ایکسکیوزمیتازہ ترینکالم

آؤ سب مل کر عہد کریں

چند ایک سیاسی جماعتیں تو اس بات پر بھی اتراتی ہیں کہ اگر وہ اپنے حلقے سے کسی کتے کو بھی نامزد کر دیں تو وہ بھی الیکشن جیت سکتاہے۔ اب ایسی سوچ کی حامل سیاسی جماعتوں کے بارے میں یہ اندازہ تو بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے سیاستدانوں نے معصوم عوام کو کس طرح اپنے شکنجے میں جکڑاہوا ہے اور اپنی سیاسی جادو گری سے عوام کو اس طرح اندھا گونگا اور بہرہ کیا ہوا ہے کہ عوام بھوک غربت بے روزگاری بدامنی اور مہنگائی کی وجہ سے بدترین زندگی گزارنے کے باوجود اب بھی ان کے سیاسی جلسے جلوسوں اور ریلیوں میں بھر پور شرکت کرتے ہیں اور سیاستدانوں کی میٹھی میٹھی باتیں سن کر اپنی ہی بے بسی اور لاچاری پر تالیاں بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کیا پاکستان کے عوام کا مُقدر یہی ہے کہ وہمیشہ ایسے مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاتھوں کٹ پتلیاں بنتے رہیں اور اپنے حقوق کی قربانیاں دیتے رہیں ۔ جمہوریت کا راگ سب سے زیادہ پاکستان میں ہی الاپا جاتا ہے لفظِ جمہوریت اس کی تشر یح کچھ اس طرح سے کی جاتی ہے کہ عام لوگوں کی حکومت عام لوگوں کے لیے عام لو گوں پرلیکن پاکستان میں جمہوریت کچھ اس طرح سے ہے جاگیردار اور وڈیروں کی حکومت غریب عوام پر۔پاکستان میں دیر پا آمریت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر سے جمہوری حکومت کا عمل وجود میںآیااور اب اس جمہوری حکومت کو قا ئم ہوئے تقریباً پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں اور تقریباً پاکستان کی تمام بڑی اور چھوٹی سیا سی جماعتیں کسی نہ کسی طرح اس جمہوری حکومت میں شامل ہی رہی ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج عام عوام پہلے سے زیادہ خوشحال ہے اور کیا عوام کے وہ مسائل حل ہو چکے ہیں جو دورِآمریت میں نہیں ہوئے تھے ؟ توبڑے ہی افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ اس عرصے میں ، بھوک، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کبھی پیٹرول ہے تو گیس غائب اور کبھی چینی ہے تو آٹا غائب بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ایک عام آدمی کے لئے آمریت کا وہ دور جمہوریت کیااس دور سے کئی درجے بہتر تھا۔ اب بھی اگر جمہوریت کا راگ الاپنے والے سیاستدانوں نے عام عوام کے مسائل کے حل کے لئے کوئی مناسب اقدامات نہ کیئے تو پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ بھوک اور غربت سے ستائی ہوئی یہ عوام جمہوریت سے زیادہ آمریت پر یقین رکھنے لگے اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر ؟ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اسی عوام کو اپنا ذریعہ بنا یا اور مشرف آمریت سے چھٹکارہ حاصل کیا تب یہ تمام سیاسی جماعتیں متحد تھیں اور ان کا آپس میں غضب کا اتفاق اورپیارتھالیکن آج جب اُسی عوام کے مسائل حل کرنے کا وقت آیا ہے تو ہمارے سیاسی اداکاروں نے عوام کی توجہ کو مسا ئل سے ہٹانے کے لیے عجیب و غریب قسم کے ڈرامے شروع کئے ہوئے ہیں اسمبلیوں
میں جاکر عوام کے مسائل کو بھلا کر ایک دوسرے سے دست وگربیاں ہوتے ہیں تو کبھی ایک دوسرے کے لیے نا زیبا ا لفاظ استعمال کرتے ہیں اور انھیں گالی گلوچ اور ڈراموں کے ساتھ اسمبلیوں کے اجلاس ختم ہو جاتے ہیں اور عوام کے کسی ایک مسلے کو بھی اُٹھایا تک نہیں جاتا ہے کیونکہ اندر سے یہ سب ملے ہوئے ہیں اور ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔مفادپرست سیاستدانوں نے ہمیشہ عوام کو بیوقوف بنایا ہے بنا رہے ہیں اور بناتے رہیں گے اگر اب بھی عوام نے اِن بہروپیوں کے اصلی چہروں کو بے نقاب نہ کیاتو۔ یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ پاکستان میں آج بھی ووٹ لسانیت ، قومیت اور مذہب کے نام پر ہی لیا جاتا ہے جو کسی طر ح سے بھی ایک پائیدار جمہوریت کے لیے موزوں نہیں ہے ۔پاکستان کے موجودہ حا لات کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی صرف اور صرف سیاسی شعبدہ بازوں کی من مانیاں پوری کرنے کے لیے ہی ہوئی ہے کیونکہ پاکستان کا کوئی بھی ٹی وی چینل دیکھ لیں ہر ٹی وی چینل پر سیاستدانوں کا سیاسی دنگل ہوتا نظر آتا ہے اپنے آپ کو دوسروں سے بہترثابت کرنے کے چکر میںیہ اُن لوگوں کو بھول گئے ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ سب بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہیں بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اورکڑوروں روپے اپنی عیاشیوں میں اُڑا دیتے ہیں ۔ خدا را اب تو بس کروبہت ہو گیا ، ختم کرو اپنی ذاتیات کی جنگ کو اور تھوڑی دیر کے لیے سب مل بیٹھ کر سو چیں پاکستان کے غریب عوام کے لیے اور پیارے پاکستان کے لیے جس کی وجہ سے ہم سب کی پہچان اور عزت ہے۔ ا گر ہم سب چاہتے ہیں کہ
پاکستان میں ایک مظبوط جمہوریت قائم ہو آمریت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے اورہمارا ملک پاکستان دنیاکے نقشے پر ایک مثالی مملکت اُبھر کر سامنے آے توسیاستدانوں کیساتھ ساتھ ہم عوام پر بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ ذمہ داری ہے ہمار ا ووٹ اور ا ب اس ذمہ داری کو نبھانے کا وقت آگیاہے کیونکہ اگر ہم سب صرف اور صر ف اپنے ووٹ کا صیح استعمال شروع کر دیں تو بہت جلد پاکستان میں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی لسانیت قومیت اور مذہب سے ہٹ کر صرف اور صرف پاکستان کے لیے سوچیں اور ایسے لوگوں کو اسمبلیوں میں لے کر آ ئیں جو ہم میں سے ہوں جو ہماری خوشیوں اور غموں میں ہمارے ساتھ ہوں جو عوام کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھیں۔پاکستان کی اصل طاقت یہ بڑے بڑے زمیندار جاگیردار وڈیرے بیوروکریٹس اور سیاستددان نہیں بلکہ ہم عام عوام ہیں اور ہم سب ایک ہوکر اور اپنی ایک طاقت سے پا کستا ن کو عظیم سے عظیم تر بنا سکتے ہیں۔تو آو سب مل کر عہد کریں کہ آنے والے آنے والے الیکشن میں ووٹ صر ف اور صرف میرٹ پر ہی دیں گے اور لسانیت ،قومیت اور مذہب کے نام پر بلیک میلنگ کرنے واے سیاستدانوں کو منہ توڑ جواب دیں گے او راگر اس بار بھی ایسا نہیں ہوا تو پھر اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہونگے اور پھر وہی کرپشن لوٹ مار بدامنی رشوت خوری بھتہ خوری فرقہ واریت ٹارگٹ کلنگ معاشی بد حالی اورافسر شاہی ہوگی اور جن ممالک ایسے حالات ہوپیدا ہوجاتے ہیں پھر وہاں آمریت ہو یا جمہوریت کوئی فر ق نہیں پڑتا۔

یہ بھی پڑھیں  توبہ کی شان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker