بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

عام آدمی ’’دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا۔۔۔۔؟؟؟

جنوبی ایشیاء کے تین ممالک پاکستان ،بھارت اور بنگلہ دیش میں سیاسی تغیر و تبدل کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے ، پاکستان ،بھارت اور بنگلہ دیش میں پارلیمانی جمہوری نظام آب و تاب سے چل رہا ہے جس کی وجہ سے عوام میں جمہوری فکر اور شعوری اہلیت نے غلبہ پا رکھا ہے ،دنیا بھر میں جمہوری نظام کو پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے اس بیداری کے نتیجہ میں جنوبی ایشیاء کے ممالک میں ڈیموکریٹس کا رول نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان میں پی پی پی ،ن لیگ اور اب پی ٹی آئی بڑی جماعتیں تسلیم کی جاتی ہیں جبکہ بھارت میں کانگرس آئی،بی جے پی اور اب عام آدمی پارٹی ،بنگلہ دیش میں عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی قابل ذکر ہیں ،بھارت کی نسبت پاکستان اور بنگلہ دیش میں جمہوری نظام ارتقائی عمل سے گذر رہا ہے تاہم تینوں ممالک کے عوام جمہوری طرز فکر کو ملک و قوم کی سلامتی و استحکام کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔سیاست عوام کا پسندیدہ طرز زندگی ہے یہی وجہ ہے کہ سیاسی بالغ النظری میں وسعت اور بہتر آگاہی سے ہر شہری خبر دار ہے۔اسی سوچ و فکر کی لہر سے بھارت میں ’’عام آدمی پارٹی ‘ ‘ کے نام سے ایک سیاسی جماعت ابھر رہی ہے جس کی بنیاد بھارت کے عوام دوست رہنما ؤں انا ہزارے اور اروندکیجریوال نے اکتوبر ۲۰۱۲ء میں رکھی اور انتہائی مختصر مدت میں ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں کانگرس آئی اور بی جے پی کو شکست دیکر صوبہ دہلی میں واضح اکثریت حاصل کر کے حکومت بنا ڈالی ،حیران کن امر یہ ہے کہ پندرہ سال سے مسلسل وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز شیلا ڈکشت کو اروند کیجریوال نے شکست فاش دیکر حقیقی تبدیلی کا سنگ بنیاد رکھا۔یہ بھی حیران کن بات ہے کہ اروند کیجریوال جو انڈین ریونیو سروس انکم ٹیکس کمشنر آفس کے ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں ۔انہوں نے دوران سروس بھی عوام دوست پالیسی سے کئی اصلاحات کیں جس کی وجہ سے انہیں بہترین کارکردگی پر حکومت نے خصوصی اعزاز سے نوازا ۔عام آدمی پارٹی نے بر صغیر میں سیاسی ہلچل مچا رکھی ہے اس پارٹی کا عوام سے وعدہ ہے کہ وہ وی آئی کلچر کا خاتمہ، بجلی نرخوں میں میں پچاس فی صد کمی،سات سو لیٹر پانی ہر شہری کے لئے مفت ، بے گھر افراد کو مفت گھر ،سکولنگ سسٹم کی بہتری اور عام آدمی تک رسائی ، صحت کے حوالے سے ہر شہری کامفت علاج معالجہ اور کرپشن کے خلاف موثر عملی اقدامات کرنے شامل ہیں ۔عام آدمی پارٹی کی طرح پاکستان میں پی ٹی آئی نے بھی ملے جلے وعدے کئے ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر صوبہ پختونخوا میں اس پارٹی کو حکومت سازی کا موقع ملا جبکہ ایک در پردہ عوامی تحریک جو ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے نام سے سرگرم ہے اس کا مستقبل میں اہم سیاسی رول کا عندیہ دیا جاتا ہے ۔بہر حال سیاسی سفر میں جو حرکت شروع ہو چکی ہے اس سے بخوبی اندازہ ہو تا ہے کہ عوام روایتی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں ،ورنہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کو نئی سیاسی تحریکوں نے حیران کن طور پر چت کر دیا ، اگر چہ پاکستان میں پی پی پی ،مسلم لیگ ن اور بھارت میں کانگرس آئی اور بی جے پی کو پی ٹی آئی ،عام آدمی پارٹی سے خطرات لا حق ہیں کہ کہیں پورے ملک پر ان کی حکمرانی نہ ہو جائے اور کئی دہائیوں سے عوام پر حکومت کرنے والے اقلیت کا شکارنہ ہو جائیں ،قرین از قیاس ہے کہ اگر انہوں نے خیبر پختونخوا اور دہلی کی حکمرانی میں مثالی کردار ادا کر دیا تو وہ وقت دور نہیں کہ ان بڑی سیاسی جماعتوں کو تکلیف دہ نتائج کا سامنا ہو گا ،فرض محال اگر یہ عوامی خواہشات کے مطابق قابل ذکر ’’ڈیلیوری‘‘ نہ کر سکے تو نا صرف یہ عوام کی بد قسمتی ہو گی بلکہ اس سے موروثی سیاست کو ایک بار پھر آمرانہ سیاست کاری کا موقع ملنے سے استحصالی دور آ سکتا ہے ۔ویسے بھی سیاست میں اس قدر گند آ چکا ہے کہ اسے پاکیزہ کرنے کی ضرورت ہے ۔جہاں ’’باری‘‘بدلنے اور ’’بھاری‘‘ قدموں کی روایت ہو وہاں تبدیلی کیلئے عوام کو بیدار ہونا پڑے گا۔کہیں برادری کے نام پر ،کسی جگہ مذہب کی بنیاد پر ،کوئی باپ دادا کی میراث کا دعویٰ دار اور کہیں پیسے کی جھنکار پر سیاست گری ہو رہی ہو تو اس میں قصور وار بہر حال ’’عام آدمی ‘‘ ہی ہوتا ہے ۔اگر عام آدمی جاگ جائے تو پھر واقعی تبدیلی کی نوید سنی جا سکتی ہے ۔ہمارے وطن عزیز میں تحریک انصاف ہوا کا ایک دلکش جھونکا آیا ، مگر ایک صوبہ میں قید ’’قیدی‘‘ کیاگُل کھلاتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا البتہ ڈاکٹر طاہر القادری ضرور ’’پھڈا‘‘ ڈالنے کی ریہرسل کر رہے ہیں ۔اگر انہوں نے بقول ان کے ’’ایک کروڑ نمازی‘‘ اسلام آباد پہنچا لئے(جو ممکن ہے دس لاکھ تک ہوں ) تو پھر’’ ساون کے اندھوں ‘‘کا بسیرا ’’دیار وطن ‘‘ہی ہو گا۔لیکن ابھی یہ گیم آف پالیٹکس وقت چاہتی ہے چونکہ ابھی ’’عام آدمی‘‘ کسی جھانسے میں الجھا دکھائی دے رہا ہے ۔
مگر اس سارے پیش منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ابھی بھی وقت ہے کہ سیاست دان سر جوڑ لیں اور عام آدمی کو دھوکا دہی کی بجائے ان کی مرہم پٹی کر لیں ،کیونکہ یہ زخمی شیر جب پھلانگیں گے تو پھر اپنا پرایا نہیں دیکھیں گے لہذا سوچنے اور سبھلنے کا وقت آن پہنچا ہے،اب عوام بیدار ہو چکے ہیں ،کھرے کھوٹے کی تمیز کرنا مشکل نہیں رہی،یہ پولیس گردی،پٹوار سیاست اور بلیک میلنگ کے حربے ماند پڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔انسان دوستی کے لبادہ میں خون خور درندوں کا تیزی سے یوم حساب قریب تر ہے ،ممکن ہے کہ کچھ لوگ ان الفاظ کو کسی دیوانے کی بڑ کہیں مگر حالات غیر محسوس انداز سے ادھر ہی بڑھ رہے ہیں ۔قائد پاکستا ن ،فرزند پاکستان ، مرد حُر،قائد اعظم ثانی جیسے القابات والوں کو فہم و ادراک کی ضرورت ہے ۔جمہوریت بہترین نظام ہے،جسے مستحکم ہونا ملک و ملت کے لئے از بس ضروری ہے لیکن آمدہ خطرات کا پہلے سے کنٹرول نہ کیا گیا تو بڑے سانحہ سے کم نہیں ہوگا۔حکومت اور سیاست کاروں ، وڈیروں کو عام آدمی بارے سوچنا ہو گا ،مہنگائی ،بے روزگاری کے اس دور کو بدلنا ہوگا ۔صحت و تعلیم کی ہر شہری تک سہولیات فراہم کرنا ہونگیں ۔یہی نہیں بلکہ ہر بنیادی حق ہر شہری کی دہلیز تک پہنچانا پڑے گا۔اگر اس مہم جوئی میں کامیاب ہو گے تو پھر کوئی خطرہ نہیں مگرجس کا ابھی تک ٹلنے کا ایک فی صد امکان بھی نہیں۔لہذا کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ عام آد می خود شیر بن کر بول اٹھے کہ ’’دیکھو دیکھو کون آیا۔۔۔شیر آیا شیر آیا‘‘۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button