شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / عالمی رپورٹ یا پاکستانی قوم کے ساتھ بھونڈا مذاق

عالمی رپورٹ یا پاکستانی قوم کے ساتھ بھونڈا مذاق

گھر بیٹھا ایک معروف نجی نیوز چینل پر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی طرف سے پاکستان ہیومن ڈویلپمنٹ 2017 کی جاری کردہ رپورٹ پر ایک جاننے والے ممتاز صحافی کو دیکھا جو پاکستان میں دودھ کی نہریں بہنانے والی اس رپورٹ پر زمین آسمان ایک کر رہے تھے یہ سب دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا ،یہ رپورٹ جو پاکستانی قوم کے ساتھ کسی بھونڈے مذاق سے کم نہیں کے مطابق قومی ترقی کے اعتبار کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ پنجاب ہے بہتر معیار زندگی کے لحاظ سے بھی پنجاب سب سے آگے ہے رپورٹ کے مطابق یہ شرح پنجاب 83فیصد،سندھ 67.6فیصد،خیبر پختونخواہ 67.1اور بلوچستان میں 33.9فیصدہے،اسی رپورٹ میں صحت کی سہولتوں کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے جاری تناسب کے مطابق پنجاب 78،خیبر پختونخواہ میں 73ہے،پنجاب میں انسانی ترقی کے تصور کو عملی جامہ پہنچا دیا گیا ہے جبکہ خیبر پختونخواہ ناکام رہا،پاکستان میں شرح خواندگی کا تناسب 70فیصد تاہم میٹرک سے اوپر تعلیم جاری رکھنے والے افراد کی تعداد انتہائی کم ہے ،حیرت انگیز طور پر 57فیصد افراد نے کبھی کوئی کام نہیں کیا جنہوں نے کبھی نوکری نہیں کی ،کام کرنے والوں کی شرح صرف39 فیصد جن میں محض7خواتین شامل ہیں،52فیصد آبادی جدید مواصلاتی سہولیات سے محروم ہے مطلب 48فیصد افراد کے پاس موبائل ہیں،رپورٹ مزید کہتی ہے کہ پاکستان نوجوان آبادی والا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں 64فیصد آبادی 30سال سے کم عمر پر مشتمل ہے آئندہ پانچ سال میں 45لاکھ ملازمتیں پیدا کرنی ہوں گی،اقوام متحدہ کے ادارے نے اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لئے 1لاکھ30ہزار افراد سے رائے لی،الراقم جب نیوز چینل پر اس رپورٹ کے حوالے سے مدح سرائی سن رہا تھا اسی وقت چند دوست آئے تو باہر جانا پڑا گھر سے محض100میٹر پر دیکھا کہ ایک شخص سخت گرمی میں گندگی کے ایک ڈھیر سے کچھ چیزیں تلاش کر رہا تھا یہ واقعہ ماضی کے کسی مشاہدے ،واقعہ ، تجزئیے یا تحریر کا پیٹ بھرنے کے لئے نہیں لکھ رہا حقیقت میں ایسا تھا اور ایسا روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے کونے کونے میں نظر آتا ہے ،جب ہم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا تو ریسرچ میتھڈ کے حوالے سے بھی ایک مضمون شامل تھاہمیں بھی علم ہے کہ بہترین اور صاف شفاف ریسرچ یا سروے کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے ،اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی اس بھونڈی ریسرچ یا سروے کی طرح نہیں جہاں بدترین معیار زندگی کو بہترین معیار زندگی کے ساتھ تشبیع دی گئی ہے یہ بات تو مانی جا سکتی ہے کہ دیگر صوبوں کے بر عکس پنجاب میں کسی حد تک بہتری ہے کیونکہ ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ وفاقی فنڈز یہاں صرف ہوئے ، مگر یہ بھی نہیں یہ بہتر معیار83کے اشاریے کو چھو رہا ہے،شرح خواندگی 58فیصد جو گذشتہ سال سے دو فیصد کم ہوئی ہے وہ 70فیصد تک پہنچا دی گئی ،خدا جانے یہ تحقیقی رپورٹ مرتب کرنے والوں نے سروے کہاں کہاں کیا؟ رپورٹ کے بیشتر حصہ سے لگتا ہے جیسے یہ رپورٹ بحریہ ٹاؤن یا اس کی طرز کے پوش علاقوں میں سروے سے پایہ تکمیل تک پہنچی ،اس رپورٹ کا بغور جائزہ لیا جائے تواس میں واضح تضاد نظر آتا ہے ،ایک طرف بہتر معیار زندگی کی مجموعی اوسط70کے لگ بھگ ہے وہیں52فیصد افراد اس دور میں بھی مواصلاتی سہولتوں سے محروم ہیں؟کام کرنے والے صرف39فیصد ہیں مطلب بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک ہے کیونکہ پاکستان کا شمار ان یورپی یا دیگر ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہوتا جہاں کام نہ ملنے کی صورت میں بھی وظیفہ سمیت تمام مراعات مل جاتی ہیں، کہا گیا آئندہ پانچ سال میں45لاکھ ملازمتیں قائم کرنا پڑیں گی جبکہ حقیقت یہ کہ اس وقت بھی ملازمت کے متلاشی افراد کی تعداد45لاکھ سے کہیں زیادہ ہے، ایک طرف پنجاب کو تو جنت نظیر بنا دیا گیا تودوسری طرف بلوچستان کے علاوہ دیگر صوبوں کے اعداد و شمار جو پنجاب کو بلند معیار پر رکھنے پر 60فیصد سے اوپر بتائے گئے وہ بھی زمینی حقائق کے بر عکس ہیں،اگر خیبر پختونخواہ اور سندھ میں انسانی معیار زندگی بالترتیب67.6اور67.1ایک فیصد ہے تو پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک کا درجہ ملنا چاہئے،اقوام متحدہ اور کسی کام کا نہیں رہا اب ایسی ہی رپورٹس جاری کرنا اس کام رہ گیا ہے پاکستان کے حوالے سے یہ رپورٹ کس نے جاری کروائی ،کس نے تیار کی ،کون اس کا ذمہ دار ہے ،یہاں تولوگوں کی اکثریت دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے یہاں اکثریتی آبادی کے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے نہ پینے کو،نہ تعلیمی سہولیات ہیں نہ صحت کی بلکہ ان دونوں بنیادی شعبوں میں تو ایسی حالت ہے جسے شرمناک صورتحال کا نام دیا جائے تو وہ بھی کم ہے،پاکستان کی کثیر آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ،ہسپتالوں کی حالت زار ایسی کہ بچے سڑکوں پر جنم لے رہے ہیں،تھرپارکر میں غذائی قلت اور بنیادی سہولیات کا اس قدر فقدان ہے کہ گذشتہ پانچ سال سے ہزاروں بچے آنکھ کھولنے کے بعد موت کی وادی میں اتر گئے،لاہور جہاں سب سے ترقیاتی فنڈز کا استعمال کیا گیا یہاں تک کہ شعبہ تعلیم و صحت کے فنڈز کو بھی معاف نہیں کیاگیا وہاں بھی صورتحال صرف میگا پروجیکٹ جن میں چند سڑکیں ،پل ،میٹرو، اورنج لائن شامل ہیں کہ علاوہ بد تر صورتحال ہے،صوبہ بھر میں نہ صحت کی سہولیات ،نہ تعلیم کی سہولیات،نہ پینے کو صاف پانی،نہ روزگار،نہ ملازمتیں،نہ مہنگائی پر کنٹرول،نہ لوڈ شیڈنگ پر قابو،نہ زراعت میں بہتری،نہ خالص ادویات،نہ امن و امان کی بہتر صورتحال،نہ بچوں کو تحفظ،نہ مناسب پبلک ٹرانسپورٹ اس طرح سینکڑوں ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق انسانی زندگی کے لئے بنیادی حیثیت کا حامل ہے جو یا تو ہیں نہیں اگر ہیں تو نہ ہونے کے برابر،پھر ترقی کیسی،زندگی کے معیار میں بہتری کیسی؟الراقم کو اس بات سے غرض نہیں کس صوبہ کو پہلے یا دوسرے نمبر پر ہونا چاہئے مگر پاکستانی قوم کو بہتر ہونا چاہئے چاہے وہ جہاں بھی رہ رہے ہیں،مگر 70سال پاکستان کے قیام کو گذر گئے مگر ابھی تک پاکستان یا پاکستانی قوم کی حالے نہ سدھر سکی الٹا قوم کو وطن کو قرضوں میں جکڑ دیا گیا ہے،واہ ترقی ایسی ہی رپورٹس کے ذریعے ممکن سہی چلو ایسے ہی ترقی ٹھیک ہے اس رپورٹ سے چند سو افراد(اشرافیہ)کو تو سکون ملا۔

یہ بھی پڑھیں  جوڈیشنل کمیشن کے قیام کے بعدتحریک انصاف اسمبلی میں جائے یا نہ جائے،فیصلہ آج ہوگا