امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

آٹا بہت مہنگا ہوگیا ہے (2)

میری صبح کا آغاز تازہ خبروں کے ساتھ۔ حکومت کا عوام پر ایک اور مہنگائی بم سے حملہ جان بچانے والی 20ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری ۔یہ فیصلہ وفاقی وزیرڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی صدارات میں ہونے والی ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کی میٹنگ میں کیا گیاہے۔جن ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ان میں ، اوآر ایس،کف ریسٹ سیرپ،وٹامین اے،بی،سی اور ای کی حامل تمام ٹیبلٹس ،سیرولین سیرپ۔ایکس ٹیبلٹ،برونیکس سیرپ،بے بے نول سیرپ،ڈولٹی ڈراپس،سائنوڈاکس سیرپ،امیزول سپنشن،ایپی ڈوکس وغیرہ شامل ہیں ۔ پٹرول6.82روپے‘مٹی کاتیل 62پیسے فی لیٹر مہنگا،سی این جی کی قیمت بھی 5.71روپے فی کلوبڑھ گئی ۔لیکن آپ پریشان نہ ہوں حکومت صرف چیزوں کی قیمتیں زیادہ ہی نہیں کرتی بلکہ کم کرکے عوام دوستی کا ثبوت بھی دیتی ہے اس لیے حکومت نے مہنگائی بم کے ہاتھ یہ بھی خبر دی ہے کہ ڈیزل 1.75روپے سستا کردیا گیا ہے۔ قارئین اب بات وہاں سے شروع کرتے جہاں کل چھوڑی تھی۔ غریب آدمی صبح سے شام تک اللہ کو یاد کرتا ہے ۔جب گھر سے مزدوری کے لیے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے یا اللہ آج مجھے مزدوری مل جائے تاکہ شام کو اپنے بیوی بچوں کے لیے آٹا سبزی لے آؤں اور جب اسے کام مل جاتا ہے تووہ اور زیادہ شدت سے اللہ کا شکر ادا کرنا شروع کردیتا ہے اور سارا دن شکر ہی کرتا رہتا ہے کہ یا اللہ تیرا شکر ہے تونے مجھے رزق عطا کیا اور جب شام کو راشن لے کر گھر جاتا ہے تو اس کے بیوی بچے بھی شکر ادا کرتے ہیں۔غور طلب بات کہ جہاں اللہ تعالیٰ صرف تین سے چار سو روپے عطا کرتا ہے وہاں آٹھ ۔دس لوگ شکر ادا کرتے ہیں اور جہاں لاکھوں کرڑوں عطا کرتا ہے وہاں یہ منظر کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے دولت مندآدمی اللہ تعالیٰ سے اورزیادہ کی تمنا کے ساتھ ساتھ ہزاروں گلے شکوے تو کرتا ہے لیکن شکر کرنے کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ہوتا ۔لیکن سب دولت مند ایک جیسے بھی نہیں ہوتے ان میں ایمان والے بھی ہوتے ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور ہر سانس کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ لیکن آج کے مہنگے ترین دور میں غریب مزدور کے لیے سب سے بڑی آزمائش آٹا ہے جو روزبروز مہنگا ہی ہوتا جارہا ہے ۔آٹا اس قدر مہنگا ہوچکا ہے کہ تین ،چار سو روپے کمانے والا مزدور اپنے خاندان کا پیٹ نہیں پال سکتا ۔ حد سے زیادہ غربت اور مہنگائی انسان سے اس کا ایمان تک چھین لیتی ہے ۔غربت کی حالت اپنا ایمان بچانا بہت بڑی آزمائش ہے ۔اس آزمائش میں وہ ہی پاس ہو سکتا ہے جس توکل اللہ تعالیٰ پر ہواور جو ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے اور اللہ کے دین کے مطابق زندگی بسر کرتا رہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو شکر کرنے تاکیدکچھ اس طرح فرمائی ہے’’اگر شکر ادا کرو گے تو تمھیں اور زیادہ دیاجائے گا(ابرٰھیم:7)اور خُدا ہی نے تم کوتہھاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اوراس نے تم کوکان اور آنکھیں اور دل بخشے تاکہ تم شکرکرو‘‘(النحل78)سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمایا اورمیرا شکر کرواور میری نعمتوں کا کفر نہ کرو۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور لالچ سے بچنا چاہئے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ مال ودولت جمع کرنے اور ۔زیادہ جائیداد بنانے سے سخت منع فرمایا ہے مومن ان ساری چیزوں سے دور رہتا ہے چاہے کتنا بھی مشکل وقت ہو مومن اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتاکیونکہ اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے احکامات ہی سب کچھ ہوتے ہیں اورجس بات سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمادیا وہ بے شک بہت بری ہے اللہ تعالیٰ کا دین انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب کرتا ہے ایک دوسرے سے جوڑتا ہے جبکہ دنیا کا مال و متاانسان کے ہاتھوں انسان کو کٹواتا ہے دور کردیتا ہے کبھی پاس نہیں آنے دیتا۔اکثر جب انسان زیادہ دولت مند ہو جاتا ہے تو اپنے غریب ماں باپ اور بہن بھائیوں کو پہچانتا تک نہیں اور اپنی دولت ہی کو اپنا سب کچھ جان لیتا ہے مال و دولت کو انسانی رشتوں پر کبھی بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی کیونکہ مال اور دولت دور جائیں تو کام آتے ہیں اور انسانی رشتے قریب آئیں تو کام آتے ہیں یہ تو سب جانتے ہیں کے دنیا کی کوئی بھی چیز خریدنے کے لیے دولت کی ضرورت پڑتی ہے تو بات صاف ہے کہ انسان کو جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تودولت خرچ کرنی پڑتی ہے اورخرچ ہونے کا مطلب کسی دوسرے کو دے دینا جب تک ہماری دولت ہمارے پاس ہے تب تک ہمارے کام نہیں آسکتی ضرورت سے زیادہ دولت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے ایک زہریلے سانپ کی مانئد کبھی بھی ڈس سکتی دولت مند کو ہمیشہ اپنی دولت کی فکر ہی لگی رہتی ہے گھر میں پڑی ہو تو دولت مند کو چوری ڈکیتی کا ڈر ہوتا ہے اگر بنک میں رکھی ہو تو دولت مند ہر وقت یہ سوچتا رہتا ہے کہیں بنک بند نہ ہو جائے کہیں بنک والے بھاگ نہ جائیں اس بات کا فکر ہی رہتا ہے پھر بھی دور قدئم سے دور جدیدتک ہرطرف دولت کی چہل پہل ہے جسے دیکھو اسے دولت کمانے کی لگن ہے نہ اپنی خبر ہے نہ دنیا کی ہر شخص بس کسی نہ کسی طرح ساری دنیا کی دولت اپنے گھر لانا چاہتا ہے وہ بھی پل بھر میں جس کے گھر میں چار سال کا راشن پڑا ہے وہ بھی کہتا ہے بھوکے مر رہے ہیں کاروبار بند ہے مہنگائی بہت ہو گئی ہے ۔آٹابہت مہنگا ہوگیا ہے۔ہزاروں روپے روز کمانے والا کہتا ہے مارے گئے جوجتنا زیادہ کما رہا ہے وہ اتنا ہی زیادہ رونا رو رہا ہے ۔انسان جو بھی کرلے جب تک اللہ کا شکر کرنانہیں سیکھتا تب تک پریشان ہی رہے گا کیونکہ انسان کا

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:پاکستان پیپلز پارٹی واہ کینٹ کے صدر راجہ خسرو رضائے الہیٰ سے انتقال کرگئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker