تازہ ترینکالم

ٓٓٓٓآمدِ سرکار ﷺ۔

waqar! ربیع الاول کے مہینے کو تمام مہینوں پر فضیلت حاصل ہے یہ ماہ دو عالم کے مولا رحمت اللعالمین ﷺ احمد ، مجتبیٰ کے یومِِ ولادت کا ماہ ہے ۔اس ماہ سوائے ابلیس کے کائنات کی ہر شے خوشیاں منا تی ہے۔حضور علیہ صلٰوۃو السلام خلق میں سب سے اوُل اور بعثت میں آخری نبی ہیں۔اﷲتعالیٰ نے یہ جہاں بنایا ہی اپنے محبوب نبیﷺ کے لیے تھا اگر آپﷺ نے تشریف نہ لانا ہوتا تو اس کون ومکاں کا وجود مُہمل تھا۔پہلے جتنے بھی نبی علیہ اسلام تشریف لائے وہ بس مخصوص قوموں کے لئے مقرر ہوئے جب کے آقاﷺ تمام جہانوں کے لئے رحمت قرار پائے۔عرب کے غاروں، ریگستانوں اور بازاروں میں کفر و شرک کے گھنے اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔جہالت فروغ پا رہی تھی تمام انسان علم سے دور تھے ۔ بشریت اس تاریکی میں بھٹک رہی تھی ،ہر کوئی ایک خدا کو ماننے سے منکر تھا ہر کسی نے اپنے خود ساختہ خدا بنا رکھے تھے کوئی پتھر کے آگے پیشانی جھکائے ہوئے تھا تو کوئی روحِ عالم کی کسی ادنیٰ چیز کے آگے سجدہ ریز ہو کر ذلالت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکا تھا۔بجائے شرمندگی کے ہر کوئی اپنی عبادت گزاری پر فخر محسوس کررہا تھا عورتوں کو زندہ جلا دیا جاتا تھا پر عرشِ معلی کے مالک نے گل کے موسم کا آغاز فرمایااورنبی کریم ﷺ کو معبوث فرمایا انسانیت کوراہِ صراطُ مستقیم دکھائی اندھیرے ڈھلنے لگے ہر سو اجالا ہونے لگا جہالت میں کمی واقع ہونے لگی یہ کرامت سرکار ﷺ کی آمدہی کی تھی حق کی فتح ہوئی اور باطل کو شکست ہوئی آپ ﷺ نے انسانوں کوان کے حقیقی خدا کے بارے بتلایا ،آپ ﷺ کی پیدائش پر عرب بھر میں خوشی کا سماں تھا آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے آپ کا نام احمد رکھا جس کو بعدازاں محمد رکھ دیا گیا ان دونوں اسمِ گرامی کا مطلب ذیادہ مختلف نہیں ہے ان دونوں کا مطلب تعریف کے قابل ہے ،آپ ﷺ کے والد حضرت عبد اﷲرضی اللہ عنہا آپ کی پیدائش سے قبل ہی وفات پاچکے تھے عرب کی ریت کے مطابق آپ ﷺ کو بنی سعد کی خاتون حضرت حلیمہ رضی تعالی عنہ کے حوالے کیا گیا تاکہ آپ ﷺ صحت مند اور ٹھوس عربی زبان سیکھ سکیں جب کہ آپ ﷺ تو تمام علم رکھتے تھے حضرت حلیمہ بیان کرتی ہیں کہ اس بچے کہ آتے ہی تمام تنگ دستیاں دور ہوگئیںآپ رضی تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ کو دودھ بھی پلایا اس کے ایک سال بعد آپﷺ کو ان کی والدہ حضرت بی بی آمنہ رضی تعالیٰ عنہ کے حوالے کردیا گیا بی بی آمنہ کی کچھ ہی عرصے بعد رحلت ہوگئی اور آپ ﷺ کی پرورش آپ ﷺ کے دادا عبدلمطلب رضی تعالیٰ عنہا نے کی اس کے بعد یہ فرائض آپ ﷺ کے چچا ابوطالب رضی تعالیٰ عنہا نے سرانجام دئیے ۔آمنہ کے لعلﷺسراپاِ رحمت ہیں آپ ﷺ نے کفارو مشرکین کے قیدیوں کے ساتھ نارواں سلوک کرنے سے منع فرما یا ۔قریشِ مکہ نے آپ ﷺ کو جو اذیتیں دیں ان کو بیاں کر نا محال ہے مگر مکہ فتح کرنے کے بعد آپ علیہ اصلٰوۃولسلام نے دستور کے خلاف عمل کیا سب کو معاف فرمایا اورنہ ہی کسی کو غلام ،لونڈی بنایا نہ کسی کی جائیداد ضبط کی ۔محمد ﷺنے بچوں ،عورتوں،غلاموں اور حیوانات سے حسنِ سلوک کی ترغیب کی۔آپ ﷺ کے مزاج کا اعتراف قرآنِ پاک کی سورۃآل عمران کی ایک سو انساٹھویں آیت میں اﷲتبارک و تعالیٰ کا اعلان دیکھیے’’یہ( حالصتاْ)رحمتِ الٰہی ہے کہ آپ ﷺ اپنے ان رقاء کے لیے نرم خو ہیں،ورنہ اگرآپ ﷺزبان کے تیز اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ ﷺ کے اطراف سے چھٹ کر جدا ہوگئے ہوتے‘‘ اور پھر سورہْ توبہ کی ایک سو اٹھائیسویں آیت تو آپ ﷺ کی رقت انگیز شخصیت کی تصدیقِ الٰہی مہر ثابت کردیتی ہے’’تمہارے پاس خود تم سے ایسا رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیزشاق گزرتی ہے جو تمہیں نقصان پہنچانے والی ہو،جو تمہاری فلاح کی طمع میں جیتا ہے اور مومنین کے لیے اس کا رویہ شفقت و رحمت والا ہے۔قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر خود خدا نے خود اپنے محبوبﷺکی انتہائی شفیق ذات کا تعارف کرایاہے۔سورہْ الانفال میں ہے کہ’’ اے ایمان والواﷲاور اس کے رسول کا حکم مانواور سن سنا کر اس سے نہ پھرو‘‘ ہر کوئی اپنے آپ کو سچا عاشقِ رسول منوانا چاہتا ہے مگرآپ ﷺ کی دی گئی تعلیمات پر عمل کوئی نہیں کرتا آپ ﷺ نے قوتِ برداشت اور بردباری کا مظاہرہ اپنی پوری زندگی میں کیا جب کہ ہم میں ذرا برابر بھی احتراز گزاری نہیں ہے ہمیں کوئی ایک دفعہ تکلیف پہنچائے تو ہم اس سے دوگنا بدلا لیتے ہیں۔اﷲ جل مجدہ نے سرورِ کونین ﷺکو بارہ ربیع الاول کو بروز پیر اس دنیا میں بھیجا یہ وقت جب آپ ﷺ جلوہ افروزہوئے وہ سب زمان و مکان سے بڑھ کر بابرکت ہوگیا اگر آپ ﷺ شعبان،رمضان یا جمعہ کے دن پیدا ہوئے ہوتے تو ہم یہ سمجھتے کے آپ ﷺاس قابلِ احترام دن پیدا ہوئے خدا نے آپ کو ربیع الاول میں بارہ تاریخ اور پیر کے روز پیدا فرما کر اس ماہ اور تاریخ کو آپ ﷺ کی نسبت کی بدولت عظیم بنا دیا۔حضور ﷺ کی شخصیت انتہائی مکمل ہے کہ آپ ﷺ جو فرماتے وہ لاریب کتاب قرآن وفرقان سے کم نہ ہوتا۔آپ ﷺ کی تعلیمات انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں پوری دنیا میں بسنے والے تمام انسان خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں آپﷺ کی تعلیمات سے رہبری حاصل کرتے ہیں اور استفادہ پاتے ہیں ۔آپ ﷺ تمام نبیوں اور پیغمبروں کے سردار ہیں آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اتنی حسین وجمیل ہے کے آپ ﷺ کی تعریف وثناء بیان کرتے ہوئے پورے جہاں کے سمندروں کی سیاہی بھی استعمال کیوں نہ کر لی جائے ، کوئی مقرر زندگی بھر محمد ﷺ کی حمد کرتا رہے پھر بھی آپ ﷺ کی تعریف مکمل نہ ہوگی۔سرکار ﷺ وہ واحد نبی ہیں جنہوں نے اللہ رب العزت کو با چشمِ سر دیکھا واقع معراج اس کی منہ بولتی دلیل ہے۔ہر سال بارہ ربیع الاول آتا ہے اور ہمیں اس بات پر غوروفکر کرنے کی دعوت دیے چلا جاتا ہے کہ کیاہم اپنے نبی ﷺ کی امت ہونے کا حق سہی طرح ادا کر رہے ہیں؟کوئی ہمارے رسول ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتا ہے تو ہم کیوں بے ضمیر ہوجاتے ہیں ؟ دکھاوا کر کے کیوں اپنے ملک کی املا ک کو تباہ کرتے ہیں عوام الناس کی گاڑیاں جلا کر توڑپھوڑ کرتے ہیں؟شاید ہمیں سچا عاشق ہونے سے پہلے سچا امتی بننا ہوگا آپ ﷺ کے اسوہُِ حسنہ پر عمل پیرا ہونا ہوگا ۔نبی پاک ﷺ کم وبیش 63سال کی عمر میں اس دنیا سے پردہ فرما گئے آپﷺ خاتم النبین ہیںآپ ﷺ ہمارے تمام اعمال پر اب بھی نظر رکھے ہوئے ہیں قیامت تک آنے والے تمام مسلمان آپ ﷺ ہی کی امت میں سے ہیں۔’’مومن کی پاک طینت اور فطرت‘ایک موتی کی طرح جس کی چمک اورآب و تاآ آپ ﷺ کے سمندر سے ہے‘‘۔آپﷺ تمام مخلوقات پر اللہ کا احسان ہیں آپ ﷺ نور کے امین ہیں آپﷺ کی پیدائش کا وقت انتہائی پُر نور اور منور ساعتوں میں سے ہے آپ ﷺ پر دین کی تکمیل ہوئی اور آپ کی تعلیمات پر دین مکمل ہوتا ہے۔عقیدت و محبت کا غلغلہ بھی ہے‘ہیں نعتوں کے زمزمے بھی یہ ماہ ہے میلادشریف اور حضور کی محفل منعقد کرنے کا ،ہر سمت لگے ہیں سجاوٹ کے انبار کیونکہ یہ ہے آمدِ سرکار ﷺ۔دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی ﷺ کے بعد۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!