تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

اب کیا کرنا ہے

sheer awanدس محرم اگرچہ اسلام زندہ کرنیکی تاریخ ہے لیکن نام نہاد مسلمانوں اور اسلام کے ٹھیکداروں نے اک انسانیت سوز اور اندوہناک عمل سے اس مکرم اور معتبر تاریخ کے ماتھے پہ تشدد و بربریت کا ٹیکہ لگا دیا۔نہ تو یہ پہلا محرم تھا نہ ہی دس محرم کو پہلا جمعہ۔بہت سے تجزیہ نگار اور سیاسی پیادیاسے بیرونی سازش قرار دے رہے ہیں لیکن حالات و واقعات سے لگتا ہے کہ یہ کوئی طے شدہ منصوبہ نہ تھا۔چونکہ ہمارے ہاں مذہبی منافرت اور فرقہ وارانیت اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ پر امن حالات میں بھی ایسے جلسے جلوسوں میں کسی نا پسندیدہ صورت حال کا شائبہ رہتا ہے۔جس سے نمٹنے کے لیے کچھ نہ کچھ انتظامات یا ذہنی تیاری ہوتی ہے۔اندر دبے شعلے تفرقانہ ہوا ملنے سے الاؤ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور لوگ اپنی ہی آگ میں جل کے راکھ ہو جاتے ہیں۔ جب آگ جلتی ہے تو وہ بیرونی ہاتھ جنکا ڈھول ہم پیٹ رہے ہیں وہ اسے ہوا دیتے ہیں۔یہاں کوئی سچ سننے یا سمجھنے کو تیار نہیں کیونکہ ہر شخص خود کو سب سے سچا سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ گلا کاٹنے والا بھی خود کو سچا سمجھ رہا ہے اور جس بیچارے کا کٹا وہ بھی۔ظلم تو یہ ہے کہ حسین ؓ نے جس پودے کو اپنے خون اقدس سے زندگی بخشی ہم اسی کی جڑیں کاٹ رہے ہیں فقطاپنی انا کی تسکین اور خود کو حق پرست ثابت کرنے کے لیے۔بڑی معذرت کے ساتھ کہ اصحاب کے تقدس کے علمبرداروں اور حسینیت کی یاد تازہ کرنے والوں نے مل کے اک کربلا صغری برپا کیا۔ غلطی جسکی بھی تھی،حالات جو بھی رہے ہوں لیکن گلے کاٹنے کی رسم کی تاریخ کسی بھی مکتبہ فکر میں نہ تھی نہ اسلام اسکی اجازت دیتا ہے۔آگ کو بھڑکانے والے بھی اور آگ لگانے والے بھی سب ذمہ دار ہیں۔
ویسے تو ہر فقہ کے لوگ برملا اس سانحہ دلگداز کی مذمت کر رہے ہیں لیکن بحثیت قوم ہمارا کردار یہ ہے کہ اشیاء کے دام دو گنا ہو گئے ۔بے حسی اور بے ضمیری کا یہ عالم ہے کہ اس سانحہ پہ نوحہ کناں عوام یہ خواہش بھی رکتی تھی کے حالات چند دن ایسے یہ رہے تا کہ کرفیو کی وجہ سے چند چھٹیاں اور مل جائیں۔سیاستدان اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہیں۔ان پر تو خیر کوئی گلہ ہی نہیں کیونکہ ہمارے سیاستدانوں کو سکوت توڑتی سسکیاں،دم توڑتی عوام،خون سے لتھڑے لاشے اور بین کرتی مائیں بہنیں کم ہی نظر آتی ہیں۔اسلیے انکے لیے لاشوں پہ سیاست کرنے کی روایت کو قائم رکھنے کا سنہری موقع ہے۔لیکن حکومت کو کوس کر چند ووٹ بڑھانے والے اس بات کو بھلا رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میںیہ برھتی فرقہ وارانیت جسے وہ نظراندازکر رہے ہیںیہ دھرتی کی مانگ میں خون کا وہ سندھور بھرے گی جسکی لالی آئندہ نسلیں بھی نہ مٹا سکیں گی۔
میڈیا پر اگرچہ کافی غصہ اتارا جا رہا ہے کہ ویسے کسی چھینک بھی آئے تو میڈیاایک گھنٹہ خبر دیتا ہے لیکن اتنے بڑے سانحہ کی کوئی کوریج نہیں دی گئی۔لیکن سچ پوچھیں تو پہلی با ر میڈیا نے حب الوطنی کا دامن تھاما اور اس سانحہ کو کوریج نہ دے کر بہت اچھا کیا ورنہ پورا ملک فسادات کی لپیٹ میں آجاتا اور فرقہ وارانیتکا اژدھا سب کو نگل جاتا۔کیونکہ جتنا جانی نقصان دکھایا گیا ہے حقائق کچھ زیاد مختلف ہیں۔جو لکھنا بھی مشکل ہیں۔لیکن اب میڈیا کو چاہیے کہ اس سانحہ کو کسی گرم خبرکے پہلو میں دبانے کی بجائے تب تک حکامت کو یاد دہانی کرائے جب تک مجرموں کو سزا نہیں مل جاتی۔
انتظامیہ نے ایک بار پھرنا اہلی کی نئی تاریخ رقم کر دی۔لوگوں کو تحفظ دینے والے اپنی بندوقوں کی حفاظت تک نہ کر سکے۔حساس ترین علاقوں میں سیکیورٹی کا یہ عالم تھا کہ ڈیوٹی پر معمور چند ایس پی اور اہلکار اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔لاؤڈ سپیکربند نہ کروائے جا سکے جسکی وجہ سے مسجدیں ذبح خانہ بن گئی۔لاشوں کو جلایا گیا لیکن کئی گھنٹے تک آگ اور خون کی جنگ کو روکنے کوئی نہ پہنچا۔سینکڑوں دوکانیں نذر آتش ہو گئی چند گھنٹوں میں کڑور پتی جھونپڑیوں میں آ گئے لیکن انتظامیہ کی نیند نہ ٹوٹی۔ابھی انہیں معطل کیا جا رہا ہے۔کتنا بہتر ہے کہ انکو نوکریوں سے فارغ کریں تا کہ باقی سب کو نصیحت ہو ۔علماء نے کافی حد تک اچھا کردار ادا کیا اگرچہ اس منافر ت کے کسی حدتک ذمہ دار کم علم علماء و ذاکرین بھی ہیں لیکن تقریبا تمام مکتبہ فکر کے علماء نے جلتی پر تیل کی بجائے صبرو تحمل کا پیغام دیا۔
کشیدگی برھتی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں خدانخواستہ اور بڑھے گیاس لیے تمام علماء اورشہریوں کو چاہیے کہ وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کریں۔یہ معاملہ بھی ہماری عدم برداشت اور صبرو تحمل کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ ا گر ابھی بھی ہم نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ملک مردہ خانہ بن جائے گا۔اور فائدہ اٹھانے والے فائدہ اٹھائیں گے۔اپنی اپنی جگہ ہر شخص یہ تہیہ کرے کہ اس سانحہ کے ذمہ دار اور اس ظلم کی ابتدا اورانجام تک جڑے ہر شخص کو کڑی سے کڑی اور جلد سزا ملنی چاہیے اور وہ بھی سرعام۔چاہے وہ کسی تنظیم کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو کوئی اسکی طرفداری نہ کرے۔جو بھی ثبوت کی روشنی میں سامنے آئے اسے بدترین سزا دے کے مثال بنا دیں۔تا کہ آئندہ ایسا سانحہ نہ ہو۔
حکومت سے اپیل ہے کہ ملکی سالمیت لیے اس معاملے کی نزاکت کو سمجھے اور نام نہاد کمیٹیاں بنانے کی بجائے فوری عملی اقدامات کرے ۔اگرچہ غیرملکی دورے اہمیت کے حامل ہیں لیکن جب اپنا گھر جل رہا ہو تو پہلے اس پہ پانی پھینکنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ جلسے جلوسوں ،ریلیوں اور محافل کے لیے الگ جگہ (چاردیواری کے اندر)مختص کی جائے۔یہ سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔علماء بھی اپنا کردارادا کریں۔ہر بندہ اپنی ذمہ داری نبھائے۔ا پنے اپنے فرقے کی بجائے اپنے دین اور ملک کی سوچیں جو انکی پہچان ہے
جمع کرو کچھ بھی ، لاکھ ضربیں دو مجھ کو
جب تم تفریق ہوتے ہو میں تقسیم ہوتا ہوں

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. Sher sab allah pak ap ki soch men or kalam men or khushnomayan peda farmaai…… allah pak se dua he k wo hmare mulk or specially awam ko AQAL e SALEEM ata kre……

  2. Sher sab allah pak ap ki soch men or kalam men or khushnomayan peda farmaai…… allah pak se dua he k wo hmare mulk or specially awam ko AQAL e SALEEM ata kre……

Back to top button