کالممقصود انجم کمبوہ

’’اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘

رواں مالی سال کے عوامی بجٹ کے خد و خال اور پیچ و خم سے پتا چلتا ہے کہ دہشت گردی کے سلسلہ میں پاکستانی حکومت کو ملنے والی امریکی گرانٹس بھی بجٹ کی شدت کو کم کر سکی ہے نہ ہی ابھی تک اس کا حساب کتاب عوامی عدالت میں پیش کیا جا سکا ہے۔جب کہ امریکی حکام چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو اربوں ڈالر دینے کا کیا فائدہ ہوا ہے۔
ایک امریکی سینٹر قانون دان میک کین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ بد مزگی کا افغانستان کی جنگ پر منفی اثر پڑا ہے۔افغان صدر ناشکرا بن رہا ہے۔امریکی سینٹر بھی دو حصوں میں بٹ چکے ہیں ۔سینٹر جیمس کا کہنا ہے کہ ہمارا اربوں ڈالر پاکستان پر خرچ ہو رہا ہے جب کہ پاکستانی ہم سے نفرت کرتے ہیں۔یہ کس حد تک جائز ہے۔مزید یہ کہ امداد دینے سے پہلے پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑنے کے حتمی نتائج کی خبر سن لینی چاہیے۔پاکستان کا حقانی گروپ سے تعلق امریکہ کے اضطراب میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔پاکستان کے بغیر دہشت گردوں سے جنگ لڑنا ممکن نہیں ۔یہ بھی سچی حقیقت ہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں بہت زیادہ مالی و جانی نقصان اٹھایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو کوئی خطرہ نہیں ہے وہ قطعی محفوظ ہے۔جبکہ بعض امریکی سینٹر ز اور تھنک ٹینک کے پہلوان پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو خطرناک قرار دے کر اوبامہ حکومت کو اس کے خلاف سخت نوٹس لینے کا کہہ رہے ہیں۔
دوسری طرف پاکستانیوں کی اکثریت امریکی سینٹرز اور دیگر کلیدی سیاسی و عسکری عہدیداران کی طرف سے منفی بیانات پر سیخ پا ہو رہی ہے اور وہ نہ صرف امریکیوں سے نفرت کر رہی ہے بلکہ اپنے حکمرانوں اور عسکری قیادت سے بھی نالاں نظر آرہی ہے۔
ایرانی صدر محمود احمدی نژادکے اس بیانات سے کہ امریکہ پاکستانی ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔،نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔پاکستانی عوام میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور مذہبی عمائدین نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے علمائ دین کو متحد ہو کر امریکہ کے خلاف جنگ کرنے کا اعادہ کیا ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ طالبان کو ساتھ ملا کر نیٹو فورسز کا بھر پور مقابلہ کیا جائے۔
عوامی حلقوں نے سیاسی و عسکری قیادت پر دبائو بڑھا دیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے باز رہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم نے بندے مروا لیے ہیں ،فوجی شہید کروا لیے ہیں ،قیمتی جائیدادوں کو راکھ کروا لیا ہے اور پھر بھی ہم سے گلہ ہے کہ ہم ہرجائی ہیں۔اور اگر ہم ہر جائی ہیں تو وہ بھی ہم سے کرتے آرہے بے وفائی ہیں۔
امریکہ ہم پر دوہرے پن کے جو الزامات لگا رہا ہے اس کے رد عمل میں بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم تو دوہرے معیار والے نہیں ہیں جبکہ امریکیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ دوغلہ پن کے عادی ہیں ۔ایک طرف بھارت کو ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ہمیں ڈو مور کا سبق دیا جاتا ہے۔امریکی سی آئی اے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے بھارتی ایجنسی را اور اسرائیلی ایجنسی موساد کواستعمال کر رہی ہے۔ہمیں زندہ دفن کرنے کی سازشیں بنائی جا رہی ہیں۔ہماری عسکری اور ایٹمی قوت پرالزامات لگا کر ہمیں ڈو مور کا کہا جا رہا ہے۔اور طرح طرح کے منفی بیانات دے کرہماری عسکری قوت کا مورال گرانے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔میں نے اس صورتحال پہ ایک قطعہ تحریر کیا ہے۔
یہاں ہر سو پریشانیاں ہیں
فوجی مروا کر بھی بدنامیاں ہیں
امریکہ خوش نہیں ہو رہا انجم
رائیگاں جا رہی قربانیاں ہیں
ان حالات میںہمارا بجٹ کیسے عوام دوست رہ سکتا ہے؟نہ صڑف پرائی جنگ نے پاکستانی معیشت کو بری طرح تارتار کیا ہے بلکہ سیاستدانوں نے بھی اپنی شاہانہ روش تبدیل نہیں کی ۔خبر یہ ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں اربوں روپے رکن اسمبلی کے لیے سوٹس تیار کیے جانے کے لیے رکھے گئے ہیں اور نہ ہی کسی سیاستدان نے اپنا چلن بدلا ہے۔جنگ کے ساتھ ساتھ شاہی اخراجات کاسلسلہ جاری ہے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ہماری کمزوریوں سے ہمارے دشمنوں کو ان گنت فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔کیونکہ ہمارے ہاں کوئی ایسا محب وطن سیاستدان نہیں جو سب کو ایک میزپر اکٹھا کر کے دشمنوں کے منفی عزائم کو مٹی میں ملا سکے یہ ہماری بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔اگر کوئی سیاسی اتحاد بننے جا رہاہے تو وہ صرف اپنے مذموم مقاصد کے لیے جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تنائو بڑھے گااور ملک عزیز مزید خطرات میں گھر جائے گا۔
افغانی صدر کے حالیہ دورے سے پاک افغان کے مابین تنائوکم ہو گا اور مشترکہ جدو جہد سے تخریب کاری اور دہشت گردی کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔افغانی صدر کواصل حقیقت معلوم ہو چکی ہے۔اس لیے انہوں نے پاکستان کا رخ کیا ہے۔اسے معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی تعاون کے بغیر افغانستان کے سیاسی،اخلاقی،مذہبی و عسکری معاملات درست نہیں ہو سکتے۔طالبان کے ساتھ معاملات طے کرانے کے لیے پاکستان ہی قابل اعتماد دوست ہو سکتا ہے۔اب پاکستانی قیادت کو چاہیے کہ افغان صدر حامد کرزئی کے تمام قرضے اتار دے اور مل جل کر وہاں پرُ امن ماحول کو جنم دیا جائے اور امریکی فوجوں کے انخلائ کے بعد ایسی کاروائیوں سے مکمل گریز کیا جائے جس سے امریکیوں کو دوبارہ ادھر کا رخ کرنے کا موقع نہ ملے۔مستحکم افغانستان ہی ہم سب کے لیے ضروری ہے۔لہٰذا پاک افغان سیاسی و عسکری قیادت مل بیٹھ کر کوئی ٹھوس حل نکالیں۔اسی میں ہی ہم سب کی بہتری اور فلاح ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker