شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / یومِ دفاعِ پاکستان کا مقصد

یومِ دفاعِ پاکستان کا مقصد

پاکستان جو کہ ہمارے بزرگوں نے ہمارے اکابرین نے اس وقت کے نوجوان نسل نے جن میں عورتیں بھی شامل تھیں بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا ۔کئی ماوں کی گودیں اجڑیں کئی بہنوں کے سہاگ اجڑے۔کئی بوڑھے والدین کے سہارے ختم ہو گئے۔خون بہا عصمتیں لٹیں گھرو بے گھر ہوئے بے یارو بے مددگار مگر ایک جذبہ ایسا کہ جس نے سارا کچھ ہی بھلا دیا وہ پاکستان بننے کا تھا ۔جب پاکستان بن گیا تو سارے زخم ہی مدمل ہو گے۔
آخر کار ازلی دشمن نے 1965 میں پاکستان پر حملہ کر دیا پاکستانی فوج کے جوانوں اور عام عوام نے وطن عزیز کو بچانے کا پختہ عزم کر لیا ۔دفاع کے لیے ہر کسی نے اپنی خدمات اپنی بساط کے مطابق سر انجام دیں ۔6 ستمبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل دن ہے ۔دفاع کرتے کرتے کئی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا ۔اپنے لہو سے اس کھیتی کو سیراب کیا ۔اور دشمن کو ناکو چنے چبوا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔اپنا خون دے کر اس ملک کو بچایا ۔6 ستمبر کو لاہور جیسے بڑے شہر کو بچاتے ہوئے میجر عزیز بھٹی جیسے پاک فوج کے افسر وں نے جام شہادت نوش کیا ۔اسی لیے 6 ستمبر کا دن دفاع پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔صرف یاد کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔اس دن کو منانے کا مقصد نوجوان نسل میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنا ہے ۔تا کہ اگر پھر کبھی کوئی میلی آنکھ پاک وطن کی طرف اٹھے تو اس کو نکال دیا جائے اس اُس جسم سے ہی الگ کر دیا جائے ۔پاکستان کے دفاع کے لیے نسل نو کو تیار کرنا پاکستان کی ترقی کے لیے اقدامات کرنا ۔وہ اقدامات خواہ تعلیمی ہوں یا اور کئی طرح کے ۔جن اسلام اور ملکی سلامتی کے لیے جذبہ جہاد اور جہادی تیاری بھی ضروری ہے ۔نسلِ نو میں سے ہر کسی کو اپنی حیثیت اپنی طاقت اپنی ذہنیت اور تعلیم کے لحاظ سے ہر اندرونی بیرونی لاحق خطرات سے بچانا ہو گا ۔ہر سازش جو پاک وطن کے خلاف کی جائے اس کو ختم کرنا ہو گا ۔ہر اس حملے کو خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی جو ملک کے لیے نقصان دہ ہو ایسے حملوں کو روکنا ہو گا ۔میری ناقص رائے میں یہ مقاصد ہیں اس دن کو منانے کے۔ اس کے علاوہ 6 ستمبر کو دی گی قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ان شہداء کے لیے دعا خیر کرنا جنہوں نے پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر دی ۔ان کی سچی اور سچی داستانوں کو یاد کر کے آج کے جوانوں میں جذبہ پیدا کرنے کے لیے سنانا۔
مگر افسوس کہ آج کل لوگ صرف ایسے تہوار فقط تفریح کے لیے مناتے ہیں ۔نہ کہ سبق حاصل کرنے کے لیے ۔پاکستان کے تاریخی ایام جتنے بھی ہیں جوانوں کو دیکھا کہ ہاتھوں میں جھنڈے پاکستان کے پکڑے ہوئے کپڑوں پر اپنی جیبوں پر اسٹیکر پاکستان کے لگائے ہوئے ہیں ۔ اور اپنے موبائل پر یا کیبل پر ڈیک یا ٹیپ ریکارڈر پر گانے انڈیا کے سن رہا ہے ۔لباس اور چہرے کی بناوٹ مغربی بنا رکھی ہے تہذیب و تمدن میں عکس مغربی میوزک انڈین ہاتھ میں جھنڈا پاکستانی واہ کیا بات ہے آج کے اس جوان کی ۔
اور ہمارے حکمران ،،،سبحان اللہ،،،جنہوں نے حال ہی میں کسی نے ایف ائے کسی نے بی ائے کسی نے ماسٹر کیا ،،، یا لیا ، ، لیا سے میری مراد ڈگری کی بھی جاتی ہے اور زیادہ تر لی بھی جاتی ہے وہ شاید پوری تاریخ سے بھی اگاہ نہ ہوں ۔اور ڈگری لینے والے تو تاریخ پاکستان سے شاید نا آشنا ہی ہوں ۔ویسے تو چھوٹی کلاسوں میں ہی میجر عزیز بھٹی شہید سوار محمد حسین شہید راشد منہاس شہید میجر محمد طفیل شہید اور دیگر شہداء کے تھوڑے تھوڑے کارنامے تو پڑھے ہی جاتے ہیں ۔دفاع پاکستان کس دن تو یہ بھی مناتے ہیں یعنی ہمارے حکمران یہ بھی غنیمت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  مسلماں پہ مسلما ں کا قتل حرام ہے