تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

آج کا پڑھالکھا نوجوان !

صبح روزانہ جب میں اخبار کھولتا ہوں سب سے پہلے میری جس خبر پر نظر پڑتی ہے یا تو وہ مینار پاکستان کی ہوتی ہے آج مجھے اتنے کتنے دن ہوگئے میں گرمی میں بیٹھا ہوں دوسری خبر ڈاکٹروں کیخلاف ہوتی کتنے ڈاکٹروں کو جیل ہوگئی ،کتنے ڈاکٹروں کو بھرتی کیا جارہا ہے اور کتنوں کو نکال دیا گیا ہے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک دفع مجھے بھی تکلیف ہوئی تو میں ہسپتال گیا تکلیف بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھے وارڈ میں داخل کرلیا گیا میرے بیڈ کے قریب تیسرے بیڈ پر ایک مریض آیا جس کی حالت مجھ سے کہیں زیادہ خراب تھی میں یہ بتانا بھول گیا کہ مجھے کیا تکلیف ہوئی تھی اور میں کس وارڈ میں تھا مجھے ہارٹ اٹیک ہوا تھا میں دل والے وارڈ میں تھا یعنی سی سی یو جس مریض کے بارے میں میںبات کررہا تھا ا س مریض کو اتنی زیادہ تکلیف تھی کہ ڈاکٹر ساری رات اس کے پاس کھڑے رہے اور ان ڈاکٹروں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ ہم صرف ایک مریض کیلئے جاگ رہے ہیں تکلیف کی وجہ سے مجھے بھی نیند نہیں آرہی تھی میں یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ڈاکٹروں کیساتھ نرسیں بھی پوری رات ایک ٹانگ پر کھڑی رہیں جب صبح ہونے کو آئی تو مریض کی حالت پہلے سے بہت بہتر تھی اب ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اب یہ ہمارے مسیحا نہیں ہیں جو ڈاکٹر کررہے ہیں وہ غلط ہیں پھر پورے ملک میں کون ٹھیک کررہا ہے یہ جو آئے روز لانگ مارچ کئے جارہے ہیں کیا وہ ٹھیک ہیں یہ جو آئے روز اخبار کے مین صفحے پر آتا ہے کہ میں عوام کیساتھ ہوں آج مجھے گرمی میں بیٹھے کتنے دن ہوگئے ہیں مینار پاکستان کا سایہ ہی میرے لئے بہت ہے کیا یہ حکمران ٹھیک کررہے ہیں اگر اس ملک کے حکمران ٹھیک ہوجائیں تو کوئی بھی ہڑتال نہیں کریگا اگر اس ملک کے حکمرانوں کی عیاشیاں ٹھیک ہوجائیں تو سب ٹھیک ہوجاتا ہے آج پورے ملک میں ہردوسرا آدمی پریشان ہے کوئی مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے تو کوئی سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہے کہیں پورے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پریشانی ہے کوئی اس وجہ سے پریشان ہے کہ ابھی تک ہماری حکومت کیوں نہیں آئی کچھ حکمران تو ہر رات یہ سوچ کر سوتے ہیں صبح اٹھتے ہی ہماری حکومت آجائے گی ہمارے ملک میں ایک ایسا بھی لیڈر آگیا ہے جو پہلے تو ایک بال پر د و آئوٹ کرنے کا کہتا تھا اب چھکوں کی بات کرنے لگ گیا ہے ۔پتہ نہیں اس کا چھکا کب لگے گا؟ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں ہمارے صوبے خود مختار ہونے کے باوجود بھی خود بجلی تیار نہیں کرسکتے ا س لئے ہم مینار پاکستان پر بیٹھے ہیں ہم نے اپنے صوبے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ٹیکسی ڈرائیور بنا دیا ہے کیوں کہ ہمارے پا س ان کیلئے نوکریاں نہیں ہیں اگر آج کاپڑھا لکھا نوجوان دفتروںمیں نوکریوں کیلئے چکر کاٹ رہا ہے تو کیا یہ ہمارے حکمرانوں کیلئے شرم کی بات نہیں اگر آج مینار پاکستان پر بیٹھ کر حکمران ٹھیک کر رہے ہیں توپھر یہ پڑھے لکھے ڈاکٹر اپنے حق کیلئے آواز کیوں بلند نہیں کرسکتے پھر ان ڈاکٹروں کو جیل میں کیوں بند کیا جارہا ہے ؟آج ہمارے ملک کا کلرک اپنے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکتا اگر وہ رشوت لے تو بر ا کہلاتا ہے اگر وہ کلرک اپنے حق کی خاطر اپنے پیٹ پر روٹی باند ھ کر یہ دیکھا تا ہے کہ میرے بچوں کی روٹی مجھے واپس کردو مگر حکمرانوں کے کانوں تک یہ بات نہیں پہنچتی ہمارے پورے ملک پر دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں کیوں کہ یہ ملک سونے کی چڑیا ہے یہ ملک معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ہمارے ملک کی زراعت دنیا کی مشہور ترین زراعت میں آتی ہے ۔ہمارے پیارے ملک کے چار موسم ہیں جو دنیا کا سب سے بڑا تحفہ ہمارے پاس ہے مگر ہم ہیں کہ آج بھی اپنا لاکھوں کیوسک پانی سمندر کی نظر کردیتے ہیں خادم اعلیٰ نے دوران سیلاب یہ کہا تھا کہ میری عوام سیلاب پر مر رہی ہے اور میں ہیلی کاپٹر پر سفر کروں یہ نہیں ہوسکتا میں اپنا ہیلی کاپٹر فروخت کرکے اس کا پیسہ عوام پر خرچ کروں گا مگر کچھ ہی دنوں بعد خادم اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر چین سے رپیئر ہوکر اس ہیلی کاپٹر پر رپیئرنگ کا خرچہ 90لاکھ روپے آیا کہاں گئیں ہمارے خادم اعلیٰ صاحب کی باتیں !یوں تو معاشرے میں پڑھے لکھے افراد کی بہت عزت اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ پڑھے لکھے افراد رٹے کی پیدوار ہیںجو رٹا بازی کے ذریعے پڑھ لکھ گئے ہیں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پریکٹیل کی سرگرمیاں نہ ہونے کے باعث نوجوان رٹا لگانے پر مجبور ہیں اگر سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تھیوری کیساتھ ساتھ پریکٹیل کیطرف اگر زیادہ توجہ دی جائے تو ہمارے نوجوان بھی دنیامیں ایک اعلیٰ مقام پائیں گے اور ان نام بھی بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھا جائے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو بہتر وسائل اور بہتر ماحول میسر ہو جس میں وہ اپنی مرضی کے مطابق پرورش حاصل کرسکیں مگر ہمارے ملک خاص طو ر پر پنجاب کی کیا بات وزیراعلیٰ صاحب خود تو مینار پاکستان پہنچ گئے ہیں اور پنجاب میں رہنے والی عوام کو اسی طرح اندھیروں میں رکھا ہے اگر آپ نے ایک قدم اٹھا یا تو ا س کا رزلٹ بھی دیں کیا آپ کے مینار پاکستان میں کیمپ لگانے سے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل ہوگیا ؟اگر آپ نے کوئی قدم اٹھانا ہی ہے تو ہمارے نوجوانوں کیلئے اٹھائیں،مگر آج کا نوجوان آپ کی سیاست کو دیکھ کر بہت پریشان ہے کیوں کہ آپ نے مینار پاکستان پر ایک سیاسی دکان چمکا رکھی ہے آپ پورے پنجاب میں اور نئے ٹینٹ آفس ل

یہ بھی پڑھیں  پنجاب کے ایک لاوارث شہر کے بے حس عوام

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker