بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

یوم یکجہتی کشمیر، 5 فروری اور ہماری قومی ذمہ داری

bashir ahmad mirشہید ذوالفقارعلی بھٹو نے 22ستمبر 1965 کو سلامتی کونسل میں کشمیر پالیسی پر پرُجوش اور تاریخی خطاب کیا۔ بھٹو شہید اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے۔ کشمیر پر انکے مضبوط مؤقف نے انکی مقبولیت کو انتہائی بلند کر دیا۔ اسلئے آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے وجود اور تاسیس کو مسئلہ کشمیر سے منسلک کیا جاتا ہے۔ جب 30 نومبر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی باقاعدہ علیحدہ سیاسی حیثیت سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ’’کشمیر کاز‘‘ پر بنیاد رکھی۔ پھر ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان لانا، اپنے روایتی دشمن بھارت کے مقابلے میں ڈاکٹر اے ۔کیو ۔ خان کو کہوٹہ ایٹمی ریسرچ لیبارٹری کا سربراہ مقرر کرنا یورینیم کی افزودگی حاصل کر کے ملک کو ایٹمی طاقت بنانا اوربھارت کو برابری کی سطح پر مذاکرات کیلئے مجبور کرنا ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نمایاں حیثیت اور منفرد مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔
پھر اس مشن کی تکمیل کا عزم منتخب وزیراعظم محمد نواز شریف کے حصے میں آتا ہے۔ سخت بین الاقوامی پریشر کے باوجود میاں محمد نواز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو کے مشن اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کی انتھک جدوجہد اور محنت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر کے دشمن کے منہ بند کر دئیے۔ مگر بد قسمتی سے دونوں ہی لیڈروں کو جو کہ عوام کے بھاری مینڈیٹ سے جیت کر وزراء اعظم منتخب ہوئے تھے، وطن عزیز کی اسی خدمت اورایٹمی قوت حاصل کرنے کی پاداش میں اغیار کی سازشوں نے اقتدار سے ہٹا دیا۔ یوں تو مسئلہ کشمیر پر دونوں ہی ادوار میں پیش رفت کو سبوتاژ کر دیا گیا۔ مضبوط خارجہ پالیسی کے فقدان کی وجہ سے تا حال عملی طور پر کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جبکہ دوسری طرف بھارتی افواج ، سیکورٹی فورسز اور بد نامِ زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی انسانیت سوز ظلم و بربریت کی داستانیں آج تک مختلف طریقوں سے اپنی شدت سے نئے سے نئے طریقوں اور ہتھکنڈوں سے دہرائی جا رہی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کشمیر کی آزادی جدوجہد میں روزِ اول سے لیکر آج تک کم و بیش ایک لاکھ پچیس ہزار کشمیری جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ مگر ظلم و بربریت کا بازارتا حال گرم ہے۔ اور بین الاقوامی سطح پر ترقی یافتہ اور نام نہاد امن پسند بڑی طاقتیں نا صر ف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ، بلکہ اندرون خانہ بھارت کے کشمیر دشمن گھناؤنے عزائم کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ آج اگر ردِ عمل کے طور پر ایک اسرائیلی اور دو امریکی فوجی مارے جاتے ہیں تو مسلمانوں کو دہشت گرد اور Militants بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ کشمیریوں کی قربانیاں جو کہ سوالاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہیں، تمام مہذب معاشرے نا صر ف خاموش ہیں بلکہ الٹا بھارتی عزائم کے حق میں بات کرتے نظر آتے ہیں، جو کہ پاکستان کی انتہائی کمزور خارجہ پالیسیوں کا مظہر ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھارت جن سخت ترین اور مجرمانہ خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے، ان مظالم کی سنگینی کسی صورت فلسطین اور عراق سے کم نہیں۔
اب تو ’’بیک ڈور ڈپلومیسی‘‘ بھی ’’اوپن ڈور ڈپلومیسی‘‘ کی شکل اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ ’’چناب‘‘ فارمولے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی تقسیم گو کہ تینوں اطراف پاکستان، کشمیر اور بھارت کیلئے ایک قابل قبول حل بن کر سامنے آیا تھا، مگر دونوں ممالک میں سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے ’’چناب‘‘ فارمولے پر مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔ محبوبہ مفتی جو کہ بھارت کے سابق وزیر داخلہ ، وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر کی بیٹی ہیں۔ لہٰذا اس حوالے سے محبوبہ مفتی اور انکا خاندان روزِ اول سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کا شدید مخالف رہا ہے۔ محبوبہ مفتی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ بھارتی لوک سبھا کی ممبر بھی ہیں۔ محبوبہ مفتی نے دو سال قبل 28 مارچ 2008 کو پاکستان دورے کے دوران اس وقت کے کو چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور موجودہ صدر پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کی ، جبکہ عمر عبد اﷲ بھی 2006 میں سابق صدر پرویز مشرف سے ملاقات کر چکے ہیں۔ لیکن ان افراد کی پاکستان آمد اور ملاقاتوں کا تاحال مثبت نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ اسی طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورِ اقتدار میں بھی مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اور پھر ایک وقت تو یہ آ گیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے قوی امکانات پیدا ہو گئے۔ مگر ایٹمی دھماکواں کی پاداش سازش کے ذریعے میاں محمد نواز شریف کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ اسکے بعد آمرانہ نظام سے اختلافات و تحفظات اپنی جگہ پر مگر سابق صدر پرویز مشرف نے بھی اپنے اقتدار کے عروج کے ایام میں جب آگرہ کا دورہ کیا اور نیک نیتی سے کشمیر کے حل کیلئے کاوشیں کیں، مگر انڈین قیادت کی روایتی ہٹ دھرمی آڑے آئی ۔ یوں انگلش کے ایک ڈرافٹ جس میں کشمیر کو ’’ متنازعہ ایشو ‘‘ یا ’’ کور ایشو‘‘ یا Disputed Territory یا اس سے ملتا جلتا لفظ بھی ایڈوانی جیسی متعصب ہندو قیادت کو برداشت نہ ہوا اور پھر یہ ڈرافٹ وہیں کا وہیں دھرا رہ گیا۔ اور سابق صدر پرویز مشرف پاکستان واپس لوٹ آئے۔ بھارتی قیادتوں نے پھر سے کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کے کھوکھلے نعرے بلند کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ آج جبکہ پاکستان آمرانہ دور سے نکل کر جمہوری سفر کی طرف گامزن ہیں، حکومتی اتحاد کو دوستوں ، دشمنوں کی پہچان کر کے ملک اور جمہوریت کو استحکام دے کر 5 فروری والے دن کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کشمیر اور کشمیریوں کے خلاف جاری تمام سازشوں کو ناکام بنانے کا عزم کرنا ہوگا۔
انسانی حقوق کے حوالے سے انڈیا جن سخت ترین اور مجرمانہ خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے ، ان مظالم کی سنگینی کسی صورت فلسطین اور عراق سے کم نہیں۔ ماضی کے تمام تر ناکام مذاکرات ، تلخ تجربات و حقائق کے باوجود شرم الشیخ میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور انکے ہم منصب بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی ملاقات کشمیر اور بلوچستان پر گفت و شنید ایک دفعہ پھر اندھیرے میں امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔ امریکہ میں گذشتہ برس صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصبوں اور دوسرے ممالک کے وفود سے ملاقاتوں کے درمیان کشمیر کیساتھ ساتھ پانی کے تنازعے کو بھی فوری اور جامع مذاکرات کے ذریعے زور دیا ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔ کیونکہ آنے والے مہینوں اور سالوں میں مسئلہ کشمیر کیساتھ ساتھ پاکستان پانی کے مزیدسنگین بحرانوں کا بھی شکار ہوسکتا ہے ۔ انڈیا کی طرف سے دریاؤں کے پانیوں کی بندش کی وجہ سے پاکستان کے پانی اور ڈیموں سے متعلقہ پراجیکٹس کو بھی شدید دھچکا لگنے کا امکان ہے ۔ بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ نے پاکستان کو معاشی اور صنعتی لحاظ سے کمزور تر کر دیا ہے۔ لہٰذا پانی سمیت دیگر اہم مسائل سے جڑے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اب اپنے منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا۔ حکومت وقت نے بیک ڈور ڈپلومیسی کا آغاز اور اعلان کر کے امید کی ایک اور کرن روشن کی ہے۔ لیکن جتنی دیر تک امریکہ سمیت بڑی طاقتیں خصوصاََ یورپی یونین اپنا سیاسی و سفارتی اثر و رسوخ استعمال کر کے ’’چناب فارمولے‘‘ کے تحت یا کسی اور طریقہ کار کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کو اسکے منطقی انجام تک نہیں پہنچاتے ، برصغیر پاک و ہند میں کسی صورت پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جس کے لئے تینوں اطراف یعنی پاکستان ، کشمیر اور بھارت ایک قابل قبول حل لانا ہو گا۔
وطن عزیز جمہوری لحاظ سے مستحکم ہو گا تو کشمیر اور کشمیریوں کی کاز کیلئے بھٹو شہید اور بینظیر شہید کے وژن کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ جسکے لئے وزیراعظم سید یوسف رٖضا گیلانی جو کہ ا زخود بھی کشمیر کاز کیلئے انتہائی مخلص نظر آتے ہیں، اور انہوں نے دوران اسیری ’’چاہِ یوسف سے صدا‘‘ نامی کتاب میں کشمیر کاز کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ جبکہ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بھی متعدد بار اظہار گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا تاریخی وجود ہی کشمیر کاز کی وجہ سے عمل میں لایا گیا۔
میرے نقطہ نظر کے مطابق حکومت وقت کو اتفاق رائے سے اپوزیشن کے ساتھ ملکر قومی اور بین الاقوای سطح پر ایک انتہائی مضبوط حکمت عملی اپنانا ہو گی ۔ اسی طرح 5 فروری کو ’’کشمیر ڈے ‘‘ اور کشمیر ی بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کا صحیح حق ادا کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  کراچی کنگز نے دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کو 44 رنز سے شکست دے دی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker