تازہ ترینکالممیرافسر امان

اے اہل وطن کب تک ٹھوکریں کھاتے رہو گے؟

Mir-Afsar-Aman169سال ہو گئے پاکستان کو بنے ہوئے مگر اب تک منزل نہ مل سکی پاکستان کا مطلب کیا ’’لاالہ الا اللہ‘‘یہ نعرہ برصغیر کی فضاؤں میں گونجتا تھا اس نعرے پر متحدہ ہندوستان کے اُن علاقوں کے مسلمانوں نے بھی پاکستان کی تحریک کا ساتھ دیا تھا جن کے علاقوں میں پاکستان نے نہیں بننا تھا یہ صرف اور صرف اسلام سے محبت تھی جس کی وجہ سے یہ نعرہ مقبول ہوا تھا اس نعرے پر ہم نے پاکستان حاصل کیا تھا۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ نے قیامِ پاکستان سے پہلے۲۲؍ اکتوبر ۱۹۳۹ ؁ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا’’ مسلمانو! میں نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ دولت،شہرت اور آرام و راحت کے بہت لطف اٹھائے اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں ۔میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کے میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا حق ادا کر دیا میں آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا ایمان اور میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدا فعت اسلام کا حق ادا کر دیا اور میرا خدا یہ کہے کہ جناح بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے مسلمان جئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کے علم کو بلند رکھتے ہوئے مرے‘‘ کیا ہم نے قائد کے ان الفاظ پر غور فکر کیا؟ قائد اعظم کے یہ الفاظ ان کی اسلام سے وابستگی اور پختگی کا نمونہ ہیں یہ الفاظ ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو قائد اعظم ؒ کو سیکولر ثابت کرنے میں ایٹری چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں قائد اعظم ؒ نے تو اپنی پوری زندگی قیام پاکستان کے لیے کھپا دی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکستان مثل مدینہ عطا کر دیا لیکن کیا ہم نے قائد اعظم ؒ کے ان الفاظ کی لاج رکھی ہے ؟ آج تک ملک میں اسلام کا بابرکت نظام راج کیا ہے؟قائد اعظم کے یہ الفاظ ان کی اسلام سے محبت اور ان کے دینی عقائد اور فکرو نظر کو واضح کرتے ہیں قائد اعظم ؒ نے پاکستان کے اسلامی نظریہ حیات کو متعین کردیاتھا ۔ ۱۹۷۳ ؁ء کا اسلامی آئین بڑی جدوجہد کے بعد اللہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے دورحکومت میں ہمیں دیا مگر کیا اس اسلامی آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو رہا ہے؟ کیا اس ملک میں سود کا نظام نہیں چل رہا جو قرآن کی رو سے اللہ اور اس کے رسول ؐ سے جنگ ہے ؟ کیا یہاں عدل کا نظام قائم ہو گیا ہے جو اسلام کی روح ہے اور جس کے بغیر انصاف ممکن نہیں ؟ کیا انسان کی جان کی قدر ہے کہ قرآن کی روح سے ایک جان کا نا حق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے کیا آئے روز اخبارات میںیہ انکشافات نہیں ہو رہے کہ فلاں قاتل نے ۱۲۰؍ قتل کیے ہیں فلاں قاتل نے اتنے بے قصور لوگوں کو قتل کیا ہے یہ ٹارگٹ کلنگ کیا ہے؟ یہ اس حدیث کے مطابق نہیں ہے کہ رسول محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ مرنے والے کا پتہ نہیں ہو گا کہ اسے کیوں مارا گیاہے اور مارنے والے کو پتہ نہیں ہو گا کہ اس کو کیوں مار رہا ہوں۔ ا۱؍ فروری ۱۹۴۸ ؁ء کو قائد اعظم ؒ نے سبی میں دربار سے خطاب میں فرمایا تھا ’’ ہماری نجات کا واحد ذریعہ ان زرین اصولوں پر مشتمل ضابطہ حیات پر عمل کرنا ہے جو قوانین ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ؐ نے قائم کر دیے ہیں‘‘کیا ہم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ حجۃ الوداع، جو انسانی حقوق کا بنیادی چارٹر ہے کے مطابق اپنے ملک میں اقدامات کیے ہیں؟۲۱؍ فروری ۱۹۴۸ ؁ء ملیر کینٹ میں قائد اعظم ؒ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’ اب آپ کو اپنی سر زمین میں اسلامی جمہوریت معاشرتی انصاف اور اسلامی مساوات کے اصولوں کے احیاء اور فروغ کی پاسبانی کرنا ہے…اخوت،مساوات اور اتحاد ہمارے دین تمدن اور ثقافت کے بنیادی عنصر ہیں‘‘کیا ہم نے مدینے کی اسلامی ریاست اور خلفاء راشدین کی طرز حکومت کے مطابق اپنی ریاست کو استوار کیا ہے؟۲۶؍مارچ ۱۹۴۸ ؁ء چٹاگانگ میں قائد ؒ نے فرمایا تھا’’ اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا (مقصدحیات) اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل جمہوری نوعیت کا ہو گا ان اصولوں کا اطلاق ہماری زندگی پر اسی طرح ہو گا جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوا تھا‘‘قارئین! قائد ؒ کی اتنی صاف اسلام کے راستے کی طرف رہنمائی کے باوجود ہم نے اپنی ترجیحات کا تعین کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب پاکستان کے حکمرانوں اورقوم نے اللہ کو دینا ہے جس نے مثل مدینہ اسلامی ریاست عطا کی تھی جو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کی تھی اور قائد ؒ کی روح کو بھی پاکستانی قوم نے جواب دینا ہے کہ جس نے پاکستان کا اسلامی راستہ اپنے عمل اور بیانات میں متعین کر دیاتھا قائد اعظم ؒ تو یقیناً اللہ سے اجر پا لیں گے کہ انہوں نے سچ کر دکھایا، کیا ہم اللہ کے سامنے اس جواب دہی کے لیے تیار ہیں….؟یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اللہ سے عہد کریں کہ آج سے ہر پاکستانی اس ملک میں مدینہ کی اسلامی ریاست کے مطابق ملکِ پاکستان کو بنانے کی کوشش کریگا۔ حکمران توقو م کو69سال سے دھوکا دے رہے ہیں اگر اب اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھوں میں نہ لیا اور کچھ نہ کیا تو نہ جانے’’ اے اہل وطن کب تک ٹھوکریں کھاتے رہو گے‘‘۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button