بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

نواز شریف’’ اب یا پھر کبھی نہیں ‘‘

bashir ahmad mirمیاں نواز شریف اپنی تیسری بار وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے جلوہ آفروز ہونے والے ہیں ۔انہیں جن حالات میں اقتدار مل رہا ہے یہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے ’’قیمتی موقعہ ‘‘ ہے ۔انہیں’’ اب یا پھر کبھی نہیں ‘‘کے فارمولے پر عمل کرنا پڑے گا ورنہ تاریخ میں انہیں بطور عبرت یا دکیا جائے گا۔’’اب نہیں پھر کبھی نہیں ‘‘کا کیا فارمولا ہے ۔۔؟؟؟بلاشبہ ملک میں بے شمار مسائل موجود ہیں جن کا حل ایک لمحہ میں ممکن نہیں ،خرابیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے لازمی طور پر وقت درکار ہے ،نہ ہی ان کے پاس الہٰ دین کا چراغ ہے کہ آن واحد میں حسب تمنا سب کچھ ہو جائے ۔مگر ایک راستے کا تعین کر کے تیز رفتاری سے بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ہمارے وطن عزیز کو جن مصائب ،مسائل اور بحرانوں کا سامنا ہے ان کی تشخیص و علاج کی ضرورت ہے۔جس کے لئے ماہر معالج ہونا بنیادی شرط ہے ۔اقتدار کی دیوی کا حصار انتہائی خطرناک اور مد ہوش صفت ہوتا ہے ،جو اس لمس بے لذت سے آشنا ہوا وہی تاریخ کا بے مثال باب بنا،لیڈر کی ایک خوبی نہیں بلکہ اس کی زندگی کا ہر پہلو خوبیوں سے جب تک سجا نہ ہو وہ کبھی بھی ہر دلعزیز نہیں ہوتا ،مزا تو تب کہ جہان فانی چھوڑ نے کے بعد بھی ایسا لیڈر اپنی عوام کے دلوں میں رچ بس جائے ،یہ مقام حاصل کرنے کے لئے موؤنٹ ایوریسٹ کو سر کرنا نہیں بلکہ دو اونس کے ’’دل ‘‘ میں جگہ پانے سے تا ابد یادگار بن سکتا ہے ۔وزیراعظم کا منصب آئینی طور پر مکمل با اختیار ہے مگر اس کی اہلیت ہونا الگ بات ہے۔ماضی کی داستانیں ہمارے سامنے ہیں ۔ان پر بحث ضروری نہیں ،سبھی جانتے ہیں کہ کس کا کیسا کردار رہا ۔۔۔؟؟ ہمیں ماضی سے سبق ملتا ہے کہ کسی کا اقتدار دائمی نہیں رہا ،جب اس میں دوام نہیں تو پھر ایسے کام کرنے چاہئیں کہ جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے ۔
میاں برادران پاکستان کی سیاست میں طویل حکمرانی کا ریکارڈ عبور کر رہے ہیں ،انہیں اقتدار کے رموز سے آگاہی ،بہکنا ،بھٹکنا اب انہیں سمجھ آ چکا ہے ،اقتدار کے عروج اور زوال سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ماضی کے شیریں و ترش حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کا ہر قدم ان کی قدامت کا پتہ دے گا۔بلاشبہ ہمارا نظام عوامی نہیں ،جہاں قانون شکن بھی قانون کے رکھوالے ہوں وہاں تبدیلی کی امید رکھنا عبث ہے ۔ تبدیلی کا آغاز کرنے کے لئے پہلے ہم اپنے اکابریں کی جانب رجوع کرتے ہیں کہ جنہوں نے حکمرانی کیسے کی ،جن کا اٹھنا بیٹھنا کیسا رہا،ان کی حیات طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔
ہماری تاریخ اسلامی کا ایک کردار بطور مثال پیش ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد خلیفۃ المومنین سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو غائب پاتے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔ کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے ۔ ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔
کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس خیمے میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا؛ اے اللہ کی بندی، تم کون ہو؟ بڑھیا نے جواب دیا؛ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں، ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا؛ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟ بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے،ہمارے لئیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔حضرت عمر یہ سن کر رو پڑے اور کہا؛ اے ابو بکر، آپ نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔اب غور کرنے کا تقاضا ہے کہ ہمارے آنے والے حکمران کسے آئیڈل بنا کر سنہرے حروف سے اپنی تاریخ قلمبند کرتے ہیں۔زیر بیاں کردار کو من و عن نقل و عمل کرنا موجودہ حالات میں بہت آسان ہو چکا ہے ۔میڈیا فعال ،تیز تر معلومات کا ذریعہ ہے۔جس سے آسانی کے ساتھ نظام کی خرابیوں اور عوام کی مظلومیت سے آگاہی ہو سکتی ہے۔میاں صاحب نے عنان اقتدار سنبھالنے سے پہلے فرما دیا کہ ’’پہلے ایٹمی دھماکہ کیا اب معاشی دھماکے کریں گے‘‘۔انہوں نے بجلی کے مسئلہ کو اولیت بھی دی اور کہا کہ موجودہ حالات کوچیلنج سمجھ کر قبول کیاتاکہ عوام کو بحرانوں سے نکال سکیں۔یہ ایک اچھی سوچ کی دلیل ضرور ہے مگر کیسے۔۔؟؟؟؟ یقیناًبا صلاحیت اور باکردار ٹیم کا ہونا لازمی ہے ۔بلاشبہ وطن عزیز میں ٹیلنٹ موجود ہے جس سے استفادہ حاصل کرنے کی تڑپ ہونا چاہئے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف کیسے سرخرو ہو سکتے ہیں۔انہیں باقاعدہ طور پر ایک تھنگ ٹینک بنانا چاہئے جس میں با صلاحیت و با کردارماہرین ،سیاستدان ،صحافی اور قانون دان شامل ہوں ۔ان کی تجاویز کو کابینہ میں زیر غور لا کر بہتر فیصلے کئے جا سکتے ہیں ۔جہاں ہمارے اربوں روپے غیر ترقیاتی اخراجات کی نذر ہو رہے ہیں وہاں چند کروڑ روپے لگا کر کھربوں روپے کمائے جا سکتے ہیں ۔لہذا کچن کیبنٹ سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ سیر حاصل تجاویز کے حصول کے لئے کم از کم سو ممبران پر محیط think tank بنا کر اپنی صفوں سے خوشامدی ،کاسہ لیس اور مفاد پرست ٹولے سے نجات حاصل کر کے وسیع تر مشاورت کا ماحول بنایا جائے ۔
دوسرا کام یہ کرنا ہوگا کہ ملک بھر میں منافع بخش ادارے جو مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں ان کی صف بندی کی جائے ۔خائن اور بد دیانت ٹولے نے ریلولے ،واپڈا ،پی آئی اے سمیت جملہ قومی اداروں کو کنیسر ذدہ کر دیا ہے ۔جس کے علاج کے لئے ٖضروری ہے کہ ان کا مکمل آپریشن کیا جائے ۔عوامی مفاد کے اداروں کا کردار و رویہ بھی عوامی نہیں جس کی وجہ سے عوام گوناں گوں مسائل تلے روندے جا رہے ہیں ۔ایسے انتظامی عہدہ دار جو فرائض منصبی میں اپنی پر فارمنس نہیں دے رہے ہیں انہیں بیک جنبش قلم گھر بھیجا جائے ۔کیونکہ ہمارے نظام کو بد نام کرنے میں ایسے کردار ہمارے اردگرد موجود ہیں جن کی وجہ سے کوئی ادارہ پنپ نہ سکا،حکمران آتے گے اور چلے بھی گئے مگر نظام وہیں کا وہیں عوام دشمنی کی یاد تازہ کرتا جا رہا ہے۔اگر ویسے ہی چلنا ہے تو پھر یہ کھیل بہت مختصر چلے گا ،حضرت امام سیدنا علیٰؓ خلیفۃ المومنین نے فرمایا کہ’’انسان کا اپنے نفس پر مغرور ہونا اس کی عقل کمزورہونے کی دلیل ہے ‘‘غرور خدا کو پسند نہیں ،اقتدار پرست ہمیشہ غرور و تکبر کی بھینٹ چڑھے ۔ویسے بھی غرور وہی کرتا ہے جس نے حکمرانی کی لذت نہ دیکھی ہو،یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ آنے والی قومی قیادت عوام دوست فکر رکھتی ہے ۔انہیں پروٹوکول کے حصار سے نکلنا پڑے گا اور عوام کی آواز پر فیصلے دینے پڑیں گے ۔میاں برادران کو ہوشمندی ،دلیری ،سنجیدہ پن اور قوت فیصلہ رکھنے کا وصف اپنے کردار میں ڈھالنا ہو گا ۔انہیں یہ موقع اللہ کی جانب سے نصیب ہوا ہے ا ب انہیں رات دن لگا کر عوام کی بہتری و خوشحالی کے لئے موثر اقدامات اٹھانے پڑیں گے ۔ورنہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے ۔اگر عوام کے صبر و ہمت کو دیکھا جائے تو لائق تحسین ہیں کہ وہ ’’بار بار ڈسنے ‘‘ کے باوجود اعتماد کر چکے ہیں۔اب عوام کے اعتماد کو کیسے پورا کیا جائے یہ فیصلہ میاں برادران کے ہاتھ میں ہے۔جیسا بوئیں گے ویسے کاٹا جا ئے گا۔آئندہ مسائل اور ان کے حل کی جانب نشاندھی کے لئے ’’کریک ڈاؤن‘‘ کیا جائے گا، یقیناًعوام کی آواز سننے والے بہتر پیش بندی کریں گے ۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker