تازہ ترینکالممسز جمشد خاکوانی

اب ہر ایک کو اپنی حد مقرر کرنی ہو گی

ہمارے محلے میں حسینا نام کا آدمی رہتا تھا ۔(یہ بھٹو دور کی بات ہے )نام تو اس کا کچھ اور ہی ہوگا لیکن گاؤں محلوں میں نام بگاڑنا بڑی عام سی روایت ہے ۔بحر حال وہ بندہ بھی سیاسی بنیادوں پر کسی کی سفارش سے واپڈا میں لائن مین بھرتی ہو گیا ۔اتنا پڑھا لکھا نہیں تھا ویسے بڑا چلتا پرزہ قسم کا بندہ تھا ۔سیاست کا کاروبار ہی ایسے لوگوں سے چلتا ہے ہمیں اس وقت اتنی سمجھ تو نہیں تھی کہ ایسی باریکیاں سمجھ میں آتیں ۔لیکن اس کی بیوی جو لوگوں کے کپڑے سی کر گذارا کرتی تھی اچانک کسی ملکہ کی سی اہمیت اختیار کر گئی ۔
’’ نی راضیاں ‘‘ اب رضیہ بی بی کہلاتی باجی رضیہ خالہ رضیہ ۔حسینے کا دروازہ سارا دن بجتا رہتا۔کہ لوگوں کہ بجلی کے میٹرلگوانے تھے۔محلے کے معززین اس کے آگے پیچھے پھرتے (بجلی کی اس وقت بھی اتنی ہی اہمیت تھی ) جس کے گھر میں کھانا بھی اُپلوں اور چُنی ہوئی لکڑیوں پہ بنتا تھا اب وہاں چوبیس گھنٹے بجلی کا ہیٹر جلتا کیونکہ اس کو بجلی مفت تھی ۔یہ تو بعد میں سمجھدار ہونے پر پتہ چلا کہ اس نے اپنے مفت کے میٹر سے محلے والوں کو تاریں دے کر اپنا احسان مند کیا ہوا تھا جن سے وہ منتھلیاں بھی وصول کرتا اور احسان بھی جتلاتا کہ میری وجہ سے تمھارے گھر روشن ہیں ۔اس وقت شائد لوگوں میں یہ شعور نہ تھا یہ تو جرم ہے اور اس کا نقصان قومی خزانے کو پہنچتا ہے ۔لیکن اب باشعور ہونے کے بعد کون سا یہ کام رک گیا ہے ۔بلکہ اب تو بڑے بڑے معززین اور ادارے یہ کام ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں اور حکومتوں سے مل کر کرتے ہیں ۔دو نمبر کام اور ٹیکس چوری ہماری زریں روایات میں شامل ہے ۔
اس لیئے اب ہمارے سارے قومی ادارے آخری ہچکیاں لے رہے ہیں (سنا ہے جیو چینل نے بھی میاں صاحب کو انتخابی دھاندلی کا پول کھولنے کی دھمکی دے کر اپنا ’’ایک ارب اسی کروڑ ‘‘ کا ٹیکس معاف کرا لیا ہے جس کا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سٹے دے رکھا تھا )بحر حال اس ساری تمہید کا مقصد آج کے اخبار میں چھپنے والا ایک کالم اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے طالب علموں کی شکایت کے حوالے سے اخبار میں چھپنے والی ایک رپورٹ ہے ۔
اسلامیہ یونیورسٹی کے طالب علموں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی بنا پر میڈیا کو بتایا کہ یونیورسٹی میں موجود سیکورٹی گارڈز نے طالب علموں کو پریشان کرنا اپنا معمول بنایا ہو اہے۔وہ جب یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں تو سیکورٹی چیکنگ کی آڑ میں گھنٹوں انہیں روکے رکھا جاتا ہے احتجاج کیا جائے تو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔طالب علموں کو شکایت ہے کہ انکی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے ۔یونیورسٹی پارکنگ ایریا سٹیکر مہیا کرتی ہے تا کہ طالب علموں کو موٹر سائیکل ،گاڑی وغیرہ پارکنگ کرنے میں دشواری نہ ہو ۔لیکن تمام تر دستاویزات مہیا کرنے کے باوجود پارکنگ سٹیکر نہیں مہیا کیئے جا رہے کبھی سیکورٹی افسر کے نہ آنے کا بہانہ کیا جاتا ہے تو کبھی یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے یونیورسٹی میں انکی اپنی اجاراداری ہے وہ جسے چاہیں سٹیکر جاری کریں جسے چاہیں نہ کریں ۔طالب علموں نے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد مختار سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیکورٹی گارڈوں کے خلاف کاروائی کریں۔اس کے ساتھ ساتھ پارکنگ ڈیپارٹمنٹ کے نزدیک بنایا جائے کیونکہ ایک ڈیپارٹمنٹ دوسرے ڈیپارٹمنٹ سے کافی فاصلے پر ہے اور انہیں کئی کئی میل پیدل سفر کرنا پڑتا ہے ۔
اب اگر دیکھا جائے تو بات کچھ بھی نہیں یونیورسٹی انتظامیہ نے اگر سیکورٹی گارڈز رکھے ہیں تو اس لیئے نا کہ طالب علموں اور ادارے کو سیف رکھا جا سکے ۔اس کے لیئے انہیں گارڈز کو کچھ اختیارات بھی دینے پڑے ہونگے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ گارڈز ان اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں ،یا طالب علم ’’پر کا کوا‘‘ بنا رہے ہیں۔علم حاصل کرنے کے لیئے تکالیف تو برداشت کرنی پڑتی ہیں ،بلکہ علم حاصل کرنے کے لیے صعوبتیں برداشت کرنے کو جہاد کے برابر درجہ دیا گیا ہے ۔ہاں اس میں جو قابل ذکر فقرہ ہے وہ یہ کہ طالب علموں کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے ۔اور یہی وہ بات ہے جس کو ہر انسان اپنے آپ کو اس جگہ پر رکھ کے سوچے تو کبھی کسی سے نا انصافی نہ ہو کہ اگر میں اس جگہ پہ ہوتا تو کیا کرتا ۔آپ دنیا کا کوئی بھی کام کریں اس میں محنت اور تکلیف لازمی ہوتی ہے دوسرے سے چھین کے کھانے والا ڈاکو بھی اپنی زندگی داؤ پر تو لگاتا ہی ہے ۔لیکن نہ وہ رزق اس کے لیئے احسن ہوتا ہے نہ جرم کی نوعیت کم ہوتی ہے ۔
کیونکہ اس کی نیت ہی بد ہوتی ہے ۔وہ بہتر راستہ اختیار کرنے کی بجائے دوسرے کی کمائی میں زبردستی حصہ دار بن رہا ہوتا ہے ۔یوں وہ مجرم ٹھیرتا ہے ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ طالب علموں کو بھی اپنی جائز شکایات انتظامیہ تک پہنچانی چاہییں یہ ان کا حق ہے اور گارڈز کو بھی کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ طالب علموں کی عزت نفس پر ہاتھ ڈالیں یہ ایک یونیورسٹی انتظامیہ کی محدود حکومت ہے جس کا دائرہ کار یونیورسٹی تک محدود ہے ،جبکہ پورے ملک کی انتظامیہ جس کو حکومت کہا جاتا ہے جس کو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں اس سے لوگوں کی توقعات اور شکایات بھی اتنی ہی لا محدود ہوتی ہیں ،اور وہ انتظامیہ جن کو پورے ملک کی سیکورٹی سونپتی ہے وہ بھی اتنے ہی ’’ویل ٹرینڈ ‘‘ ہونے چاہییں بلکہ وہ ہوتے ہیں ۔آپ یقیناًسمجھ گئے ہونگے کہ میرا اشارہ کن کی طرف ہے ۔
اب میں آتی ہوں اس کالم کی طرف ۔۔۔ثاقب رحیم صاحب کے اس کالم کا عنوان ہے ’’ فوجی بن فوجی ‘‘وہ لکھتے ہیں فوجی افسران اور جوان کی قدر وہی جان سکتا ہے جس نے فوجی تربیت لیکر فوجی زندگی گذاری ہو سب سے بڑی بات اس حفاظت کی ہے جو فوجی جوانوں کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے ورنہ تن تنہا بغیر بلٹ پروف جیکٹ کے بہادری کا تمغہ سینے پر سجانا آسان کام نہیں ،فوج سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے ،ہمارے آرام کو دشمن کے خوف سے محفوظ بناتی ہے آپ کے کہے بغیر اپنی جان دیتی ہے اس باپ کی طرح جو اپنی اولاد کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھ کر اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتا ہے ۔وہ لکھتے ہیں قوم کی حفاظت فوج کیا کرتی ہے سیاستدان نہیں ، وہ تو صرف قوم کو سنوارتے ہیں یا تباہ کر دیتے ہیں ۔ان کے لیئے قوم اور ملک ایک تجربہ گاہ ہوتی ہے ،جہاں وہ اپنے گُر آزماتے ہیں چل گیا تو تیر ورنہ تُکا ، ویسے اکثر اس کا نتیجہ بربادی ہی دیکھا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔!
میریے خیال میں سیاستدانوں کی اس سے بہتر تعریف ممکن نہیں ۔یہ وہ مخلوق ہے جو اپنے ووٹ بنانے کے لیئے ’’حسینا ‘‘ جیسے کردار بناتی ہے ۔جو کرپشن کی بنیاد رکھتے ہیں سفارشی کلچر تشکیل دیتے ہیں ،اور ایک وقت آتا ہے جب ادارے مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں ۔اب اس دوڑ میں میڈیا بھی حصہ دار بن چکا ہے جو میڈیا کا پیٹ بھرتا ہے میڈیا بھی اس کا دم بھرتا ہے ،وہی بات کہ سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ،سیاست نہ ہو تو جرم کی دنیا ویران ہو جائے ،اور جرم نہ ہو تو میڈیا خبر کہاں سے بنائے ؟ یہ میڈیا ہی ہے جس نے سیاست دانوں کو ’’سویلیئن کمیونٹی کا نام دے دیا ہے اور سویلئن کمیونٹی کو فوج کے سامنے کھڑا کر دیا ہے حالانکہ فوج سویلئن سے الگ نہیں کون سا گھر ایسا ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد فوج میں شامل نہیں ؟ لیکن ان کا جرم ویل ٹرینڈ ہونا ہے ۔آج بھی کچھ لوگوں نے ’’ بلڈی سویلیئن ‘‘ کا طعنہ بنایا ہوا ہے سوچنے کی بات ہے جو انگریز آپکو بلڈی سویلئن کا خطاب دیتا تھا اس کے تو آج بھی آپ جوتے پالش کرتے ہیں اور اپنی فوج کو آپنے
’’ اچھوت ‘‘ بنا لیا ہے ۔صرف اس لیئے کہ وہ اعلی اقدار کا حامل ادارہ ہے ۔
فوجی آفیسر اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کے علاوہ دنیا جہان کے مختلف علوم میں مہارت حاصل کرتے ہیں اور اپنی قابلیت کی بنا پر ترقی پانے کے حقدار بنتے ہیں سب جانتے ہیں کہ فوج میں انتخاب کا میعار کتنا سخت ہے ۔محترم لکھتے ہیں سول سوسائٹی میں عام خیال ہے کہ فوجی لوگوں میں علم و عقل کم ہوتی ہے یا یہ کہ جو پڑھائی لکھائی میں کمزور یا خاندانی اور معاشی طور پر کمزور ہو وہ فوج میں چلا جاتا ہے عام سپاہی کی حد تک تو شائد کوئی یہ بات مان بھی لے لیکن افسران کے سلسلے میں یہ بات بالکل غلط بلکہ احمقانہ ہے ۔اس کی دلیل یہ ہے کہ عوام نے بھانپ لیا ہے کہ جو کام سول اداروں کے بڑے بڑے ’’ پھنے خان ‘‘ نہیں کر سکتے وہ کام فوجی افسران نہ جانتے ہوئے بھی کر گذرتے ہیں اور جب فوجی افسران اس بگڑے ہوئے کام کو سدھار لیتے ہیں تو ان افسران کو دھتکار کر نکال دیا جاتا ہے اور سیاسی رنگ دے کر بدنام کیا جاتا ہے ۔اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیت فوج کا طرح امتیاز ہے علمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ عملی تربیت بھی لازمی ہوتی ہے اس کے بغیر کوئی افسر بن ہی نہیں سکتا ۔فہم اور جسم کا یکساں استعمال ہی ان کو باقی تمام اداروں سے ممتاز کرتا ہے ۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول فوجی تربیت کے لحاذ سے ایک مثالی ادارہ ہے ۔جس کا اعتراف دشمن بھی کرتے ہیں ۔
فوج کس طرح اپنے ملک کو فائدے پہنچاتی ہے ایک ہلکی سی مثال دونگی چولستان میں جہاں آپکو جنگل میں منگل کا ساماں ملے وہ انہی کا کارنامہ ہے ۔بہاول پور گیریژن میں شمسی توانائی کے ذریعے روشنی کا انتظام کیا گیا ہے ،ہم نے کبھی وہاں توانائی کا ضیاع نہیں دیکھا ،اور یہ سارے منصوبے آرمی اپنے وسائل سے پیدا کرتی ہے ۔چھاونیوں کی صفائی ستھرائی ہمیشہ مثالی ہوتی ہے ناقابل استعمال چیزوں کو قابل استعمال بنایا جاتا ہے اور انہی چیزوں سے سجاوٹ کی اعلی تخلیقات چھاونیوں میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ڈسپلن اتنا کہ ایک پنسل اور ایک گولی تک کا حساب رکھا جاتا ہے ۔ہم نے کبھی انہیں وقت اور قومی اثاثوں کا ضیاع کرتے نہیں دیکھا ،جبکہ سیاست لُوٹ مار کے بغیر نا مکمل ہوتی ہے ۔پھر کس اعتبار سے ہم فوج کو معطون کرتے ہیں ؟
میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ چند لوگوں سے جو غلطیاں کروائی گئیں بلکہ ان پر تھوپی گئیں ،وہ پوری فوج پر اپلائی نہیں کرتیں ۔اور آئی ایس آئی جو کہ اپنی ٹریننگ اور جاں نثاری میں سب سے اول مرتبہ رکھنے والی ایجنسی ہے اس کو میڈیا کی قربان گاہ پہ نہیں چڑھایا جا سکتا ایک سیانے نے کہا تھا ۔آئی ایس آئی کوئی چوک پہ لگا ہوا نلکا نہیں جس کا دل چاہے ہتھی پہ ہاتھ رکھ دے ۔اور جیو نے یہی کوشش کی ہے سو بات یہیں ختم نہیں ہو گی ۔میڈیا کو اپنی لمٹس سیٹ کرنی پڑیں گی ۔فوج تو ہمیشہ ہی اپنی لمٹ میں رہتی ہے ۔جب تک پانی سر سے نہ گذرے ۔جیو تو خیر ہمارا میڈیا ہی نہیں ہے ۔اول دن سے اس کے ایجنڈے کچھ اور ہی تھے ۔اور ہم چاہے کتنے ہی لبرل ہو جائیں ،شتر بے مہار آزادی افورڈ نہیں کر سکتے ۔کہ جس سے ملکی سلامتی داؤ پر لگ جائے ۔جیو کو اگر بند نہیں بھی کیا جاتا تو اس کے ایجنڈے پر نظر ضرور رکھی جائے اور بقول عمران خان قومی سلامتی کی ضامن ایجنسی کی کردار کشی پر معافی بھی منگوائی جائے۔
اگر ایک یونیورسٹی کی انتظامیہ اپنی سیکورٹی کی خاطر سیکورٹی گارڈز کو اختیارات تضویض کر سکتی ہے تو یہ تو پھر ملکی سیکورٹی کا سوال ہے ۔میڈیا پر چند لوگ اپنے حق میں بولنے پر لگا دیں یا فیک آئی ڈیز کے ذریعے کمنٹس کروانے کو عوام کی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا ۔نہ ہی فوج کو عوام سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔اور ہاں عزت نفس ہر ایک کو عزیز ہوتی ہے ،فوج کے نچلے رینکس میں پایا جانے والا اضطراب اور غصہ بالکل بجا ہے کہ انکی عزت نفس کو للکارا گیا ہے ۔کہ فوج کا سب سے کم عہدہ رکھنے والا بھی اعلیٰ ترین تربیت کا حامل ہوتا ہے ۔دھاندلی سے الیکٹ نہیں ہوا ہوتا ۔یوں ہر ایک کو اپنی اپنی حدیں سیٹ کرنی ہونگی تاکہ ملک مشقلات سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے !

یہ بھی پڑھیں  طالبان سے مذاکرات کیلئے قائم کمیٹی کاپہلااجلاس کل نواز شریف کی زیرصدارت ہوگا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker