تازہ ترینکالم

آج اور کل کی یاد

rizwan khanپکڑو پکڑو جانے نہ پائے ہر طرف نفسا نفسی کھینچا تانی لوٹ مار سی مچی ہے ۔ باقی دنیا کاپتا نہیں کم از کم ہم پاکستانی تو تمام ہی اسی کاروائی میں مصروف ہیں۔ ملک وقوم کو لوٹنے سے ہمیں پل بھر فرصت نہیں۔کل شب چند فرصت کے لمحات میسر آئے تو لارڈ کرزن تاریخ کے اندھیرے سے برآمد ہوا کندھا تھپتھپایا اپنا تعارف کروایا پرچہ میرے ہاتھ میں تھمایا اور ماضی کے دھندلکوں میں گم ہوگیا ۔میرے ہاتھ میں اب پرچہ تھا لارڈکی مایوسی میرے گردا گرد رقصاں تھی ۔گرتے پتوں کی خاموشی اور ہوا کی سائیں سائیں کا شور تھا۔ لارڈکرزن کی بپتا بڑی دل گداز ہے موصوف1898میں ہندوستان کے وائسرائے کی تعیناتی کا پروانہ ہاتھ میں تھامے انگلستان سے وارد ہوئے۔ ان کی دو لڑکیاں تھیں اولاد نرینہ سے محروم تھے اور دونوں میاں بیوی کے دل کی خواہش تھی کہ تیسری بار ان کے ہاں اولاد نرینہ ہو ۔ قدرت نے تیسری اولاد کی امید جگادی۔ لارڈ اینڈ لیڈی کرزن خوش تھے ۔ دونوں نے امیدوں کے دیئے جلا کر منڈیر پر رکھے اور آنے والے وقت کا انتظار کرنے لگے ویسے تو انتظار بڑی جاں گسل اور تکلیف دہ چیز ہے لیکن دل میں آس و امید کی شمع جل رہی ہو کسی غیر موجود چیز کے مل جانے کی آس ہو تو انتظار کے لمحات بھی خاصے خوش گوار محسوس ہوتے ہیں ۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں لیکن سب امیدوں کے دیئے بجھ گئے آرزوئیں دم توڑ گئیں۔ تیسری بار بھی مارچ 1904میں لارڈ صاحب کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی اس وقت ان کا قیام نالدرا میں تھا ۔ مایوسی کے عالم میں انہوں نے لڑکی کا نام الیگزنڈر نالدرا کرزن رکھا ۔ خوشی کے لمحات ہوتے تو مجھے یقین ہے کہ لارڈ صاحب نالدرا کا نام بدل کر الیگزنڈر کرزن پور رکھ دیتے ۔ لارڈ صاحب خود تو دل گرفتہ تھے ہی لیکن ان کی لیڈی ان سے زیادہ بیٹی کی پیدائش کو دل پر لے گئیں ۔ لارڈ صاحب نے بیوی کی ڈھارس بندھانے کے لئے لندن سے خطوط روانہ کرنے شروع کرد یئے۔ ایک خط انہوں نے شملہ سے لندن بھیجا اس کا ایک جملہ یہ تھا۔ After all what does sex matter after we are both of us goneلڑکی یا لڑکے کا کیا فائدہ جب ہم دونوں اس دنیا سے جا چکے ہوں گے۔فقرے کے ایک ایک لفظ سے لارڈ کرزن کی مایوس نفسیات کو چھپانے کی کوشش عیاں ہے۔ مایوسی کے عالم میں شائد لفظ ہی ہمارا واحد سہارا بچ جاتے ہیں۔
شام کے سائے ڈھلنے لگے ۔ لارڈ صاحب کی اولاد کی تفصیل نے مجھے اپنے ایک جگری یار کے دکھ یادکروادیئے۔ اس کی شادی ہوئی قدرت نے اپنی رحمت پہلی بیٹی کی صورت میں نچھاور کی تو اس کے تمام گھروالوں کے منہ بن گئے ۔دوسری دفعہ امید لگی پھر سے اوپر والے نے اپنی رحمت کی تو اب کی بار پورے خاندان والوں نے دونوں میاں بیوی کو طعنے مار مار کر ادھ موا کردیا ۔میں نے دوسری دفعہ بھی تسلی دی ۔ تسلی اور امید کے سوا میرے پاس دینے کو کچھ تھا بھی نہیں کیونکہ اس جاہل معاشرے کے پریشرز کے سامنے ٹک جانا کوئی آسان کام ہرگز نہیں ۔ تیسری دفعہ پھر رب تعالی نے امید جگائی دونوں میاں بیوی کی حالت لارڈ اور لیڈی کرزن سے قطعی مختلف نہ تھی دونوں دن رات دعاؤں میں مگن تھے اوپر والے نے تیسری دفعہ بھی ان پر اپنی نعمت کے بجائے رحمت نچھاور کی۔ اس دفعہ میرے یار نے بھی روایتی پاکستانی مرد ہونے کا ثبوت دیا۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد موصوف تین دن تک گھر نہ گئے ۔ بڑا سمجھا بجھا کر موصوف کو گھر بھیجا۔ پورا خاندان طعنے دے کر مارنے پر تلا ہوا تھا۔چوتھی دفعہ دونوں میاں بیوی مایوس ہو کر خاندانی منصوبہ بندی پر مکمل طور پر عمل پیرا تھے۔ میں نے سمجھایا کہ یار ہو سکتا ہے اس دفعہ اوپر والے نے تم کو اپنی نعمت سے نوازنا ہو اور تم ہو کہ مایوس ہو بیٹھے ہو۔خدا نے دونوں میاں بیوی کی سن لی اور چوتھی مرتبہ اولاد نرینہ عطا کردی ۔زمانے نے میاں بیوی کو اتنا تنگ کیا تھا کہ انہوں نے بھی بیٹے کی پیدائش کے بعد اترا اترا کر چلنا شروع کردیا ۔طعنوں کی جتنی اینٹیں ان کے صحن میں لوگ ڈھیرکرگئے تھے وہ سب انہوں نے سود کے ساتھ واپس لوٹانا شروع کردیں۔ میرے سمجھانے کی جگہ باقی نہیں تھی ۔پڑھا لکھا پنجاب کسی نے غلطی سے نعرہ لگا دیا باقی تو یہ کڑھا ہوا پنجاب ہے ۔ہم سب فارغ التحصیل ہیں ابوجہل کا تو نام بدنام ہے۔ میرے ایک کزن امریکہ میں رہائش پذیر ہیں ان کے ہاں پہلی بیٹی پیدا ہوئی تو ان کی خواہش تھی کہ دوسری اولاد بھی ان کے ہاں بیٹی ہی پیدا ہو۔ اس دن مجھے پتا چلا کہ اب گورے بدل چکے ہیں وہ دور گزر گیا جب لارڈ اور لیڈی محترمہ اولاد نرینہ کی آرزو میں گھلے جارہے تھے اب وہاں کسی کو کسی کی اولاد کی جنس سے سروکار نہیں ۔ ہر کوئی اپنی زندگی میں مگن ہے ۔لیکن ہم اب تک جہالت کے سمندر میں ڈبکیاں کھاتے پھر رہے ہیں۔مسلمان تو ہم نام کے رہ گئے ہیں ابھی ان Couplesکی زندگی کی مایوسیوں کے بارے میں آپ نہ پوچھیں کہ جن کے ہاں اولاد ہی نہیں۔ ان کو دن رات جو ٹارچر سوسائٹی کی طرف سے ملتا ہے اس کا تصور بھی محال ہے۔ نمونے کے طور پر سن لیں کہ ان کو کوئی جڑ کٹا کہتا ہے تو کوئی Impotentغرض جتنے منہ اتنے نام۔اولاد والدین کی زندگی میں ایک Activityمصروفیت بن کر آتی ہے اس کا تعلق جنس سے نہیں ہوتا ننھے معصوم قہقہے جنس سے بالا تر ہو کر زندگی میں ہر طرف خوشیاں لاتے ہیں۔ رہا نام تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ آپ کو اپنے پردادا کا نام یاد ہے ۔ جائیے کسی سے ذرا پوچھ کر دیکھیں کتنے گھر ہیں کہ جن میں فیملی ٹری کا چارٹ بنا ہوا ہے اور ڈرائنگ روم میں آویزاں بھی ہے۔زندگی کا گول چکر ہے بچے جوان ہوئے ماں باپ بوڑھے ہوگئے۔ بچوں کے بچے جوان ہوگئے تو دادا دادی زندگی کی حد پار کرگئے ۔ازل سے یہ سائیکل چل رہا ہے اور ابد تک چلتا رہے گا ۔جانے کے بعد بس بے نام کتبے اور خشک قبریں رہ جاتی ہیں ۔ یہی زندگی کا افسانہ ہے ۔ بات کہنے کی حد تک تو کافی آسان ہے لیکن سمجھنے کے لئے خاصی مشکل ہے ۔ یہی بات اگر ہم شعوری طور پر سمجھ لیں تو یقین مانئے کہ دنیا کا آدھا مسئلہ حل ہوجائے۔ فنا کا شعور پیدا ہوجانے کے بعد پکڑوپکڑو کا خاتمہ یقینی ہو جاتا ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ کسی چیز کو پانے کا کیا فائدہ جب چند روز چند سالوں بعد اس کو چھوڑ کر چلے ہی جانا ہے تو اس کے اندر ظلم اور فساد کرنے کی ہمت تک ختم ہوجائے ۔ یہاں پانے اور نہ پانے میں ،پا لینے اور کھو دینے میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ یہی اس دنیا کی حقیقت ہے ۔ہم دوسروں کی عظمت کے میناروں کو توڑ کر اپنی عظمت کے گنبد تعمیر کرنے میں زندگی بھر مگن رہتے ہیں اسی نفسا نفسی میں وہ دن آ جاتا ہے کہ ماضی اپنے آپ کو دہراتا ہے۔ ہماری اپنی عظمت کا گنبد اس طرح زمین بوس ہو جاتا ہے کہ اس کی ایک اینٹ تک باقی نہیں رہتی ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے
” We all think that nothing will happen to us but with merciless equality the death list shatters all our hopes”

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button