پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

آؤ ! آپریشن ، آپریشن کھیلیں

riffat mazharشہرِ قائد میں آپریشن جاری ہے ، رینجرز اپنی بھرپور توانائیاں صرف کر رہے ہیں اور صدیوں کا تجربہ رکھنے والے سیّد قائم علی شاہ نے سارا محکمہ پولیس اُلٹ پُلٹ کرکے رکھ دیا اور الیکٹرانک میڈیا دھڑا دھڑ ٹارگٹڈ آپریشن کی بریکنگ نیوزجاری کر رہا ہے۔ہمارے اینکرز کی بھی آجکل چاندی ہو گئی ہے کیونکہ اور کوئی موضوع ہو نہ ہو کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کا موضوع تو ہے ہی۔ روشنیوں کے شہر میں اگر اب بھی روشنیاں نظر نہیں آتیں تو یہ قصور رمرکز یا سندھ حکومت کا نہیں بلکہ KESC کا ہے جو شہرِ قائد کو بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔اگر بجلی ہوتی تو جگمگ کرتا کراچی بھی نظر آنے لگتا۔
یہ تو بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کی بدولت امن کی فاختہ چونچ میں زیتون کی شاخ لیے کراچی کی فضاؤں میں امن اور شانتی کے گیت گانے آن پہنچی ہے اور اِس امن کا سہرا اُن ٹارگٹڈ کلرز ، بھتہ خوروں، دہشت گردوں قبضہ گروپوں اور پرچی مافیا کے سر ہے جن میں سے کچھ مری ، سوات ، کاغان ،اورکالام میں اپنی سالانہ چھٹیاں منا نے چلے گئے اور کچھ وزیرستان ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں اپنے عزیز و اقارب کو ملنے اور پاکستان کی سیر کرنے جا چکے ہیں ۔ شاید مرکز اور سندھ نے اِن بھتہ خوروں اور ’’ماہر نشانے بازوں‘‘ کی سالانہ تعطیلات کو مدِ نظر رکھ کر ہی یہ آپریشن ترتیب دیا ہو گا ۔ اسی لئے ہمارے محترم وزیرِ داخلہ بڑے فخر سے سینہ تان کر یہ کہتے پھرتے ہیں کہ سارے ٹارگٹ کلرز کو پتہ چل گیا ہو گا کہ اب پاکستان میں اُن کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں بچی اور اُن کی واپسی کے سارے راستے مسدود کر دیئے گئے ہیں۔ وزیرِ داخلہ صاحب کے فرمان پہ سبھی سرِ تسلیم خم کیے بیٹھے ہیں ۔پیپلز پارٹی تو خود اِس آپریشن کا حصّہ ہے اِس لیے وہ خاموش ہے جبکہ تحریکِ انصاف خیبر پختونخواہ میں اِس برے طریقے سے پھنس چکی ہے کہ اب اُس کے پاس کہنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں اور ایم کیو ایم 1992ء میں ہونے والے آپریشن کی بنا پر اتنی سہمی ہوئی ہے کہ اب آپریشن کا نام سُنتے ہی اُس کی ’’بولتی‘‘ بند ہو جاتی ہے۔رہی اے این پی ، تو اُس بیچاری کے دامن میں ہے ہی کیا جس کے بَل پر وہ ’’چوں چاں‘‘ کرے۔اِس لیے نواز لیگ کے لیے راوی عیش ہی عیش لکھتا ہے۔
کراچی آپریشن سے پہلے تین ماہ تک اُس کی نوک پلک سنواری جاتی رہی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حکومتِ وقت کا انتہائی مدبرانہ اقدام تھاکیونکہ اسی تدبیر کی بدولت 33,000 سے زائدمجرمین کو اِدھر اُدھرکرنے میں حکومت کوبھرپور کامیابی ملی اورکراچی آپریشن کا پہلا فیز پُرامن طریقے سے مکمل ہو گیا ۔اگر حکومتِ وقت یہ مدبرانہ انداز اختیار نہ کرتی تو بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ پولیس اور رینجرز کے 27,000 آفیسر اورجوان 33,000 ’’اپنے لوگوں‘‘ کامقابلہ کر پاتے ۔ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کی غالب اکثریت تو سالانہ تعطیلات پہ چلی گئی البتہ احمقانہ حد تک دلیر ظفر بلوچ ڈٹارہا اور جان گنوا بیٹھا ۔بہتر ہوتا کہ ظفر بلوچ بھی عزیر بلوچ کے ساتھ دبئی کھسک لیتا اور آج زندہ ہوتا ۔اب ظفر بلوچ کے والد نے ایم کیو ایم کے نبیل گبول کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا ہے ۔گوجرانوالہ کے پہلوانوں سے مشابہت رکھنے والے نبیل گبول نے قوم پر اپنی بزدلی عیاں کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تو چیونٹی تک کو نہیں مار سکتے بھلا ظفر بلوچ جیسے ’’دبنگ‘‘ کو کیسے ماریں گے؟۔اُدھر باہر بیٹھے الطاف بھائی کو نبیل گبول کے خلاف کٹوائی گئی FIR میں ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کی بُو بلکہ بد بو محسوس ہونے لگی ہے۔اُنہوں نے فی الحال کوئی ’’بڑھک‘‘ تو نہیں لگائی لیکن اُمیدِ واثق ہے کہ عنقریب ہم الطاف بھائی کی’’ سلطان راہی مارکہ‘‘ بڑھکوں سے مستفید ہو سکیں گے۔
جو سینکڑوں لوگ گرفتار کیے گئے وہ یا توہیں ہی بے گناہ یا پھر ندیم ہاشمی کی طرح دو چار دنوں میں بے گناہ قرار دے دیئے جائیں گے اور اِس طرح سے کراچی آپریشن بطریقِ احسن اختتام پذیر ہو گا۔اِس آپریشن کے بعد’’پردیسی‘‘ بھی اپنے دیس لوٹ آئیں گے اور الیکٹرانک میڈیا ’’اے آمدنتِ باعثِ آبادئ ما‘‘ جیسی بریکنگ نیوز سے سج جائے گا ۔فی الحال الیکٹرانک میڈیا کے پاس کوئی ’’سچی مُچی‘‘ کی بریکنگ نیوز نہیں اِس لیے مُنہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے فنکشنل لیگ کی ایم پی اے نصرت سحر عباسی اور پیپلز پارٹی کی ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کے مابین سندھ اسمبلی میں ’’تُو تُو ، مَیں مَیں‘‘ جیسی بریکنگ نیوز ہی چل رہی ہیں ۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں نصرت سحر عباسی متواتر بولتی چلی جا رہی تھیں اور کرسئ صدارت پہ جلوہ افروز شہلا رضا کی تنبیہ کے باوجود خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔ جِس پر شہلارضا کا میٹر بھی گھوم گیا اور پھر اراکینِ اسمبلی دونوں خواتین کی تُو تکار سے لطف اندوز ہونے لگے۔ شہلا رضا کے ہاتھ میں چونکہ اختیار کی تلوار تھی اِس لیے اُنہوں نے نصرت سحر عباسی کو نکال باہر کیا۔ اچھی بھلی عقلمند شہلا رضا کو اتنا تو علم ہونا چاہیے تھا کہ عورتیں جب بولنا شروع کرتی ہیں توبولتی ہی چلی جاتی ہیں۔ اُنہیں یہ بھی مدِّ نظر رکھنا چاہیے تھا کہ خواتین کے ازلی ابدی دشمن مرد حضرات اِس تُو تُو ، مَیں مَیں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اِس لیے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔سچ تو یہ ہے کہ جس طرح لڑکیاں تعلیمی میدان میں ہر جگہ لڑکوں کو پچھاڑ رہی ہیں اُسی طرح سیاسی میدان بھی با لآخر اُنہی کے ہاتھ رہے گا اوروہ وقت قریب ہے جب مرد کنگھی چوٹی اور میک اپ کرکے گھر بیٹھیں گے اور خواتین امورِ مملکت سَرانجام دیں گی۔ویسے بھی میدانِ سیاست میں ہمارے مَردوں نے ہمیشہ ’’ مُردوں‘‘ کا سا کام ہی کیا ہے اور ہمارے تو ’’کمانڈو‘‘ صاحب بھی ڈرتے ورتے کسی سے نہیں تھے سوائے موت یعنی امریکہ کے اور یہی حال ہمارے ’’آنے جانے‘‘ والے جمہوری رہنماؤں کا ہے۔اِس لیے اگر مردوں کی حکمرانی کی بجائے ’’عورت راج‘‘ قائم کر دیا جائے تو وہ یقیناََ ثمر آور ثابت ہو سکتا ہے ۔ آنے والے حالات کی فضاؤں میں بُو سونگھتے اور موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے جنابِ آصف زرداری نے بھی اب بلاول کی بجائے آصفہ زرداری پر اپنی توانائیاں صرف کرنا شروع کر دی ہیں اور اُدھر میاں نواز شریف صاحب نے بھی حسن اور حسین نواز کو کاروبار میں لگا کر مریم نواز کو خارزارِ سیاست سے روشناس کرانے کی ٹھان لی ہے۔البتہ اگلے وقتوں کی ڈور سے بندھے شہباز شریف ابھی تک حمزہ اور سلیمان شہباز پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں ۔جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چھوٹے میاں صاحب اسم با مسمیٰ بننے کے چکر میں یہ سب کچھ کر رہے ہوں ۔شہباز کی اُڑان ہمیشہ اونچی اور ’’وکھری ٹائپ‘‘ کی ہوتی ہے اور چھوٹے میاں صاحب کا بھی ہر کام انوکھا اور وکھری ٹائپ کا ہی ہوتا ہے اور یہ جو تحریکِ انصاف کے میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ میاں شہباز شریف وزیرِ اعظم بننے کی ریہرسل کر رہے ہیں، یہ دراصل میاں محمود الرشید کے اندرونی خوف اور شدید خواہش کی غمازی کرتا ہے ۔محمود الرشید چاہتے ہیں کہ خادمِ اعلیٰ ، خادمِ اعظم بن جائیں اور اُنہیں پنجاب کی سیاست میں چھوٹے میاں صاحب جیسے ’’ہمالیہ ‘‘ سے ٹکرانا نہ پڑے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ خادمِ اعلیٰ تو اب بھی میاں نواز شریف صاحب کو باپ کا درجہ دیتے ہیں اِس لیے میاں محمود الرشید کی یہ خواہش نا تمام ہی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button