تازہ ترینڈاکٹر بی اے خرمکالم

عام انتخابات اور دہشت گردی

dr. b.aملک عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ جوں‌جوں‌قریب آتی جا رہی ہے دہشت گردی کو وارداتوں میں بھی تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے الیکشن میں جو گہماگہمی عام طور پہ دیکھنے کو ملتی ہے وہ کہیں بھی نظر نہیں آرہی اگر سیاسی گہماگہمی کہیں نظر آرہی ہے تو وہ صرف پنجاب میں وہ بھی صرف دو سیاسی قوتیں‌ایک دوسرے کے خلاف بر سرپیکار نظر آتی ہیں پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی عملی طور پہ الیکشن مہم سے دور نظر آرہی ہے علاوہ ازیں عوامی نشنل پارٹی اور ایم کیو ایم بھی درست اور مناسب طریقہ سے الیکشن مہم نہیں چلا پا رہے اور اس کی بڑی وجہ سیکیورٹی خدشات کا ہونا ہے بلوشستان میں میں الیکشن کمپین  نہ ہونے کے برابر ہے کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے کارکنان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں‌خیبر پختون خواہ میں‌عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردوں کے ٹارگٹ پہ ہے ایسے میں ہونے والے عام انتخابات ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جائیں گے دہشت گردی کی وارداتوں سے عام شہریوں‌میں شدید قسم کا خوف ہراس پایا جا رہا ہے آج بھی کوئٹہ، پشاور، سوات ، ڈی آئی خان اور جیکب آباد دھماکے سے گونج اٹھے جس سے بیسیوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔میڈیا کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ بم سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ کوئٹہ میں گزشتہ روز بھی یکے بعد دیگرے 4 دھماکے ہوئے تھے جن میں 5 افراد جاں بحق اور 48 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ادھر پشاور میں سرکلر روڈ پر سرکی گیٹ کے قریب پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما کے گھر کے قریب ہوا جس سے گھر کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ بعد ازاں ڈی آئی خان کے علاقے کلاچی میں بھی سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے دھماکا ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق دھماکا پی کے 67 سے آزاد امیدوار اسرار خان گنڈا پور کا قافلہ گزرنے کے بعد ہوا۔ سوات میں بم پھٹنے سے 6 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ مدین کے علاقے تیراتھ میں عزیز اللہ نامی شخص کو کھیتوں میں ہل چلانے کے دوران لوہے کی ایک زنگ آلود شے ملی جسے اٹھا کر وہ گھر لے آیا اور زنگ صاف کرنے کے دوران کریکر بم پھٹ گیا جس کے باعث گھر میں موجود 2خواتین اور بچے سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے لیےمدین اور مٹہ کے اسپتالوں میں داخل کرادیا گیا ہے ۔ ادھر جیکب آباد میں بھی دھماکا ہوا ہے ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی کوئٹہ اور کراچی میں دھماکے ہوئے تھے جن کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے تھے دہشت گردی کے ماحول میں عام انتخابات مشکوک نظر آرہے ہیں آنے والے دنوں میں حالات کس کروٹ بیٹھتےہیں یہ کہنا مشکل ہے اللہ رب العزت ہمارے ملک کو سماج دشمن عناصر سے محفوظ فرمائے اور اس کے ساتھ ساتھ نگران حکومت کو عام شہریوں‌ کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کا مظاہرہ کرنا ہوگاnote

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button