمال مغرب میں واقع ہے جس کاکل رقبہ222236 مربع کلومیٹرہے جس کے 106,567مربع کلومیٹر پر اس وقت بھارت نے زبردستی قبضہ جما رکھا ہے جس کا دارلحکومت سری نگر اور نام مقبوضہ کشمیر ہے 1947کے بعد ریاست جموں وکشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی ایک حصے کا ذکر میں اوپر بیان کر چکاہوں کہ بھارت اس پر کشمیریوں کے حقوق کو غضب کیے بیٹھا ہے دوسرا حصہ آزاد کشمیر کہلاتا ہے جس کا دارلحکومت مظفر آباد ہے اور اس کا رقبہ 78,114 مربع کلومیٹر ہے جبکہ کچھ علاقہ چین کے کنٹرول میں ہے جسکا رقبہ 37,555 مربع کلومیٹر ہے ریاست کشمیر کی کل آبادی کا 80فیصد سے زائدمسلمانوں پر مشتمل ہے26اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کی اکثریت کی مرضی کے خلاف ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دیا جس کے نتیجے میں پہلی پاک بھارت جنگ کشمیر کے مسئلے پر ہوئی یکم جنوری 1949کوسلامتی کونسل کی مداخلت پر جنگ بندی تو ہوگئی لیکن کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل میں منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ ہوا اور نہ آج تک ہو سکا قراردادوں میں ریاست میں رائے شماری کروانے کے لیے کہا گیا تھااس وقت کے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے رائے شماری کا وعدہ ضرور کیا لیکن بعد میں اس سے منحرف ہو گئے ریاست کا وہ علاقہ جو بھارت کے تسلط سے آزاد ہوا تھا وہاں پاکستان نے آزاد کشمیر کے نام سے ریاست قائم کر دی قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا لیکن افسوس کشمیر جس کو دنیا جنت نظیر کے نام سے پکارتی تھی آج بھارت کے جبری تسلط کی وجہ سے آگ وخون کی وادی بن چکا ہے 80کی دہائی کے آخر سے لے کر90کی دہائی میں کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک نے بہت زور پکڑا جس کے نتیجے میں بھارت نے اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لیے 6لاکھ سے زائد فوجی مقبوضہ کشمیر میں اُتار رکھے ہیں جنھوں نے جبر کے تمام اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے نہتے کشمیریوں پرظلم کے پہاڑ توڑ ردیے ابھی تک 90ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ہزاروں مسلمان خواتین کی عزت کو بھارتی بھیڑیوں نے پامال کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلے کو لے کر اب تک تین جنگیں لڑی جا چکی ہیں لیکن کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں ہی رہاتین جنگیں لڑنے کے بعد بھی کئی بار دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اتنی بڑھی کہ سرحدوں پر فوجیں آمنے سامنے آگئیں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے 1990سے اس دن کو ہر سال باقاعدگی سے منایا جارہا ہے اسوقت کے اپوزیشن لیڈرو وزیر اعلی پنجاب میاں محمد نواز شریف نے جماعت اسلامی کے رہنماقاضی حسین احمد کی اپیل پر اخبارات کے زریعے اس دن کوپورے پاکستان میں منانے کا اعلان کیا یہ دن منانے کا بنیادی مقصد کشمیریوں کی حق خودارادیت کی اخلاقی مدد ہے بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جب بس میں بیٹھ کر پاکستان کے دورے پر آئے اور انھوں نے مینار پاکستان کے سائے تلے پاکستان کوایک نظریاتی مملکت کی حثیت سے قبول کر لیا تو یہ امکان قوی ہوتا نظر آیا کہ اب مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھی جلد رائے دہی کا آزادانہ حق استعمال کرنے کا موقع مل جائے گا کشمیریوں پر ظلم اور جبر کی اندھیری رات جلد ڈھل جائے گی لیکن افسوس یہ موقع بھی پاکستان میں جمہوریت کے خاتمے کی وجہ سے معدوم ہو تاچلاگیا اگرچہ پاکستان میں فوجی حکومت کے دور میں بھی کشمیریوں کی اخلاقی مدد جاری رہی لیکن جو سلسلہ پاکستان میں جمہوریت کے دور میں بھر پور طریقے سے جاری تھا اسکو دوام نہ مل سکا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حق کو بھارت جتنی جلدی تسلیم کر لے یہ اس کے لیے ہی نہیں بلکہ اس خطے کے کروڑوں لوگوں کی فلاح وبہبود اور ترقی کے لیے ضروری ہے برصغیر کی تقسیم کے وقت اگر کشمیر یوں کی اکثریت کی مرضی کے مطابق الحاق کا فیصلہ کیا جاتا تو آج جموں وکشمیر کی ریاست پاکستان کا حصہ ہوتی بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری مملکت بننے کا دعویدار ہے جب تک سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل نہیں کرتا اس وقت تک جمہوری ملک کہلانے کا حق دار نہیں ہو سکتا عالمی برادری کو بھی اپنی بے حسی کو چھوڑ کر بھارت کو اس بات پر مجبور کرنا چاہیے کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ہزاروں شہید ہونے والے کشمیریوں اور مظلوم کشمیری خواتین کی قربانیاں انشااللہ ضروررنگ لائیں گی اور انکے حق کو پوری دنیا تسلیم کرے گی یہ پیغام ہر پاکستانی کا 5فروری کے دن اپنے کشمیری بہن بھائیو ں کے نام ہے۔ یاراں جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت ،جنت نا کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی*

یہ بھی پڑھیں  سونامی کا خوف ،ریڈزون بلاک،فوج تعینات

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker