تازہ ترینکالم

اے محبت ۔۔۔یہ کیا بکواس ہے!

بسا اوقات توخیالات کے نزول کی کثرت، لکھاری کے اپنے وجود کو خطرے سے دو چار کر دیتی ہے اور لکھاری قطار در قطارمختلف جہانوں سے اترتے والے خیالات کی گرد میں اس طرح گم ہوجاتاہے ،پھر یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے کالم بغیر لکھنے والے کے لکھار جارہا ہو یا آپ اس بات کو اس منظر سے بھی تشبہہ دے کر یوں بھی بیان کرسکتے ہیں کہ کہیں ایک بھیڑ بکریوں کا کچے رستے سے گزر رہا ہواور اس کا چرواہا اس ریوڑکے پیچھے اڑنے والی دھول میں کہیں نظرنہ آرہا ہو او ر ایسا محسو س ہو کہ جیسے یہ ریوڑبغیر کسی چرواہے کہ اپنی منز ل کی طرف بڑھ رہا ہے ،مگر بعض اوقات ایک لکھنے والے سے کچھ لکھا ہی نہیں جاتا ،کوئی موضوع ہی نہیں ملتا، خیالات کی قلت و قحط سی پڑ جاتی ہے ،خیالات کے حوالے سے تھر کی خشک سالی کے سے جیسا منظر نظروں کے سامنے نحوست پھیلانے لگتا ہے خصوصا یہ گھٹیا منظر ایک نئے لکھنے والے کو کچھ زیادہ ہی تنگی دیتا ہے۔ جہاں تک میری اپنی قلم کا تعلق ہے تو الحمد اللہ میری قلم ایسی قلت میں بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑتی بلکہ بھاگ بھاگ کہ میری اندر کی دنیا کو باہر لانے میں میری مدد کرتی ہے اسی لئے تو میں اپنا کو ئی جملہ ضائع نہیں جانے دیتا اور ایک ایک حرف کو امانت سمجھتا ہوں۔یہ خیالات کو بوچھاڑ صرف اسی صورت میرے من کو چھنی کرتی ہے جب میں اپنے دوست سعدی کی سایہ دار صحبت میں جا کر اس کی زندگی کے دلچسپ واقعات سنتا ہوں اور محظوظ ہوتا ہوں ، آج بھی میں سعدی کے ساتھ بیٹھا ہوں دراصل آج کے واقعات جو ،وہ مجھے سنا رہا ہے ان کے سنتے ہوئے میں خودکو نہ صرف سعدی کے ساتھ بیٹھا محسوس کر رہا بلکہ اس کو بار بار مختلف نوعیت کی محبتوں کے ہاتھوں گرفتا ر ہوتے بھی دیکھ رہا ہوں ،میں دیکھ رہا ہوں کہ سعدی کو ایک لڑکی دھوکا دی رہی ہے وہ اسے اپنی محبت کے جال میں پھنسارہی ہے اور پھر اس کا دل توڑ رہی ہے اور اسے گہرازخم بھی دی رہی ہے۔پھر میں دیکھ رہا ہوں کہ سعدی کو ایک دوسری لڑکی سے پیار ہو جاتا ہے جو اسے گردن کے بل اٹھا کے ایسا پھنکتی ہے کہ اس کی ساری محبت پل بھر میں نکل کر باہر آجاتی ہے اور پھر میں ایک حتمی حملے کا منظر جو حقیقت پر مبنی ہے ،سماعت کر رہا ہوں اوراس کا صدا کا ر میرا دوست سعدی ہے ،جو اپنی شکت و ریخت کے قصے بیان کر رہا ہے اور مجھ بھرپور ہمددریاں سمیٹ رہا ہے ۔سعدی اپنی اس تیسری اور آخری محبت میں تو شادی کے محاذ تک پہنچ جاتا ہے جس میں ایسے ناکامی ہوتی ہے۔
جب پانامہ کیس میں ہمارے محترم جج صاحبان نے 2/3کی نسبت سے فیصلہ دیا تواس فیصلے پر میرے دوست سعدی نے بڑا دلچسپ ردعمل شو کیا، میرے استفسار پر مجھے میرے دوست نے ایک حیرت انگیز کہانی سنا ئی جو چند روز قبل اس کے ساتھ پیش آئی تھی ،وہ کہنے لگا کہ کچھ ہفتے پہلے میرا ایک ایسی تقر یب میں جانا ہواجہاں یہ 2/3کو نسبت مجھے پہلے بھی دیکھنے کو ملی اور آج پھر پانامہ کیس کے حوالے سے مجھے سمیت پوری قوم کو اس 2/3کی نسبت سے واسطہ پڑرہا ہے ، میں کافی حیران ہو اکہ اس پانامے کیس والی 2/3 کی نسبت کا سعدی کی 2/3کی نسبت کے ساتھ کیا تعلق ہے پھر میرے دوست کو چند دنوں قبل ایسے واقعہ کا کہاں اور کیسے دیکھنے کا اتفاق ہوگا،البتہ سعدی مجھے خود ہی بتانے لگا کہ یہ2/3کی نسبت ہرباراتنے رولے رپے کیوں ڈال دیتی ہے؟ قصہ کچھ یوں ہوا کہ سعدی نے چند روز پہلے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کی تھی، جہاں اسے اپنی زندگی کی وہ تینوں محبتیں اکٹھی ایک ساتھ اپنے اردگرد موجود ملی جنہوں نے اس کی زندگی میں کافی بربادی اور تباہی برپا کی تھی۔اس تقریب میں ان تینوں عورتوں کے مقابلے میں سعدی اور اس کی ہونہار بیوی بھی موجود تھی ،محبت کی اس راہ پر یہ 2/3 کی نسبت ایک دلچسپ واقعہ بن کر سامنے آئی ۔بادی النظر میں یہ سین کسی فلمی صورتحالسے کم نہیں تھا،مگرحقیقت میںیہ خطرناک المیوں کی داستان تھی۔جو بار بار سعدی کی زندگی کے گرد تکلیفوں کی دھول اڑاتی رہی اور سعدی جیتے جی بے نام و نشان ہوتا رہا۔
آج یہ جو سعدی کے سامنے اس کی تین محبتیں کھڑی تھیں، آج اس کے لئے ان کی کیا حیثیت باقی بچی تھی۔جو زندگی میں وقفے وقفے سے اس سعدی کا اتنا کچھ برباد کر چکی تھیں کہ باقی سعدی ہی بچا تھا ۔اس راہ میں سعدی نے اپنی زندگی میں وہ چوٹیں سہی تھیں کہ جن چوٹوں کی تاب نہ سکے کے زمرے میں انسان کی جان چلی جائے تو چلی جائے اور کسی کو کوئی پرواہ بھی نہ ہو۔ان تین مختلف قصوں میں سعدی نے اپنا توازن کھویا،عزت کو داؤ پر لگایا ۔کبھی کبھی تو تکلیف کو اتنا بڑھا ہوا پایا کہ جیسے کلیجا منہ کو آ رہاہو،سماجی رتبہ کھویا،اس کا خاندانی وقار مٹی ہوا۔ سعدی کی نظروں کے سامنے، وقت کی ریل نے ایسا پلٹا کھایا کہ ایک ایک واقعہ اجھل کر اس کا منہ چڑھانے لگا۔اپنی ذات کوکسی کے لئے مٹی کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی ۔جو سعدی باربار کرتا رہا تھا۔ایک وقت میں اگر ایک چیز بہت قیمتی ہوتو یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر وقت میں اتنی ہی اہم رہے ۔سعدی نے اپنی زندگی میں جن چیزوں کی قدر اپنی زندگی سے بھی بڑھ کر جانی،آج ان کی اوقات کو وہ اپنے جوتے کی نوک پر رکھ رہا تھا ،اس نے ان نخوستوں کی طرف پل اٹھا کر دیکھنا بھی گورا نہ کیا تھا ۔اسے خود پر شرم آرہی تھی وہ خود کو لعن تعن کر رہا تھا۔اس بات پہ کہ یہ ہیں وہ چیز یں جن کے لئے تو نے اپنا بوریا بستر تک گول کرلیا تھا مگرزندگی ہربار تجھے موقع دیتی رہی۔آج میں سعدی کو زندگی کا شکریہ ادا کرتے دیکھ رہا تھا۔میں نے سعدی کو محبت سے مخاطب ہو کراسے یہ کہتے ہوئے بھی سناکہ اے محبت ۔۔۔یہ کیا بکواس ہے۔
سعدی میرا دوست ہے، مجھے معلوم ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہاتھا، وہ یہ سوچ رہا تھاکہ یہ بے وقعت سی چیزہوکے بھی اتنی نامراد ہے کہ نجانے یہ کتنے ہیرے جیسے سپوتوں کی جان لے لیتی ہے، کتنوں کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیتی ہے، یہ بدبودار چیز تو بعض اوقات انسان کو سانس تک نہیں لینے دیتی ، سعدی اس بدبودار چیز کا ذریعہ بننے والی بدبحتیوں پر بھی لعنت بھیج رہا تھا، کیونکہ اس نے تو سینکڑوں نوجوانوں کو اس مصیبت کے ہاتھوں پھانسی کے پھندے پر لٹکتے دیکھا تھا،اپنی زندگیوں کو ختم کرتے پایا تھا، اس طرز کے تیسرے درجے کی حوس کو جیسے آج کے نوجوان محبت کا نام دیتے ہیں،کا باعث بننے تھرڈ کلاس نخوستوں کو اپنی کرتوں پر نظر ڈالنی چاہیے کہ وہ اپنے قد م روک کے رکھیں۔مجھے اپنے دوست سعدی پر بے حد ترس آرہا تھا،میں نے یہ کہتے ہوئے اپنے دوست سے اجازت چاہی کہ لعنت ہو اسی تھرڈ کلاس محبت پر اور اس بے غیرتی کا باعث بنے والے ذریعوں پر،جن سے میں خود بھی ڈستا جاتارہاہو،جاتے جاتے میں خود سے تحاطب ہوا اور اپنے گنہگار ہاتھ اٹھا کر دعا کی ،اے میرے مالک۔۔۔ میرے نوجوانوں کو اس لعنت سے اپنی حفاظت میں رکھ۔امین

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker