تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

آج گیارہ مئی تھا

tajammalمیں پاکستان کا اک عام شہری ہوں اور میرا تعلق ایک گاؤں سے ہے۔ میں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور اب میں کھیتی باڑی کرتا ہوں۔عام انتخابات میں بطور ووٹر میں نے پہلی بار حصہ لیا۔میرا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہ ہے اور نہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ حکومت کیسے بنتی ہے، کیسے چلتی ہے۔تاہم انتخابات کے قریب آتے ہی علاقہ کے بڑے بڑے لوگ الیکشن کمپین میں جتے نظر آئے۔ ہر گلی محلے میں مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے بینر اور اشتہار جا بجا دیکھنے کو ملتے۔ کارنر میٹنگ میں میل ملاپ کا سلسلہ جاری رہا۔ بہت سارے لوگ ہمارے پاس بھی ووٹ مانگنے کے لئے آئے۔ ہر کسی نے گلی پکی کرنے، بجلی لگوانے، گیس لگوانے، نالیاں بنوانے کے وعدے کیا اور کھا اڑا کے چلتے بنے۔ میں نے ان وعدوں کے پیش نظربہت سوچا کہ کسے ووٹ دوں کیو نکہ سبھی کے وعدے اک جیسے تھے۔ آخری دن تک میں کوئی فیصلہ نہ کر پایا تھا۔ آخر گیارہ مئی کا دن آن پہنچا۔ باقی بہت سے لوگوں کی طرح میں نے بھی اک دن پہلے اپنے تمام کام نمٹا لیے تھے۔ صبح ہی صبح میں نے انتخابی سنٹر کا رخ کیا۔ راستے میں مختلف لوگوں کو مختلف جماعتوں کے امیدواروں کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کرتے پایا۔ کئی ایک نے مجھے روک کر میری ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی مگر میں چپکے سے انتخابی سنٹر کی جانب ہو لیا۔ میں عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا۔ خیر جب انتخابی سنٹر پہنچا تو ہر طرف گہما گہمی تھی۔ امیدواروں کے سپورٹر ہر آنے جانے والے کی خوب آؤ بھگت کر رہے تھے۔ کولڈ ڈرنکس، پیزا، نان، میٹھے مشروب اور جانے کیا کیا پیش کیا جا رہا تھا۔ میں کچھ دیر ایک دوست کے پاس بیٹھا رہا۔ کچھ سوچ کر میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ۔ میں قطار میں کھڑا ہو گیا۔ لمبے انتظار کے بعد جب میری باری آئی تو بیلٹ پیپر دیکھ کر میرے ذہن میں مختلف خیالات جنم لینے لگے۔ میرے سامنے تیر، شیر، بلا، ترازو سمیت مختلف نشانات موجود تھے۔ گزشتہ رات کو میرے چچا نے مجھے سمجھایا تھا کہ مہر کس نشان پر لگانی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس امیدوار نے گلی پکی کروانے سمیت محلے بھر میں گیس لگوانے کا وعدہ کیا ہوا تھا، میں مہر لگانے ہی والا تھا کہ مجھے یاد آیا کہ اس شخص نے اپنی نجی جیل میں کتنے بے گناہوں کو قید کر رکھا ہے۔ اس خیال کا آنا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ اس کے علاوہ میں اب باقی نشانوں اور امیدواروں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ مجھے آفیسر کی جانب سے جلدی ووٹ کاسٹ کرنے کو کہا گیا۔ میں نے جلدی سے بیلٹ پیپر پر نگاہ ڈالی اور ایک عجیب فیصلے کے ساتھ اک نشان پر مہر لگا ڈالی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ امیدوار جیت پائے گا یا نہیں۔لیکن میں خوش تھا کہ میں نے اپنی گلی کو نہیں، اپنے ملک کو ووٹ دیا تھا۔ میں نے جس نشان پر مہر لگائی تھی ، اپنے حلقے کے اس امیدوار کو میں جانتا تک نہ تھا۔ میں نے بس اس کا منشور دیکھا، پڑھا، سمجھا تھا اور اسے باقی کی نسبت مناسب خیال کرتے ہوئے میں نے اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق اسے ووٹ کیا تھا ۔ اب باقی کی طرح یہ بھی محض نعروں پر مبنی منشور تھا یا کہ نظام کو سنوارنے کے لئے حقیقی جدو جہد کی اک کڑی، اس بارے میں کوئی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔ بہر حال میں اپنے فیصلے پر خوش تھا۔
یہ تھی کہانی مسائل میں پسے ایک غریب، نیم خواندہ دیہاتی نوجوان کی۔یوں کہیئے کہ یہ راقم کا خواب ہے جو اس بے ربط کہانی کی صورت تمام اہل فکر لوگوں کے ذہنوں پہ اک دستک ہے کہ خدارا! گیارہ مئی کا دن بہت قریب آ چکا، ایک بوتل اور قیمے والے نان کے لئے اپنے آپ کو پانچ سال کے لئے گروی مت رکھ دینا، خدارا! اپنی گلی کی بجائے اپنے ملک کو ووٹ دینا۔۔۔۔۔   note

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل:سوئی گیس پر یشرکم ہونے سے گھریلو صارفین کو شدید پر یشانی کا سامنا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker