تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

عوامی مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے

zafar ali shah logoگیارہ مئی کے عام انتخابات سے لے کرنواز حکومت کی جانب سے بلائی گئی حالیہ کل جماعتی کانفرنس جس کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کااتفاقِ رائے لینا تھاتک تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے مابین سیاسی چپقلش جاری تھی عام انتخابات کے نتائج سامنے آتے ہی جے یوآئی کے سربراہ نے خیبر پختونخواہ میں حکومت سازی کے لئے مسلم لیگ نون اور دیگر سیاسی قیادت سے رابطے شروع کئے تھے اپنی مرضی کی حکومت سازی کے خواہاں اور آئے روز حکومت بنانے کے دعوے کرتے دکھائی اورسنائی دیتے مولانا فضل الرحمان کونون لیگ کی قیادت نے اس حوالے سے مایوس کیا اور واضح کیا کہ خیبر پختونخواہ میں عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے توحکومت کرنا اس کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور نون لیگ کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ کبھی نہیں بنے گی۔ اگرچہ سیاسی ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ روایات کوزندہ رکھتے ہوئے جیسا کہ ماضی میں ہوتااور دکھائی دیتا رہاہے کہ جو پارٹی وفاق میں برسراقتدار وہی صوبوں میں بھی چاہے اس کی اکثریت ہو یا نہ ہو اگر لیگی قیادت چاہتی تو وفاق میں حکومت بنانے کے بعد کسی بھی طرح خیبرپختونخواہ میں بھی مخلوط حکومت سازی میں کامیاب ہوجاتی اور اگر چاہتی تو سندھ میں بھی ایم کیو ایم اور دیگر قوتوں کے ساتھ مل کر حکومت بناتی اورابتداء میں کسی حد تک اس کی توقع بھی کی جارہی تھی مگر لیگی قیادت نے ایسی مہم جوئی کی بجائے نہ صرف سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کا احترام کرکے ایک نئی اور اچھی روایت کی بنیاد ڈالی بلکہ بلوچستان میں بھی اپنے ساتھیوں کی ناراضگی کے باوجود مخلوط حکومت کی قیادت ایک چھوٹی قوم پرست جماعت کو سونپ کر انتہائی بردباری کا مظاہرہ کیا جس کی مثال ماضی میں ملنا مشکل ہے ۔ ماہرین کے مطابق لیگی قیادت کی جانب سے پی ٹی آئی کو خیبر پختونخواہ میں اقتدار فراہم کرنے کی ایک وجہ شائد پی ٹی آئی کو حکومتی اور انتظامی حوالے سے عوام کے سامنے لانابھی تھا تاکہ الیکشن مہم میں بڑے بڑے دعوں اور وعدوں کے تناظر میں اس کی کارکردگی عوام کے سامنے رہے کیونکہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کی موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ہوگااگر کارکردگی اچھی رہی تو انتخابی نتائج بھی بہتر آئیں گے اور اگر کارکردگی بہتر نہ رہی جیسا کہ قلیل عرصے میں کسی حد تک نظرآرہاہے تو شائد اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی وہ کارکردگی دکھانے سے بھی قاصر رہے جس کا مظاہرہ گزشتہ عام انتخابات میں کیا تھا اگرچہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو قائم ہوئے ابھی مختصر عرصہ گزرا ہے سو مستقبل میں اس کی حکومتی کارکردگی بہتر ہو اس بات کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا تاہم اگر پی ٹی آئی کو اقتدار کا موقع نہ دیاجاتا اور وہ عوام کے سامنے ایکسپوز نہ ہوتی تو اگلے الیکشن میں اس کو وفاق میں بھی حکومت سازی سے روکنا بڑا مشکل ہوجاتا۔ بہرحال ذکر ہورہاتھا جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے مابین سیاسی چپقلش کا تو اگرچہ مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کو حکومت سازی سے روکنے میں کامیاب رہے نہ ہی پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت گرانے میں۔۔تاہم دونوں جماعتوں کے مابین حالات اور اختلافات غیرمعمولی سنگینی اختیارکرچکی تھی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اورجے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمان لنگوٹ کس کر ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے ذاتی الزامات لگانے پر اُتر آئے تھے پہلے جے یوآئی کے سربراہ نے عمران خان کو مبینہ طور پر یہودیوں کا ایجنٹ کہا اور الزام لگایا کہ پی ٹی آئی غیرملکی ایجنڈے کی تکمیل پر عمل پیرا ہے جس پر تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیاتھا جب کہ حالیہ ضمنی الیکشن کے مہم کے دوران لکی مروت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ نے بھی مولانا کو آڑھے ہاتھوں لیااور کہا کہ مولانا نے مجھے یہودیوں کا ایجنٹ کہا ہے تاہم ان کے ہوتے ہوئے کسی اور کو یہودیوں کا ایجنٹ بننے کی ضرورت نہیں ایک دوسرے پر الزامات اور مولانا کی جانب سے پی ٹی آئی کی قائم حکومت کا دھڑن تختہ کرنے اور نئی حکومت سازی کے لئے آئے روز منصوبہ بندی کی سرگرمیوں سے لگ نہیں آرہاتھا کہ دونوں جماعتوں کے مابین پیدا ہونے والی چپقلش کم ہوگی لیکن وفاقی حکومت کی بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے بعد جس میں مولانا فضل الرحمان اورعمران خان شریک رہے اور اطلاعات یہ تھیں کہ دونوں ایک دوسرے سے خوشگوار موڈ میں ملے حالات نے پلٹا کھایا اور کل جماعتی کانفرنس کے بعدمولانا نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب وہ خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی حکومت کے لئے مشکلات پیدا نہیں کریں گے دیکھا جائے تو یہ جمہوری عمل کے تسلسل اور قوم کی خدمت کے پیش نظربڑی حوصلہ افزاء بات ہے ۔اگر پی ٹی آئی کی حکومت عوامی اعتماد پر پورا نہیں اترتی تو اس پر سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کرنا جمہوری اور سیاسی عمل کاحصہ ہے اوراس کا احتساب کیسے ہونا چاہیئے اس کا بہتر فیصلہ اگلے الیکشن میں عوام ہی کرسکیں گے لیکن اب جبکہ پی ٹی آئی نے عوامی مینڈیٹ لے کر حکومت بنائی ہے تو اپنی پارلیمانی مدت پوری کرنا اس کا حق ہے اور جے یو آئی سمیت تمام جماعتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت

یہ بھی پڑھیں  فیصل آباد:اعتکاف سے گھر جانے والوں پر فائرنگ،بچی سمیت4زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker