ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

اے وطن ،اے مری کا ئنا ت سخن

یہ تیر ی روح تیر ے جسم سے عبا رت ہے        و طن چمکتے ہو ئے کنکر و ں کا نا م نہیں
14اگست پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے جب بانی ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح(رح) کی قیادت میں اسلامیان برصغیر نے تاریخی جدوجہد کے ذریعے دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے ایک نظر یاتی اور فکری ریاست قائم کی ۔ جسکی اساس لاالہ الااللہ تھی اور نظا م نفا ذ شریعت محمدیö اس کی رو ح قرار پا ئی تھی ۔ گذشتہ 65 سال سے قائم پاکستان میں کئی مدوجذر آئے کئی حادثات رونما ہوئے۔ آدھا ٹکڑا کٹ گیا دشمنوں نے اس نام کو مٹانے کے لئے کتنے جتن کیے اور آج بھی دنیا میں پاکستان کی جتنی مخالفت ہے کسی دوسرے ملک کی نہیں۔ اس کی وجہ ایک اسکی جغرافیائی اہمیت ہے اور دوسرا اس قوم کا جنون۔ جو ایک جانب بقول شخصی قرضوں پر پل رہی ہے اور دوسری جانب ایٹمی قوت بھی ہے ۔ یہ اس قوم کا عزم تھا کہ قرضوں پر پلنے کا طعنہ سننے کے باوجود دنیا میں ایٹمی قوت کے طور پر سامنے آئی اور جو کچھ ،بھی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ تمام تر مخالفتوں، دشمنیوں ، پابندیوں اور نقصان پہنچانے کی کوششوں کے باوجود آج بھی الحمدُاللہ سر سبز ہلالی پرچم پوری آب وتاب کے ساتھ پھڑپھڑا تا ہوا نظر آ رہاہے ۔ جو ہماری عظمت کا نشان ہے۔ ہمارا غرور ہے، ہماری پہچان ہے، یہ سبزہلالی پرچم انشائ اللہ تعالیٰ تا قیامت اسی طرح پھڑپھڑاتااور لہر اتا رہے گا۔ اس کے دشمن اور بدخواہ اپنی تمام تر بدنیتوں کے باوجود اسی قوم کے محتاج رہیں گے اور یہ قوم ایک دن ترقی کے اعلیٰ مقام پر نظر آئے گی۔ آج اگر ہم ترقی نہیں کر سکے ہیں تو اس میں زیادہ قصور ان بین الاقوامی سازشوں کا ہے۔ جو پاکستانی قوم کی صلاحیتوں سے خوفزدہ ہیں ۔ جو پاکستان کوزیردست رکھ کر اس قوم کو اس لئے ابھرنے نہیں دیتے کہ جو قوم گھاس کھا کر ایٹمی دھماکہ کرسکتی ہے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے اور جو کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو دنیا کا اس سے خوفزدہ ہونا لازمی امر ہے۔ پاکستان پر لوگ ہرقسم کے الزامات عائد کرتے ہیں ۔ یہاں کرپشن ہے، لاقانونیت ہے، عدم استحکام ہے، جمہوریت نہیںہے ، یہ سب کچھ ایک طرف۔ مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ پاکستانی قوم کمزور ہے، پاکستانی قوم کے حوصلے کمزور ہیں اور پاکستان کسی کے لئے آسان شکار ہو سکتاہے۔ پاکستانی قوم آپس میں گتھم گتھا بھی ہو۔ تب بھی دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔کوئی بری آنکھ سے اس طرف دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا۔ پاکستان کی بہادر افواج اور خفیہ ادارے اس وطن کی سا لمیت پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کے جذبے سے معمور ہیں اورپوری قوم اپنی افواج کی پشت پر ہے۔ ہم گلے بھی کرتے ہیں اور شکوے بھی،تنقید بھی کرتے ہیں اور جھاڑتے بھی ہیں، مگر یہ سب بغض معاویہ میں نہیں ہے بلکہ اس ملک اور قوم سے محبت کے جذبے سے کرتے ہیں۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں ہمارا سب کچھ اس ملک اس سرزمین اور اس مٹی سے وابستہ ہے ۔ ہم اپنی مٹی سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جس مقصد کے لئے ہمارے آبا ؤاجدادنے قربانیاں دیں اور یہ ملک معرض وجود میں آیا وہ مقاصد حاصل ہوں۔ ہم مایوس یا ناامید نہیں ہیں۔ ہمیں قوی امید ہے کہ انشائ اللہ ہمارے آباؤاجداد کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور قائداعظم کے خوابوں کی تعبیر پوری ہوگی۔ ہم دعا گو ہیں کہ رب ذوالجلال اس سر سبز ہلالی پرچم کودنیامیں سب سے زیادہ بلند مقام سے نوازے۔’’آمین‘‘
مو جو دہ دور میں جو خرا فا ت اور بد امنیا ں پید ا ہو رہی ہیں ان کے ذ مہ دار بد یا نت اور بد بخت حکمر ان اور ان کے کا لے کر تو ت ہیں ۔آ ج چند کا لی بھیڑ یں جو اکھنڈ بھا رت اور امر یکہ نو ا ز لا بی کے لیے کام کر رہی ہیں نا م نہا د اور خو د سا ختہ شریعت کے ٹھیکے دار بن کر اس ملک کی جڑ یں کھو کھلی کر رہی ہیں اصل میں ہو س زر میں ڈو بے ہو ئے یہ مٹھی بھر نام نہا د مسلما ن منفی پر و پیگنڈ ہ سے اس عظیم مملکت خدا دپا کستان کو مٹا نا چا ہتے ہیں ۔جب تک ہما ر ے ملک کی جا نبا ز فورسز انٹر سروسز اینٹیلی جنس اور سپشل سر وسز گر وپ کے جوان ز ند ہ اور قا ئم ہیں جن کی بد و لت ہما ری قو م اللہ رب ا لعزت کے بعد آ زاد ی کا سا نس لے ر ہی ہے کو ئی بھی ملک د شمن عنا صر اپنے بر ے عزا ئم میں کا میا ب نہیں ہو سکتے۔یہ مملکت خدا اور اس کی حبیب ö کی عطا کرد ہ ر حمتو ں اور نعمتو ں کا منہ بو لتا ثبوت ہے ۔لا کھ ر کا و ٹو ں اور د شمنان اسلام کے با وجود یہ ملک قا ئم و دا ئم ہے اور تا قیا مت ر ہے گا ۔پا کستا نی قوم کو ا چھے بر ے کی پہچا ن خود کر نا ہو گی د ہشتگر د وں سے اس ملک کو پا ک کر نے کے لیے ہمیں اپنی اپنی استطا عت کے مطا بق میدا ن عمل میں اتر نا ہو گا ۔آ ج چند کالی بھیڑ یں جو بھیس بدل کر اس ملک کی جڑ یں کھو کھلی کر نے کہ پہ در پہ ہیں ان کو اس بات کا اندا زہ نہیں جس ملک کی نسل نو امت محمدی کے خمیر سے وا بستہ ہے جس کے رگ و پے میں علا مہ اقبال اور قا ئد اعظم کے افکا ر مضمر ہیں اس قو م کو بھلا کو ئی لاکھ منصو بہ بندیوں اور اپنی بد نیتیو ں سے بھی تباہ و بر باد نہیں کر سکتا کبھی 2012 ئ کے نقشے سے اس پاک سر زمین کا نام ہٹا دیا جا رہاہے تو کبھی آ ئے دنو ں اس امت کے رہبرو راہنما سرور کا ئنا ت حضرت محمد ö کی شا ن میں گستا خیا ں کی جا رہی ہیں تو کبھی کتاب مبین کو جلا نے کی جسارت کی جا رہی ہے ۔ پھر بھی لاکھ ضر بوں اور حر بو ں کے با و جو د غیرت مسلم بیداری کا نام نہیں لے رہی ہے نہ جا نے اس گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے اس میں بسنے وا لے حکمران مر دہ گھو ڑوں کا کردار ادا کر رہے ہیں اس میں بسنے وا لی عوام ہر ستم ایک بے ایمان مشرک کی طر ح سہنے پر مجبور و مظلوم دکھا ئی دیتی ہے عجیب نفسا نفسی کا عالم وجود پکڑتا جا رہا ہے ۔ہمیں للکا رنے وا لے کئی محا ذو ں سے سر کو بیا ں کر تے دکھا ئی دے رہے ہیں لیکن آ ج بھی ہم قدیم دور کی مخلوق دکھائی دیتے ہیں نہ کوئی علم کی طرف توجہ ہے تو نہ ٹیکنا لوجی نہ کوئی امن کا دا عی ہے تو نہ کوئی راہنما آ ج ضرورت ہے قوم و ملت کو اس محمد بن قا سم کی جس نے صرف 17 سال کی عمر میں سند ھ فتح کیا اس وطن عزیز کو طا رق بن ز یاد ، حیدر علی اور ٹیپو سلطان کے افکار کی ضرورت ہے الجھنو ں اور خرا فات میں ڈوبی یہ نسل نو جو اپنا کچھ نہیں سنوار سکتی جو اپنے مو بائل فون کے استعمال سے فر اغت حا صل نہیں کر سکتی جن کے خوا ب و خیا لو ں میں ابھی سے جنت کی حو ریں آ باد ہیں وہ قوم کے معما ر کیسے بن پا ئیں گے کیسے چمن میں ہو گا دیدہ ور پیدا اس کے لیے تفکر کی ضرورت ہے اور ضرو رت اس امر کی ہے کہ جو ملک لا کھو ں جا نیں دے کر ہما رے آ باو اجداد کی قبرو ں پر آ بادہوا اس کا یہ روشن اور تا ریخی دن ہمیں کیا یاد دلاتا ہے کیا محض جھنڈ یاں اور گلی محلے سجا کر اور پا کستا ن زندہ باد کے نعر ے لگا دینے سے اس 14 اگست کا حق ادا ہو جاتا ہے کیا قا ئد کے ارمانو ں کو جلا بخش دی جاتی ہے کیا اقبال کے خوا بو ں کو تعبیر نو حا صل ہو جاتی ہے کیا شہیدوں کے لہو سے وفا کا دعویٰ درست ثا بت ہو جاتا ہے ہم اپنے اصل مقصد کو بھلا بیٹھے ہیں اپنے شا ئر سے ہٹ کر ہم نے مغرب کے اقدار اور روایات کو اپنے اوپر حاو ی کر لیا ہے ہمارا نہ تو قبلہ درست ہے اور نہ ہی سمت شتر بے مہار کی طر ح اپنے ذا تی مفا دات روٹی کپڑا اور مکان نے ہمیں ہوس زر کا پجاری بنا دیا ہے اس دن سے وفا اور اس کی یاد ہم سے اس بات کا تقا ضا کرتی ہے کہ بتا ئو تم نے اس ملک کے لیے اپنے اپنے دائر ہ کار اور ذمہ داریو ں میں رہتے ہوئے کیا کیا ؟اور کس حد تک ملک و ملت کے لیے خیر خوا ہ ثابت ہوئے اس وطن کی تر قی اور اس کے تحفظ و بقائ میںہر ایک کا کتنا حصہ شامل ہے جب تک انفرا دی سطح پر ہر شخص اپنی اپنی اہلیت اور بساط کے مطا بق پو رے انصاف اور د یا نت داری سے اپنی ذمہ داری نہیں نبھا ئے گا اور اس کار خیر میں حصہ دار نہیں بنے گا تو اس وقت تک نہ تو آسمان سے کوئی ر حمت کے فر شتے اتر یں گے اور نہ ہی ہما رے حب ا لوطنی اور ایمان کے تقا ضے پو رے ہو ں گے ۔خدا نے یہ جنت اور آ زادی ہمیں عطا تو کر دی لیکن اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے کتنا بچا کر برقرا ر رکھتے ہیں یا اسے دشمن کے رحم و کرم پر چھو ڑ دیتے ہیں اس وطن عزیز کے تحفظ اور بقا ئ میں ہی سا رے کا میا بی و ترقی کے راز چھپے ہیں اور اسی میں ہما ری جان ،جنت ،فلاح اور آ خرت کی دائمی ز ندگی مخفی ہے ۔
اے وطن ، اے مری کا ئنا ت سخن تو نہ ہو تا تو کیا میری پہچان تھی
کو نسی میری عزت تھی کیا آن تھی بن تیرے کب جہا ں میں مری شان تھی

یہ بھی پڑھیں  قانون کے محافظ... شراب کے سپلائر نکلے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker