تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

عالمی دنیا کو بھارت کا اصلی چہرہ دیکھا جائے

mirz arifوقت اتنی تیز ی سے گزر رہا کہ اپنے پیچھے سب کچھ ختم کرتا جا رہا ہے انسانی زندگی کو مسلسل مشکل سے مشکل کرتا جارہا ہے آج بھی اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم آج بھی وہی ہیں جہاں پہلے تھے پورے ملک میں افراتفری کا عالم ہے پاک آرمی اگر دہشتگروں کو ختم کرنے کا ازم رکھتی ہے ملک پاکستان میں اُس سے بھی بڑی دہشتگردی ہو نے خدشہ ہے یہ دہشتگردی بھی کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کر رہا ہے پاکستان میں آبی دہشتگردی بہت جلد ہونے والی ہے وطن عزیز کے چیف آف ارمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی توجہ جس طرف دلانہ چاہتا ہوں یہ ایک ایسی دہشتگردی جس سے آنے والی نسلیں ختم ہو نے کا خدشہ ہے اور معاشی قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا ہے ۔ پاکستان کی معیشت کو ختم کیا جانے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے حکومتوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ کچھ کر سکے ایوانوں میں موجود ممبر وزیر بھی چپ چاپ ہیں حکومت کے ممبرانوں کو وزیراعظم کی صحت خیال ہے بہت شرمندگئی کی بات ہے جب یہ علم ہوا کہ پنجاب کہ وزراعلی کے لیے تین ارب کا روپے خصوصی طیارہ خریدنے کا پنجا ب اسمبلی نے بل منظور کر لیا جنوبی پنجاب چاہیے سیلاب میں ڈوب جائے جانور سیلاب کے نظر ہو جائے پھر بھی تین ارب کا بل منظور کر کیا جا رہا ہے ۔اگر علم نہیں ہے تو ملک میں ڈیم بنانے کا نہیں ہے علم نہیں ہے توآبی دہشتگردوں کا نہیں ہے ۔ملک میں جب بھی سیلاب آتا ہے اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لیے جاتاہے ہر سال دریا کے بند خستہ حالت میں ہو تے ہیں لاکھوں ایکڑ ارضی پرکھڑی فصلوں کو نقصان ہو تا ہے جنرل راحیل شریف اور پاک ارمی سے اتنی گزرش ہے کہ بھارت جو کر رہا ہے سب کچھ اپ کے علم میں ہوگا ایٹمی جنگ بھارت ہم سے نہیں کرسکتا لیکن بے غیرتی کی جنگ ضرور کر سکتا ہے پاکستان میں آنے والے پانی کی روک تھام کے لیے بھارت شرمناک حد تک جا سکتا ہے جس طرح کا رویہ پاکستان کے ساتھ اس وقت بھارت کا ہے اس کا علم موجودہ حکومت کو اچھی طرح ہے بھارت افغانستان کے دورے اس لیے کر رہا ہے کسی طرح دریا کابل کا پانی پاکستان کی طرف نہ جا سکے دریا کابل اور اُس کے معاون دریاوں پر ڈیم تعمیر ہو جائیں تو اس سے پاکستان کی معیشت ختم ہو جائے گئی کابل دریا سے پاکستان میں آنے والا پانی تقریبا71لاکھ ایکڑفٹ ہے اگر کابل دریا کا پانی بند کردیا گیا اس سے پاکستان کو ہر سال پانچ لاکھ ایکڑ فٹ پانی کم ملے گا جس کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخوا کی زراعت کو شدید کو نقصان ہو گالاکھوں ایکڑاراضی بنجر ہو سکتی ہے بھارت کا پاکستان معیشت پر خطرناک حملہ ہو گا یہ حملہ دہشتگردی سے بھی بڑ ا حملہ ہو گا ۔بھارت کے انجےئنروں اور آبی ماہرین نے افغانستان میں دریائے کابل اور اس کے معاون دریاؤں پر بارہ مقامات پر بڑے ڈیم کی فیزیبلٹی رپوٹ مکمل کر لی ہے اس پر کام شروع کرنے کے لیے بہت جلد کابل حکومت بین الاقوامی ٹینڈر جاری کرنے والی ہے جبکہ عالمی بنک نے سات ارب ڈالر سے زیادہ دینے کی حامی بھی بھر لی ہے منصوبہ مکمل ہو نے کے بعد افغانستان میں 1177 میگاواٹ بجلی پیدا ہو نے لگی گئی ، افغانستان وہی بجلی پاکستان کو فروخت کرے گا افغانستان ہمارے حصہ کا پانی بھی ہضم کرنا چاہتا ہے افغانستان اور بھارت دونوں مل کر پاکستان کا معاشی قتل کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ابھی تک اس طرف حکومت توجہ نہیں دے رہی بھارت ایک عرصہ سے دریاستلج پر ڈیم بنا کر اُس کا پانی ہڑپ کر رہا ہے اب دریا چناب پر تین ڈیم اور بنا نا چاہتا ہے بھارت اور افغانستان دونوں عالمی قوانین کی پابند ی نہیں کر رہے دریا چناب کا پانی جنوبی پنجاب کے لاکھوں ایکڑ پر کاشت کے کام آتا ہے اس لیے دریاں چناب کو اہم سمجھا جاتا ہے جنوبی پنجاب سے ہوتے ہوئے دریاں چناب دریا سندھ میں جاکر گرتا ہے بد قسمتی یہ ہے کہ لاکھوں کیوسک پانی لاوارثوں کی طرح سمندر کی نظر ہو جاتا ہے جس طرح کی سوچ پاک ارمی کی ہے اگر ملک میں اور ڈیم تعمیر ہو جاتے تو معیشت مزید ترقی کر جائے گئی اور ملک خوشحال ہو جائے گا پاکستان اور افغانستان میں مشترکہ (نو) دریا ہیں ان سب کا پانی ملا کر تقریبا 18.3ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے چترال کا پانی تقربیا8.5ایکڑفٹ ہے انٹر نیشنل کنونشن اور قوانین کے مطابق پاکستان دریا کابل سے 17ملین مکب فٹ ایکڑ پانی حاصل کرنے کا حقدار ہے عالمی قوانین کے تحت اس ملنے والے پانی پر کسی قسم کا ڈیم بنانے کے لیے پہلے پاکستان کو تفصیل سے فراہم کرنے کا پابند ہو گا لیکن افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر منصوبہ تیار کرنے لگا ہے اور عالمی قوانین کو بھی نہیں مان رہاحکومت کو ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہوگا کون سی ایسی بات ہے کہ انٹر نیشنل قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پوچھا تک نہیں افواج پاکستان اس طرف توجہ دے اور اپنے ملک کی معیشت کو بچا لیے آبی دہشتگرد بھارت کو اس کے ناپاک عزا ئم سے دور رکھے۔ اور عالمی دنیا کو بھارت کا اصلی چہرہ دیکھا جائے یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا پاک ارمی ہی کر سکتی ہے وطن عزیز کو جہاں ہر طرف سے محفوظ کیا جا رہا ہے ویسے ہی معاشی قتل سے بھی محفوظ کیا جائے پوری دنیا کے تمام ممالک اپنے ملک کی ترقی کے بارے میں سوچتے ہیں ایک ہم ہیں کہ ہمارا ملک اب تک پانی سٹور نہیں کر پایا نہ ہی اپنے حصہ کا پانی بھارت سے واپس لیے آیا ہے پاکستان کے دریا حکومت کو آواز ے دے رہے ہیں اور کہے رہے ہیں دریاوں کی سوکھی ریت پھر کب نم ہوگئی بھارت جب بھی پاکستان کا نقصان کرنا چاہتا ہے اپنے ملک سے اضافی پانی کا رخ موڑ دیتا ہے اچانک پانی کا آجانا اور ڈیم کا نہ ہونا نقصان کا باعث بنتا ہے جہاں اپ اتنا کچھ ملک کے لیے کر رہے ہیں واہاں ڈیم کے بارے میں ضرور اقدام کریں ؟

یہ بھی پڑھیں  پشین: ہندو برادری کے دو خاتون سمیت تین افراد نے اسلام قبول کرلیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker