انور عباس انورتازہ ترینکالم

عوام سے عوام تک

anwar abasبلاول بھٹو زرداری اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔بلکہ کر چکے ہیں۔پیپلز پارٹی خصوصا بھٹو خاندان کی آئندہ کی سیاست کا دارومدار بلاول کی سیاسی زندگی کی کامیابی سے مشروط ہے۔بلاول کی سیاسی تربیت انکی والدہ کی شہادت کے دن سے ہی شروع ہو گئی تھی ۔ان کے والد انکی کی سیاسی تربیت میں کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے اس اعتبار سے آصف علی زرداری نگران اور سرپرست ہونے کی حثیت سے اپنی تمام ذمہ داریا ں اور فرائض کی ادائیگی بڑے احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ انہیں ہر طرح سے ایک مکمل سیاستدان بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھا رہے ہیں ۔متعدد سیاسی اور جہاں دیدہ زہین اور فطین شخصیات انکی نگرانی کے فرائض سرانجام دینے پر مامور ہیں۔بلاول کے ایک طرف اہل زبان اور مایہ ناز دانشور محقق صحافی اور سنئیر سفارت کار محترم واجد شمس الحن ہیں تو دوسری جانب پنجاب کی دھرتی کے دلیر سپوت چودہری اعتزاز احسن کھڑے ہیں۔ جو انہیں سیاست کے میدان میں پیش آنے والے نشیب فراز اور اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے داؤ پیش بھی سیکھا رہے ہیں۔عوام کے ہجوم بیکران کو اپنا گرویدہ بنانے کے گر بھی یقیننا ازبر کروا رہے ہونگے۔ملک کے مختلف علاقوں اور مختلف ثقافت کے حوالے سے بھی انہیں مخالفین پر سیاسی ڈرون حملے کرنے اور موقع محل کی نسبت سے محاروں اور جملوں کے انتخاب کی تربیت دی جا رہی ہے ۔بلاول بھٹو زرداری اس لحاط سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں سیاست کی پر خار وادی میں قدم رکھنے کے لیے اپنی والدہ اور والد کی نسبت خوش کن ماحول دستیاب ہے۔تربیت کے حوالے سے حکومتی سرپرستی سے بھی بھرپور فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں۔جبکہ بلاول کی والدہ کو ایسے مواقع دستیاب ہر گز نہیں تھے۔اور نہ ہی انہیں بلاول کی طرح مخلص سرپرست اپنے باپ کے دوست نصیب ہوئے اور نہ ہی خاندان کے بڑوں کا تعاون ملا۔بلاول کی شہید والدہ نے بھی اپنی سیاسی زندگی کا آغاز تاریخ کے بدترین دشمنوں کے نرغے میں رہ کر کیا تھا اور آج بلاول کا واسطہ بھی کچھ اسی قسم کے سیاسی مخالفین سے ہے۔ بسفرق صرف اتنا ہے کہ انکی والدہ کے دشمنوں کے مورچے تبدیل ہوئے ہیں باقی سب کچھ وہی ہے۔ یہ سفر بلاول بھو زرداری کے لیے پھول کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کے بستر سے کہیں بڑھ کر ثابت ہو گیا۔
فروری دوہزار آٹھ کے انتخابات میں عوام نے پیپلزپارٹی کو حق حکمرانی عطا کیا۔اتحادیوں سے ملکر اس نے حکومتیں توبنائیں ۔ لیکن خود عوام سے کٹ کر رہ گئی۔اسکا عوام سے کسی قسم کا تعلق واسطہ نہ رہا۔بقول فیض احمد فیض ۔۔۔سلسلے سبھی وہ توڑ گیا جاتے جاتے کے مصداق پیپلزپاری کی قیادت نے الیکشن جیتنے کے بعد عوام سے رسمی قسم کا بھی تعلق قائم رکھنے کی زخمت گوارہ نہ کی ۔عوام کا دم بھرنے والے صدر مملکت اور انکی کابینہ اسلام آباد کے محفوظ قلعوں میں محصور ہو کر بیٹھ گے۔اب جب دو ما ہ کے بعد نئے انتخابات ہونے جا رہے ہیں انہیں عوام کی یاد آگئی ہے۔ پیپلز پارٹی پانچ سال تک عوام سے دور رہی اور اسکے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری لندن میں اپنی تعلیم مکمل کرنے میں مصروف کار۔۔۔ 1967سے 1970 میں ایوبی آمریت کے خلاف لڑنے کی ہمدردی کا ووٹ بھٹو شہید کوملا اور 1977میں پیپلز پارٹی کو اپنی شاندار حکومتی کارکردگی بنا پر بلا شبہ عوام نے ایک بار پھر اپنا حق حکمرانی عطا کیا لیکن سامراج کے گماشتہ مافیا نے ڈالروں کے زور پر ادھم مچایا جس کے نتیجے میں اقتدار کی ہوس کے پوجاری جرنیلوں نے ان کا تحتہ الٹ کر ملک اور قوم کو شخصی اور فوجی آمریت کے اندھیروں میں گیارہ سال تک ڈبوئے رکھا۔ان گیارہ سالوں کے دو سال تک بھٹو شہید خود پس دیوار زنداں بیٹھ کر ملک اورقوم کو ضیائی آمریت سے نجات دلانے کی جدوجہد کرتے کرتے اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔لیکن فوجی حکمرانوں کے دلوں دماغ میں وہ ہمیشہ زندہ رہے اور امر ہو گے۔بلاول کے نانا کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد انکی نانی نے جس ہمت ، ولولے ،جوش اور جرآت ست پاکستان کے سوگوار عوام کی قیادتکا بیڑا ٹھایا وہ بھی تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا ہے ۔دنیا بھر کے صحافتی اور سیاسی پنڈتوں نے لکھا ہے کہ آصف علی زرداری اپنی زہانت اور صلاحیتوں سے اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور اسبلشمنٹ،غیر ملکی اثر و رسوخ ، دباؤکے آگے ڈٹ کر خودکو پاکستانی سیاست کے بلا شرکت غیرے چیپیئن ہونے کا ثبوت دیا ہے۔سیاست کو محض سیاست تک رکھنے والے سیاست دانوں کے سیا سی حملوں کا جواب بھی انہوں نے بہترین سیاسی چالیں چل کر انہیں ناک آوٹ کیا ۔اور غیر سیاسی طریقے استعمال کرنے والے سیاست دانوں اور دوسرے طبقات کو ان کے مزاج کے مطابق ’’ سیاسی دوائی’’ دے کر انہیں سکون فراہم کیا۔سیاست کو روپئے پیسے کے زور پر کاروبار سمجھنے والں کو روپے کی طاقت سے ناکام بناتے بناتے اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔آصف علی زرداری کے بارے میں ان کے سیاسی مخالفین جس قسم کی بازاری زبان استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے جواب میں ایسا طرز گفتگو اختیار کرنے کو اپنی اور سیاست کی توہین کے مترادف قرار دے کر مخالفین کو ورطہ حیرت میں ڈالے رکھا ہے۔میرے خیال میں آصف علی زرداری کے سیاسی مخالفین ان سے اسی طرح خائف رہتے ہیں جیسے ان کے سسر بھٹو شہید سے بات چیت کرنے سے خائف رہتے تھے اور ان کے ساتھ ڈائیلاگ کی یبل پر بیٹھنے سے گھبراتے تھے ۔
بلاول بھٹو زرداری آئندہ دو ماہ کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مزید پانچ سال کے لیے ایوان اقتدار میں پہنچانے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں یہ انکی انتخابی مہم چلانے کے انداز اور ان کی جانب سے دئیے جانے والے پارٹی منشور کے سامنے آنے کے بعد پتہ چل سکے گا۔البتہ ایک لحاظ سے انہیں اپنے ہمصر نوجوان سیاست دانوں پر سبقت حاصل ہے کہ وہ عالمی سطح پر انہیں کسی قسم کی پذیرائی حاصل نہیں ہے ۔کیونکہ بلاول بھٹو زرداری اپنے بیرون ملک قیام کے دوران مختلف ممالک کے دوروں پر جاتے رہے ہیں اور اہم عالمی مسائل کے حوالے سے منعقد عالمی کانفرنسوں،سیمناروں اور ورکشاپ میں پاکستان کی نمائندگی کر پاکستان کی مشکلات اور مسائل کو اجاگر کر کے عالمی برادری کی توجہ اس جانب دلا کر قومی خدمت سرانجام دی۔اگر تو بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک بھر کے طوفانی دورے کیے اور گاؤں گاؤں قریہ قریہ شہر شہر بستی بستی پہنچ کر عوامی اجتماعات سے خطاب کیا تو پیپلز پارٹی کے خلاف کیا گیا پروپیگنڈے کو بڑی حد تک زائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اور اگر دوہزار آٹھ کے انتخاباب کی طرح اپنے باپ کی طرح سکیورٹی حصار میں رہنا پسند کیا اور عوامی جلسوں سے خطاب کرنے سے گریز کی راہ اپنائی تو پھر کامیابی ان کے مخالفین کے قدم چومے گی۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہو نگے۔ بلاول بھٹو زرادری کو اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے سے کہیں بڑے۔ہوشیار چالاک اور تجربہ کار کھلاڑیوں سے سابقہ پڑے گا جن میں میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف ،حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز شریف سمیت مسلم لیگ کے بڑے راہنما قابل ذکر ہیں۔ اور بلاول کییہ مد مقابل مخالفین ان کے خلاف ہر طرح کے حربوں کو آزمائیں گے۔انہیں انیس سو اٹھاسی،انیس سو نوے اور اسکے بعد کی انتخابی مہم کو مد نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہو گی۔ بلاول بھو زرداری کی اب تک کی گئی تقاریر کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابی مہم میں یہ غیر اخلاقی حملوں سے گریز کی راہ اپنائیں گے تو یہ پیپلزپارٹی کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔بلاول کو پورے پاکستان میں جانا ہے جبکہ حمزہ اور مریم نواز شریف کو محض لاہور تک محدود ہونا ہے یا زیادہ سے زیادہ پنجاب بھر میں جلسوں سے خطاب کریں گے۔اس حوالے سے بلاول کو کہیں بڑی پچ پر کھیلنا ہے حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز شریف محض کھلاڑی ہوں گے جبکہ بلاول اپنی ٹیم کے کپتان

یہ بھی پڑھیں  شاہ مردان شاہ پریس کلب سانگھڑ کے نئے منتخب عہدیداروں کو مبارک باد۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker