شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / عالمی اِنصاف کا تقاضہ.؟

عالمی اِنصاف کا تقاضہ.؟

Azam Azim Azamلگتاایسے تھا کہ جیسے والٹئیر کو ہمیشہ ہی سے اِس بات سے چڑھ تھی اوروہ اِس کاا کثر مواقعوں پر اظہار بھی کیاکرتاتھااِس کا کہناتھا کہ’’ مجھے دنیا کی دوچیزوں سے سخت نفرت ہے ایک یہ کہ کسی جاہل سے دشمنی کرنااور دوسرے کسی اَن پڑھ سے بحث کرنا‘‘وہ ایسااِس لئے کہاکرتاتھا کہ اِس کے نزدیک اِن دونوں فعل میں مبتلارہنے والے شخص کی مثال ایسی ہی ہے جیسے اِن کاموں کا بیڑااُٹھانے والا اپنے ہی ہاتھوں خود پاگل بننے کا بندوبست کرلے۔
یہاں میں اپنے متعلق آپ کو یہ بتاتاچلوں کہ میں والٹئیر کے اِس قول سے پوری طرح متفق ہوں کیوں کہ میرے مشاہدے میں بھی یہ بات باکثرت آئی ہے کہ جو لوگ کسی جاہل سے دشمنی اور کسی اَن پڑھ سے بحث کرتے ہیں وہ اپنی ایسی بہت سی ظاہری و باطنی صلاحتیوں سے محروم ہوئے ہیں جو اِنہیں پیدائشی طور پر ربِ کائنات نے عطاکی ہوئیں تھیں مگر پھر بھی اِس موقع پر میں اتناکہناضرور چاہوں گاکہ ضروری نہیں ہے کہ آپ والٹئیراور میرے مشاہدے سے اتفاق کریں جبکہ آج میرے نزدیک دنیاکے جتنے بھی معاشرے جہاں کہیں بھی موجود ہیں اور یہ اپنے اپنے نظریات پر قائم رہ کر جن طریقوں سے اپنا نظام چلارہے ہیں ا وراُوج ثریا کو چھورہے ہیں اور اِس پریہ سب اپنے اپنے لحاظ سے خود کو درست بھی قراردے رہے ہیں مگر اِن تما م باتوں کے باوجودمیں یہ سمجھتاہوں کہ دنیا کے موجودہ حالات کے تناظر میں اگر دیکھاجائے توآج دنیا کے خطوں اور اِن کے معاشروں میں جتنی بھی اخلاقی ، سماجی، سیاسی اورمذہبی سمیت دیگرحوالوں سے جو بھی خرابیاں اور برائیاں موجودہیں اِن سب کے درپردہ یہی دوعناصر ہیں جن سے والٹئیرنے ہمیشہ نفرت کی تھی مگر مجھے یہاں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہاہے کہ والٹیئرجس معاشرے کا فرد تھا وہ اپنے معاشرے کے لوگوں کو اپنے خیالات اور افکار سے اپناقائل نہ کرسکااگرچہ آج اِس کے معاشرے کا ہرفرد خود کو ترقی اور تہذیب یافتہ توضرورگردانتاہے مگر یہ نرے جاہل کے جاہل ہیں اور شایدیہی وجہ ہے کہ والٹئیرکے خطے یورپ اور اِس کی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والا ہر جاہل دوسرے جاہل سے بحث و تکرار کو اپنی دانش کا ضامن اور دشمنی کے بڑھتے گراف کو اپنی مقبولیت اور کامیابی کا زینہ سمجھتاہے ۔
کیا یہ خود کو تہذیب یافتہ اور اِنسانی اقدار اور حقوقِ انسانی کا بڑاعلمبردار کہلانے والے ا مریکا اور یورپ کے لوگوں کی ہٹ دھرمی کا عکاس نہیں ہے کہ پورے یورپ میں ایتھنز ہی ایک واحد دارالحکومت ہے جہاں مسلمانوں کومذہبی آزادی حاصل نہیں ہے کیوں کہ یہاں کے مسلمانوں کی مذہبی عبادات کے لئے کوئی مسجد نہیں ہے جبکہ اِس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ موجودہ دنیا کے لئے انتہائی افسوسناک لمحہ فکریہ بھی تو نہیں ہے کہ ایتھنز کے مسلمان 180سال یعنی دوصدی کے لگ بھگ کے عرصے سے ایتھنز میں مسجد کی تعمیر کے منتظر ہیں ایتھنز کے مسلمانوں سے یہ زیادتی والٹیئرجیسے فلسفی کے خطے اور معاشرے سے تعلق رکھنے والے جاہل افرادمحض اپنی جہالت کی بِنا پر مسلمانوں سے ایسا قابل مذمت سلوک روارکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ آج ایتھنز کے مسلمانوں نے اپنی مذہبی عبادات اور نماز کی ادائیگی کے لئے شہر کے پاس فوج کے لئے مخصوص ایک غیر استعمال شدہ جگہہ کو اپنے تئیں500نمازیوں کے لئے پہلی مسجد کے طور پر ضرور منتخب کررکھاہے مگر اِس پر بھی عیسائیت کے پیروکاروں کا یہ کہنا ہے کہ اگراِس مقام پر مسلمانوں کی عبادات کے لئے باقاعدہ کوئی مسجدتعمیرہوئی تواِس کے دروازے کے پاس چرچ بھی ہوگاجس پر آنے جانے والوں کی نظرپڑسکے گی۔
جبکہ اِ س ساری صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے برطانوی میڈیاکایہ کہناہے کہ یونان اِس وقت مالی مشکلات سے دوچار ہے اور اِس کے لئے مسجدکی تعمیر کے لئے 13لاکھ ڈالرکا اعلان کرناکوئی اتناآسان کام بھی تو نہیں ہوگا..؟مگراِن تمام باتوں کے باوجود ایک انتہائی خوش آئندامر یہ ہے کہ یونان کے ترقیاتی امورکی وزارت کے سیکریٹری سٹراتسوسموپولس نے کہاہے کہ ایتھنز کے مسلمانوں کے مسجدکی تعمیرکا180سالہ دیرینہ مطالبہ درست ہے جنہیں عنقریب اِن کی منزل مل جائے گی اور ممکن ہے کہ ہم ایتھنز کے مسلمانوں کے لئے آئندہ چندہ ماہ میں مسجد کی تعمیر کا باقاعدہ عمل شروع کردیں اور اِس طرح دوسری جانب ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اِس حوالے سے یونان کے مرکزی چرچ نے بھی ہِچرمِچر کے بعد مسجدکی تعمیر کے منصوبے کی حمایت تو ضرورکردی ہے مگراِس پربھی بعض سینئر قدامت پسندمخالف ہیں جو اِس عمل میں رخنہ ڈالنااپنا مذہبی فریضہ سمجھ رہے ہیں اِس حوالے سے چرچ کے ایک سینئرقدامت پسند بشپ سیرافم نے اپنی پُرزورمذمتی فہم میں یہ موقف اختیار کررکھاہے کہ ترکی کے دوراقتدار میں یونان نے 5صدیوں تک اسلامی ظلم برداشت کیا اور مسجد کی تعمیرسے اِن شہیدوں کی توہین ہوگی جنہوں نے ہمیںآزادی دلائی تھی اسی طرح ایک عیسائی طالب علم ماریو کا یہ کہنا ہے کہ’’چونکہ یہ خالصتاََ عیسائیوں کا ملک ہے اگر مسلمانوں کو اپنے مذہبی عبادات کے لئے کوئی مسجد چاہیے تو وہ فوری طور پر اپنے کسی مسلم ملک کو واپس چلے جائیں ‘‘ اَب اِس سارے منظر اور پس منظر میں میراخیال یہ ہے کہ عالمی انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ آج بین الاقوامی سطح پر یہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ ضرورہموار ہونی چاہئے کہ ہیتھنز کے مسلمانوں کے لئے اِن کی مذہبی عبادات کے لئے ہر حال میں مساجد کی تعمیر ایسے ہی یقینی بنائی جائے جیسے کہ یونان سے نقل مکانی کرنے والے عیسائیوں نے بھی دنیا کے ہرخطے میں آباد ہونے کے بعد اپنی مذہبی عبادات کے لئے چرچ تعمیر کئے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایتھنز کے سینئرقدامت پسندبشب سیرافم اور ماریو جیسے تنگ نظر لوگ ایتھنز میں مسلمانوں کے اپنی عبادات کے لئے مسجدکی تعمیر کے 180سال سے جاری مطالبے کی کیوں مخالفت کررہے ہیں …؟؟

یہ بھی پڑھیں  دیپالپور:عوام کے مسائل کا حل میری اولین ترجیح ہے ،فخرمسعود

note