حکیم کرامت علیکالم

عالم کائنات اور انسان

آسمان و زمین کا خوب صورت منظر جسے ہم ارد گرد دیکھتے ہیں ۔خود ایک عظیم فن کار کی تخلیق ہونے کا ثبوت دیتا ہے ۔ کائنات میں نظم و ترتیب کا یہ وجود جس کا موجودہ سائنس سے پتہ چلتا ہے ایک اعلیٰ و ادنیٰ قوت اور ذہن پر یقین کرنے کی طرف رہ نمائی کرتا ہے جو اس سے چیدہ اور منظم نظام کا ضامن ہے گویا اس سے ایک ما فوق و الفطرت ہستی کا ثبوت ملتا ہے جس نے کائنات کو وجود اور حیات و نشونما کے لوازمات سے نوازا ۔قرآن پاک کے الفاظ میں اسی کا نام رب العالمین ہے سائنس کے مطابق کا ئنات مختلف اجزا کا ایسا مرکب ہے جس کے تمام حصے خوب صورتی اور توازن کے ساتھ باہم متعلق ہیں ۔ علاوہ ازیں یہ کائنات قانون کی ایک مملکت ہے جس میں ہر زرہ قانون کے مطابق طے شدہ اور مستقل راستے پر چلتا ہے ۔فضائی سیاروں سے لے کر ساحل سمندر کے زرات ریگ تک کوئی بھی اس راستے سے انحراف نہیں کر سکتے ۔ا ن کی زندگی سائنس کے مطابق قوانین فطرت اور مذہب کی زبان میں قوانین خدا کی پوری طرح تابع ہے ۔قوانین خدا کی متابعت اور پابندی دوسرے الفاظ میں وہ مسلم ہیں قرآن حکیم ۔
سورہ ال عمران ۔اور اس کے حضورگردن رکھے ہیں جو کوئی آسمان میں ہے اور زمین میں ہیں خوشی سے یا مجبوری سے اور اسی کی طرف لوٹیں گے
اس عام اصول سے مستثنیٰ ہے تو صرف انسان وہ عالم تخلیق میں اس حد تک واقع ہے ۔مثل ہے کے اسے عقل اور قوت ارادی بھی دی گئی ہے نتجتاً اس کے کردارو عمل کی راہیں غیرمتعین ہیں ۔اب سورج کے کاکی تو پیشن گوئی کر سکتے ہیں ۔کیونکہ کے وہ اٹل قانون کے ما تحت کام کرتا ہے اور اس سے ہٹ نہیں سکتا مگر انسان کی بابت کوئی پیشن گوئی نہیں کر سکتے۔اس کے سوا کائنات کی ہر چیز مشینی انداز سے چلتی ہے مگر انسان اپنے مقاصد کا انتخاب اور انہیں حاصل کرنے کے ذرائع اپنی مرضی کے مطابق اختیار کر سکتا ہے لہذا وہ عقل پر بھرسہ کرتا ہے ۔لیکن اس سلسلے میں بڑی بڑی چیزیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ غلطیاں بھی کرتا ہے اور بالاخر پریشانیوں میں گھر جاتا ہے ۔وہی قوت یا حس جو فیصلہ کرنے میں اس کی مدد گار تھی غلط استعمال کی بنا پر آلہ تخریب بن جاتی ہے ۔انسانی ذہن صرف مخصوص حدود تک اس کا راہ نمائی کر سکتا ہے کیونکہ انسان حقائق معلومہ کی بنا پر نا معلوم چیزوں کو دریافت کرنا چاہتا ہے یہ زہن کسی حد تک طبعی اور ظاہری حقائق کے میدان میں کامیابی سے کام کر سکتا ہے مگر جب صداقتوں کی تحقیق کرنے لگتا ہے جہاں ماضی حال اور مستقبل کے علم کی شدید ضرورت ہے تو یہ ذہن سوائے اندازہ کرنے اور نتیجہ نکالنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا گویا فطرتًا ہی یہ انتہائی حقائق کو دریافت کرنے سے عاجز ہے ۔بہر حال روح انسانی ان انتہائی حقیقتوں کو جاننے کی زبردست خاہش مند ہے کیونکہ ان کے بغیر زندگی کا اصل مقام غیر واضع اور انسانی کوششوں کا صیحی ضابطہ غیر متعین رہتا ہے ۔اور بلکل ظاہری طبعی حقیقت سے ہے اسی طرح فلسفہ بھی اسے بہم پہچانے سے عاجز ہے ۔کیونکہ اس کی بنیاد صرف معقولوں اور نتیجوں پر ہے ۔
انبیا ئ علیہ لسلام کی بعثت کا مقصد جہاں انسان کی روح اس غیبی بلندو بالا ہستی سے راہنمائی کی درخواست کرتی ہے اور اس کو روشنی کے لیے مشعل راہ کی اور یقینی علم پر مبنی راہنمائی کے لیے کسی رہ نما کی ضرورت ہے انسانیت کو یقینی مثبت اور جامع رہ نمائی کی ضرورت ہے تو اسی خالق ِکریم نے جو ہماری اور کائنات کی طبعی ضرورتیں پوری کرتا ہے اس شدید ضرورت کا پورا کرنا اپنے ذِمہ کرم پر لے لیا ہے ۔انسانی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کے مذہب حیاتِ انسانی کے آغاز ہی سے دنیا ں میں چلا آیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کے رب کریم نے بنی آدم کو ہدایت و تخلیق سے بہ یک وقت مشرف فرمایا تاکہ اسے ٹھوکریں نا کہانا پڑے قوانینِ فطرت کے مطابق چل سکے ۔ایسے عظیم الشان افراد جنہیں رب تعالیٰ نے خلقت کی حدایت کے لیے مقرر فرمایا مذہب کی اصطلاح میں رسول یا پیغمبر کہلاتے ہیں ۔انہوں نے خود تو وحی الٰہی کی شکل میں وہ رہ نمائی حاصل کی اور انہوں نے اسے تحریری صورت میں عوام پر پیش کیا الہامی کتاب میں وہ قوانین بیان کیے گئے ہیں جنہیں کائنات کے خالق وقیوم صیح زندگی کے لیے بنایا ہے۔اس ہدایت کا مقصد ِواحد قوانین ِالہٰی کی اطاعت سکھانا ہے اور اسی کو عربی زبان میں اسلام کہتے ہیں اس راہ نمائی کا مطلب یہ ہے کے انسان آزاد ہو کر بھی ویسے ہی اپنی اصلی فطرت کے مطابق عمل و رویا اختیار کرے جیسے باقی مخلوق قوانین فطرت کے مطابق مشینی انداز میں کام کرتی ہے ۔لفظ ِمسلم کا مفہوم ہے قر آن پاک کے ارشاد کا مفہوم ہے : فطرت جس میں خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے اسی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے خدا نے اس ہدایت کو کسی خاص گروہ یا قوم تک محدود نہیں رکھا بلکہ سب قوموں نسلوں پر ہدایت پیش کی گئی خدا کی یہ نعمت سب کو عطا کی گئی ۔تاریخ نے ان سب یادوں میں چند ہی کے اسمائے گرامی محفوظ رکھے ہیں ۔سب سے آخری رسول امام کائنات علیہ السلام نے ساتویں صدی عیسوی میں معبوث ہو کر انبیا ے سابقین علیہم اسلام کے بتائے ہوئے راستہ کی طرف بولایا اور دنیا کو قرآں کریم جیسا عظیم اور قوانین حیات مکمل زابطہ حیات جیسی کتابِ مقدس دی ۔جس میں سابقہ انبیائ علیہم السلام کی تعلیمات کامل اور جامع ترین شکل میں پیش کی گئی ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی زیادہ راہ نمائی حاصل کر لینے کے بعد انسانوں کی ذہنیت کہا ں تک رسائی حاصل کرتی ہے ۔ کیا اپنے مرتبہ کو جان پاتا ہے یا نہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا بہت زیادہ افضلیت دی ۔کیا آج انسان انسان کا رہبر بنا انسان کا ہمدرد بنا یا تعصب پرستی کا شکار ہو کر انسانیت کے لیے سمانِ موت تیار کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہے ۔اپنے زیادتی مفاد کی خاطر انسانیت کو بھولا بیٹھا ہے کیا یہ انسانیت ہے ؟ یا انسانیت کی تذلیل ہے ؟ انسانیت تمام تر تعصب پرستی مسالک پرستی سے مبرا ہے اس کے ذمے انسانیت کی خدمت خلوص و محبت کی فضا ئ قائم کرنا ہے ۔اعلیٰ و ادنیٰ کے امتیاز کو ختم کر کے مساوات کو قائم کرے ۔ایک انسان دوسرے کا استحصال نا کرے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کے ہمارے معاشرے میں مثبت انقلاب آئے تو اس کے لیے ضروری ہے کے انسانیت کے تمام تقاضوں کو جان کر ان پر پورا اترا جائے ۔جب ہم امیر غریب کے امتیاز کو اپنے ذہن کی حدود سے دور رکھیں گے اور ہر ایک کو اپنے ہی جیسا سمجھیں گے تو معاشرے میں امن کی فضا ئ قائم ہو گی ۔آج دنیا میں امن سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے مگر ہوتا کیا ہے ؟کے ایک ہی گروہ کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں ۔آج سے چودہ سو سال پہلے امام الانبیائ ö نے مدینہ کے لوگوں کو اکٹھا کر کے خطاب ِامن فرمایا ۔سب سے پہلے آپ ö نے سلام کے بارے میں حکم دیا ۔آپö کا مدینہ میں پہلا خطاب مکمل اصلاح معاشرہ پر مبنی تھا جس میں کسی خاص قوم یا قبیلے کو مخطاب نہیں کیا گیا تھا بلکہ تمام انسانیت کو امن و امان خلوص وپیار ایثار کا درس دیا گیا تھا اور نتیجتاً ایک حقیقی امن اور خلوص کی فضائ قائم ہو گئی ایک پر امن ریاست کی بنیاد پڑ گئی ۔ہم پر فرض ہے کہ ہم بھی اسی طرح کے انقلابات برپا کرنے کی تگ و دو کریں نہ کہ کسی خاص گروہ یا تنظیم کے لیے اپنا وقت بربادکریں ۔اللہ تعا لیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

یہ بھی پڑھیں  رمضان کی آمد آمد

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker