شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / آج کے دور میں منفرد ایک بڑا آدمی سردار خالد ابراہیم

آج کے دور میں منفرد ایک بڑا آدمی سردار خالد ابراہیم

توہین عدالت کا ملزم سردار خالد ابرا ہیم ‘برین ہیمرج’ کا شکار ہوکر  ایک رات ہسپتال میں رہنے کے بعد صبح سویرے اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔جسد خاکی کو راولاکوٹ لیجایا گیا جہاں سٹیڈیم میں نماز جنازہ کے بعد آبائی گائوں کوٹ متے خان میں سپرد خاک کر دیاگیا۔راولاکوٹ کے سٹیڈیم میں ہزاروں لوگ ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ سٹیڈیم کے باہر بھی بڑی تعداد میں لوگ نماز جنازہ میں شریک تھے۔سردار خالد ابراہیم قیام پاکستان کے تقریبا دو ماہ بعدپیدا ہوئے اور71سال کی عمر میں وفات پاگئے۔وہ ریاست کشمیر کی اولین سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کے رہنما اور آزاد کشمیر کے پہلے صدر سردار محمد ابرہیم خان کے فرزند تھے۔ سردار محمد ابراہیم خان کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ سرینگر  کے علاقے آبی گزر گاہ میں میر واعظ کشمیر مولومی محمد یوسف شاہ کے مکان میں قیام کے دوران وہاں مسلم کانفرنس کے ایک غیر رسمی اجلاس میں قرار داد الحاق پاکستان منظور ہوئی۔تاریخی واقعات اور حقیقی طور پر بڑے لوگوں کے ماحول نے سردار خالد ابراہیم کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے جن کا اظہار ان کے کردار سے بخوبی ہوتا ہے۔جس بات کو درست سمجھتے،اس پہ ڈٹ جاتے ،چاہے ان کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو جائے۔چند ہفتے قبل آزاد کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرنے پر آزاد کشمیر کی ایپلٹ کورٹ ،سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے،حالانکہ آزاد کشمیر میں یہ اختیار ہائی کورٹ کا ہے،سردار خالد ابراہیم پر عدلیہ کی توہین کے الزام میں فرد جرم عائید کیا۔سپریم کورٹ کی طرف سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے ۔لیکن گرفتار ہونے اور عدالت سے مجرم قرار دینے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔دیکھا جائے تو بات اصول کی ہے، وفات پاگئے تو کیا ہوا، اصول کی خاطر مثال قائم کرنے کے لئے اب اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر ان کے ” توہین عدالت” کا مجرم ہونے کی بابت فیصلہ کرے۔کیا توہین عدالت کے ملزم سردار خالد ابرہیم کو معلوم نہ تھا کہ ہمارے ملکی،معاشرتی رواجات میں فوج اورعدلیہ تنقید سے بالاتر ہیں، ان پہ تنقید توہین مذہب کی طرح ہی ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔چناچہ آزاد کشمیر اسمبلی میں ججز سے متعلق تنقید پر سردار خالد ابراہیم کو بعد از وفات عدلیہ کی توہین کا مجرم قرار دینا عدلیہ کی حرمت،وقار،جاہ و جلال اور ٹھاٹھ باٹھ کے رواجات کی بقاء کے لئے از حد ضروری ہے۔مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہوتا ہے کہ انسان اپنی عمر کا وقت پورا ہونے پر ہی وفات پاتا ہے،باقی موت کے بہانے ہوتے ہیں کہ اس طرح مر گیا،اس وجہ سے مر گیا۔وفات جس وجہ سے بھی ہو،ہم یہی کہتے ہیں کہ اس کا وقت پورا ہو گیا تھا،باقی سب بہانے ہیں۔
میرے والد خواجہ عبدالصمد وانی1950میں اپنے دو ساتھیوں خواجہ محمد امین مختار اور حفیظ مانسبلی کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر پہنچے۔خواجہ عبدالصمد وانی نے اپنے رہنما چودھری غلام عباس کی قیادت میں جبکہ خواجہ محمد امین مختار نے سردار محمد ابراہیم خان کے ساتھ سیاسی سفر اختیار کیا اور1977کے مارشل لاء تک سردار محمد ابراہیم خان کے سیاسی ساتھی رہے۔انہیں سردار محمد ابراہیم خان کا ‘ رائٹ مین’ بھی کہا جاتا تھا۔سردار محمد ابراہیم خان اپنے بیٹے خالد ابراہیم کو خالدی کہہ کر پکارتے تھے اور خواجہ محمد امین مختار بھی سردار خالد ابراہیم کو ہمیشہ خالدی ہی کہتے،ان کے سامنے بھی اور ان کے تذکرے کے وقت بھی انہیں خالدی کے نام سے یاد کرتے تھے۔ان کے خالدی کہنے میں محبت واضح طور پر چھلکتی تھی۔
ذاتی اوصاف کے حامل سردار خالد ابرہیم خان کی شخصیت پر بڑے لوگوں کی صحبت کا اثر نمایاں رہا۔مال و دولت،نمود و نمائش سے بے پرواہ،غرور،تکبر ،جاہ و جلال سے عاری۔یہ بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ جب ہم کسی بڑی شخصیت( عہدے یا اختیار کے حوالے سے نہیں )سے پہلی بار ملاقات کرتے ہیں تو دل میں سوچتے ہیں کہ” یہ تو عام سا آدمی ہے، میرا ان سے متعلق تصور تو غلط نکلا”۔ایسی سوچ اس لئے ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ” بڑے آدمی ” کے لوازمات اس ے قطعی مختلف ہوتے ہیں جو انسان کو حقیقی طور پر بڑا آدمی بناتے ہیں۔ سردار خالد ابرہیم اپنے اصولوں کے معاملے میں سخت گیر ہونے کے باوجود ایک نرم مزاج انسان تھے،محبت کرنے والے ،مہمان نوازی کرنے والے۔کئی بارکہ میری اور میرے خاندان کے مختلف افراد کی سردار محمد ابراہیم خان سے ملاقات کے موقع پر یہ دیکھا کہ ملازم موجود ہونے کے باوجود خالد ابراہیم خود چائے اور لوازمات پیش کرتے۔
یہ جملہ ہمیشہ سے دہرایا جاتا ہے کہ ”نہ جانے اچھے لوگ جلد کیوں مر جاتے ہیں؟” شاید قدرت کو زندگی کا امتحان بار بار مطلوب ہوتا ہے۔سردار خالد ابراہیم جیسے افرادزندہ ہوتے ہیں تو منفی رواجات کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں،مر جاتے ہیں تو ان کے مخالفین بھی ان کے اچھے کردار کے گواہ بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ مرنے کے بعد اس کے اچھے کردار کا اعتراف کرنا، اس کے اچھے کردار کی گواہی دینا صرف اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے ہی مترادف ہو سکتا ہے۔ ، مرنے کے بعد تو مرنے والے کے افعال و اعمال ہی شمار ہوں گے ، اللہ نے دوسرے کے لئے مادیت کی قربانی دینے، خود کو مشکل میں ڈال کر دوسروں کی مشکلات ،مسائل کے حل میں کام آنا،مصیبت زد ہ افراد کے کام آنے کو نیکی بتایا ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں نیکی کو محض عبادات میں ہی محدود سمجھا جا تا ہے۔سماجی طور پر،معاشی طور پر،سیاسی طور پر ایسی نیکی کی راہ اختیار کرناجس میں مادیت کی قربانی کا جذبہ محیط ہو،یہی نیکی ہے،یہی اللہ کی راہ ہے جس پر چلنے کی،کاربند رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
اللہ کو وفات پاچکے انسان کے معاملے میں انسانوں کی گواہی کی کوئی ضرورت نہیں ہے،ہر انسان کے لئے اللہ تعالی کا اپنا پیمانہ ہے جس کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا۔اچھا کردار یہ کہ اچھی سوچ اور عمل کو مادیت پر قربان نہیں کرتے لیکن ایسے افراد کی زندگی میں لوگ انہیں اچھاشخص کہتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ” ہے تو یہ بہت اچھا آدمی لیکن ایسے قیمتی سکے کی مانند ہے جو ہے تو بہت قیمتی لیکن رائج الوقت نہیں ہے،آج کے دور میں یہ ” قیمتی سکہ” چلتا نہیں ہے،متروک ہو چکا ہے۔
سالہا سال پہلے راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹائون علاقے میں ایک سیاسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا جس کے مہمان خصوصی سردار خالد ابراہیم تھے۔تقریب کا اہتمام جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی جنرل سیکرٹری محترمہ نبیلہ ایڈووکیٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اتحادی ہونے کے حوالے سے کیا تھا۔اس موقع پر سردار خالد ابراہیم سے بات چیت ہوئی۔میں نے قریب ہی واقع اپنے گھر چلنے کی درخواست کی تو مسکرا کر کہنے لگے،آپ کے گھر کو میں اپنا ہی گھر سمجھتا ہوں۔سوشل میڈیا سے سردار خالد ابراہیم کو ”برین ہیمرج” کی اطلاع سے دلی صدمہ ہوا، سوچا تھا کہ اگلے روز ہسپتال جائوں گا لیکن کیا معلوم تھا کہ وہ اگلے روز صبح سویرے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے جس دنیا نے،جہاں کے لوگوں نے اس عظیم انسان کی قدر نہیں کی،اس کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ ہر حوالے سے حقدار تھے۔انسان مر جاتا ہے لیکن اس کا کردار رہتی دنیا تک ایک مثال کے طور پر زندہ رہتا ہے،خالد ابراہیم بھی ایک ایسا ہی شخص تھا
یہ بھی پڑھیں  سی این جی کیس کی سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ کل سنایا جائے گا