تازہ ترینکالممیرافسر امان

اب حکومت کے کام عدلیہ کیا کرے گی!

دنیا کے جمہوری ملکوں میں عوام کے درمیان حقوق پر اختلاف،حکومتوں کی عوام کے ساتھ زیادتی،مملکتوںکے قوانین کی تشریح،حکومتی اداروں کی غلطیوں پر گرفت اور ملکوں کے آئینوں کی تشریح عدلیہ کے ذمے ہوتی ہے۔ اسی طرح سب ملک اپنے اداروں کے ذریعے امن وامان، قانون کا نفاذ ،عوام کے جانو مال کی حفاظت، اظہار راہی کی آزادی اور ملک کو آئین کے مطابق چلانے کے پابند ہوتے ہیں۔
مگرہماری حکومت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ منتخب عوامی حکومت کے کام بھی عدلیہ کیا کرے گی۔ حکومت کے پاس قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں ان پر قوم کا خرچہ ہوتا ہے ان کا کام ہے کہ ملک میں امن و امان قائم کریں مگر یہ کام قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں کر رہے ہیں مجرموں کو پکڑ کر عدالت کٹہرے میں نہیں لا رہے مظلوموں کی دادرسی نہیں ہو رہی ۔لوگوں کی نظریں عدلیہ کی طرف اُٹھ رہی ہیں اس لیے عدلیہ از خود نوٹس لے لے کر عوام کی داد رسی کر رہی ہے حکومت اپنی افادیت کھو چکی ہے۔ کراچی ہی کی مثال لے لیں اتحادی حکومت کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں ٹارگٹ کلنگ ختم نہیں ہو رہی بوری بند لاشیں روزانہ مل رہی ہیںوقفے وقفے سے سو سو قتل کرنے والے اور سو سے زیادہ قتل کرنے والے گرفتار ہوتے ہیں مگر ان کی گرفتاری کے بعد اس کا پتہ نہیں چلتا کہ مظلوموں کو انصاف ملا یا نہیں ملا۔ اتحادی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے قاتل دندناتے پھر رہے ہیں ان کو پتہ ہے کہ ان کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے اس کو کوئی بھی نقصان نہیں ہو سکتا اس لیے وہ قتل و غارت کر رہے ہیں۔جن ووٹروں نے اس حکومت کو اپنے ووٹ سے چُنا ہے اگر ان کی اپنی حکومت ان کی حفاظت نہیں کر سکتی تو ایسی حکومت کی کیا ضرورت ہے۔ حکومت جب مجرموں پر قابو نہیں پا رہی تھی تو کراچی میںمجبور ہو کر پاکستان کی سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور مظلوموں کی دادرسی کی۔مختلف لوگ پیش ہوئے قتل و غارت میں کمی محسوس کی گئی لوگوں کو اطمینان ہوا مگر پھر نااہل حکومت کے نا اہل کاروں نے معاملہ ٹھیک نہ ہونے دیا اور کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سیاسی بنیادوں پر رکھے گئے اہل کار مجرموں کو پکڑ کر چھوڑ دیتے ہیں اور حالات وہیں کے وہیں ہیں۔
اس کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ ملک میں لاپتہ افراد کا ہے خصوصاً مسئلہ بلوچستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتما م قومی کانفرنس منعقد کی گئی۔اس کانفرنس نے مسخ شدہ لاشوں اور لا پتہ افراد کا مسئلہ بھی کانفرنس میں اُٹھایا۔ ہماری ایجنسیاں کہتیں ہیں بلوچستان میں دوسرے لوگ بھی ہیں جو عوام کو لا پتہ کر رہے ہیں یقیناً یہ بات صحیح ہو سکتی ہے ان کے بقول20 غیر ملکی ایجنسیاں آزاد بلوچستان کے لیے سرگرم ہیں۔بلوچستان میں باغی لوگ121 فراری کیمپ 30فغانستان میں چلا رہے ہیں۔ہر ماہ50 حکومتی اہلکار شہید ہو رہے ہمارے حکومتی اداروں کے فرائض منصبی میں یہ بات شامل ہے کہ وہ غیر ملکی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو پکڑ کر ملک بدر کریں ان کو قانون کے حوالے کریں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں مغربی ملکوں کی ایجنسیاں اپنے اپنے مقاصد کے لیے کام کر رہیں ہیں وہ اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے لوگوں کو اغوا کرتی ہیںان ایجنسیوں کے لوگوں کوپرویز مشرف نے اپنے وقت میں اجازت دی تھی جو ہمارے لیے عذاب نبے ہوئے ہیں۔
ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے ایک مغربی ملک کی پارلیمنٹ میں ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کے منہ سے یہ بات نکل گئی کہ ان کے ملک کے فوج کے خفیہ والے پاکستان میں کام کر رہے ہیں اس بات کے انکشاف پر اس پارلیمنٹ کی ممبرکو مزاحمت برداشت کرنی پڑی اور اس خاتون نے اس غلطی پر پارلیمنٹ کی ممبر شپ سے استفٰی دے دیا ۔وزیررخارجہ حنا ربانی کھر صاحبہ کے حالیہ بیان جو انہوں نے پارلیمنٹ میں دیا کہ پرویز مشرف نے لاکھوں ویزے امریکیوں کو جاری کئے تھے﴿208161 ﴾معلوم نہیں یہ لاکھوں لوگ اتنے قلیل وقت میں پاکستان میں کیا کرنے آئے تھے اور کیا کر کے گئے یہ پاکستانی عوام کو معلوم ہونا چاہیے اس کے علاوہ ملک کے غدار حسین حقانی نے بھی اپنی سفارت کے دوران لاتعداد امریکیوں کو ویزے جاری کئے تھے جس پر پاکستانی اخبارات میں تبصرہ ہوتا رہایہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے خفیہ اداروں نے ریمنڈ ڈیوس کے کیس کے بعد ان کی نگرانی شروع کی اور ان میں سے کافی کو ملک سے باہر کیا لیکن پھر بھی یہ لاکھوں لوگ ہمارے ملک میں کیا کر رہے ہیں ان کے متعلق عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں سے بقایا رہ جانے والوں کو کب ملک بدر کیا جائے گا۔ وزیر اعظم صاحب نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر3 جولائی2012 ئ کو اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی اللہ کرے یہ مسئلہ جلدی حل ہو جائے۔ اگر حکومت کے ادارے ایسے اچھے کام کرتے رہیں تو عوام حکومت سے خوش ہوتی ہے مگر پھر بھی آئے دن سپریم کورٹ لاپتہ افراد کے بارے میں حکومت کے ادروں سے بازپرس کرتی

2
رہتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس انسانی مسئلے کو فوراً حل کیا جائے اور حکومتی ادارے عدلیہ پر بوچھ نہ ڈالیں اور اپنا کام خود کریں لا پتہ افراد کو جلد از جلد بازیاب کر کے ان کے خلاف عدالتوں میں کیس چلائے جائیں تاکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا ملے اور بے گناہ لوگوں کی دادرسی ہو ۔
قارئین پاکستان کا ہر شہری چاہتا ہے کہ ہمارا ملک مثالی ملک ہو، قانون کی حکمرانی ہو، عدالتوں کے فیصلوں کو دل سے مانا جائے، امن واما ن ہو، خوشحالی ہو، ایک دوسرے کا احترام ہو،ظلم اور زیادتی نہ ہو، انصاف کا بول بالا ہو،ہر شہری کے لیے ترقی کے برابر مواقعے ہوں،بڑے چھوٹے کو برابر کا انصاف ملے، بڑے سے بڑے کو بھی کرپشن میں استثنیٰ نہ ہو،ملک کی لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس آئے،نیپ کے سربرا ہ کا بیان کہ ملک میں روزانہ8ارب کی کرپشن ہو رہی ہے یہ نہ ہو، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ نہ ہو، اسٹریٹ کرائمز نہ ہوں ،بھتہ خوری نہ ہو،بوری بند لاشیں ملنا بند ہو،ٹارگٹ کلنگ نہ ہو،ملک میں خود کش حملے بند ہوں،مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے نہ ہوں،ہمارے اسکولوں بازاروں پر خود کش حملے نہ ہوں ، ہماری دفاعی انسٹالیشن پر حملے نہ ہوں، ہمارے خفیہ اداروں کے دفاتر پر حملے نہ ہوں،ہمارے پولیس اسٹیشنوں پر حملے نہ ہوں، ملک میں جاری اپنوں سے جنگ کا خاتمہ ہو، ہر بات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ریت پڑے، پاکستان کے ناراض لوگ بندوق رکھ دیں ۔ پاکستان کے دشمن پاکستان میںبوٹوں کی آواز کی افوائیں پھیلا رہے ہیں جن پر عوام کان نہ دھریں حکومت کی خرابیوں کے باوجودپاکستان کا مستقبل جمہوریت اور صرف جمہوریت سے وابستہ ہے۔ یہ ساری خواہشات اور اس کے علاوہ بھی خواہشات جو آپ چاہتے ہیں تو آج سے ارادہ کر لیں اور طے کر لیں کہ آئندہ الیکشن میںآئین کی دففہ62/63 کے تحت ملک کے نمائندوں کو پرکھ کر ووٹ دیں گے اور اس وقت اور ہمیشہ یہی ایک آئینی طریقہ ہے جو قومیں اپنے اپنے ملک کے آئین کے مطابق عمل کرتیں ہیں وہ مندرجہ بالا مصیبتوں میں مبتلا نہیں ہوتیں ورنہ مکمل تباہی ہمارا انتظار کر رہی ہے جس سے ہم بچ نہیں سکتے ہیں پوری قوم کو اپنے اللہ سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگنا چاہیے اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے پاکستانی قوم بڑی خوبیوں والی ہے ملک دشمن پاکستانی قوم کو مایوسی کی طرف دکھیلنا چاہتے ہیں مگر انشا اللہ وہ ناکامیاب ہوں گے اور پاکستانی قوم سرخ رو ہو گی۔

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button