امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

اب کس سے آزادی مانگیں

پاکستان کو آزاد ہوئے 66 برس مکمل ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں، پوری قوم66واںجشن آزادی منانے کو تیار ہے ، پاکستان کن مقاصد کی خاطر حاصل کیا گیا یہ بھول کرہم اسی طریقے سے جشن آزادی مناتے ہیں جس سے جان چھوڑانے کے لیے لاکھوں سر قربان ہوئے ،ناچ گانا مسلمانوں کا کلچر نہیں ۔اسی کلچر سے تو ہم نے آزادی چاہی تھی مگر افسوس کے ہمیں سرحدیں تو آزاد مل گئی لیکن اسلام کے دشمن ایک بار پھر اپنا بے ہودہ ، ناچ گانے اوردنیا کی تمام برایئوں والا کلچرہمارے معاشرے میں پھیلانے میں کامیاب ہوگئے،اسی وجہ سے آج تک ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کو نہ تو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنا سکے ہیں ۔اور نہ ہی جمہوریت کو بحال کر سکے ہیں چودہ اگست ،انیس ،سو، سنتالیس میں جب پاکستان آزاد ہوا توفورا ہی انگریز نے بڑی خوبصورتی سے پٹواری کلچر، اقربا پروری،رشوت ستانی ،سفارش ،جنسی بے راہ روی،آفیسر شاہی،شراب نوشی و دیگر عیاشیوں کا عادی بناکر ہمارے حکمرانوں کو بھاڑے پر لگا دیا ،ٹھیک اسی طرح جیسے اگر بھینس دودھ دینے سے انکار کرے تو مالک پہلے اس کے سامنے پسندیدہ چارہ رکھتا اور اگر پھر بھی نہ مانے تو ٹانگیں باند کرٹیکہ لگا دیتا ہے اوربھینس نا چاہتے ہوے بھی دودھ دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں ،جب عوامی حکمرانوں سے اپنے مقاصد پوری طرح حاصل نہ کر سکا تو پاکستانی جمہوریت کو آمریت کے اتنے ٹیکے لگاے کہ آج جمہوریت اور آمریت میں کوئی فرق نہیں رہا،کچھ دن پہلے میری ملاقات پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ارشد گھرکی سے ہوئی ۔میرے ساتھ میرے محسن دوست ملک عمر شفیق بھی تھے ،عمر شفیق تجربہ کار صحافی ہیں ۔یہ ارشد گھرکی سے میری پہلی ملاقات تھی ۔ارشد گھرکی نہایت سادہ طبیعت کے مالک ہیں ،پہلی ملاقات میں ہی مجھ سے وہ اس طرح ملے کہ جیسے صدیوں سے جان پہچان ہو۔میری ان سے ملاقات سیاسی نہ تھی اس لیے علاقائی سیاست پر کوئی بات نہیں ہوئی لیکن میں نے ان کوملک قوم کے لیے انتہائی فکر مند محسوس کیا،ان کے مطابق پارلیمانی جمہوریت دیمک زدہ چھت کی طرح ہوچکی جس کو اگر فوری طور پر سہارا نہ دیا گیا اور دیمک زدہ بالے فوری تبدیل نہ کئے گے تو یہ گرنے والی ہے،انہوں نے مزید کہا اب بھی پاکستان کے حکمران اور عوام اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری آنے والی نسلیں پھر سے غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں۔ان کا خیال ہے ہمیں دوہری پالیسی چھوڑ کر ایک کشتی میں سوار ہونا چاہیے کیونکہ دو کشتیوں کے سوار ہمیشہ ہی ڈوب جایا کرتے ہیں،کوئی ایک گھنٹہ ہماری ملاقات جاری رہی، اس کے بعد میں نے اور ملک عمر شفیق نے اجازت چاہی توارشد گھرکی صاحب بڑی محبت سے اپنی نشست سے اٹھ کر دروازے تک ہمارے ساتھ آئے۔محترم قارائین یوں توایوان صدر ،ایوان وزیراعظم،پارلیمنٹ اور سینٹ میں بسنے والی مخلوق اپنے آپکو بڑی توپ چیز سمجھتی ہے لیکن درحقیقت یہ کٹھ پتلیاں ہیں صرف کٹھ پتلیاںجن کی ڈوریں امریکہ کے ہاتھوں میں ہیں امریکی آقائوں کے فیصلوں کے سامنے سرجھکانے والی یہ کٹھ پتلیاں حکومت تو پاکستان کی بیس کروڑ عوام پر کرتی ہیں مگر چلتی امریکی اشاروں پر ہیں ، جمہوریت کی دعوے دار سیاسی پارٹیوں میں دور،دور ،تک جمہوریت کا کوئی نشان نظر نہیں آتا ، موجودہ حکومت میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی میری مراد پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے، جو جمہوریت کی سب سے بڑی دعوے دار بھی ہے سد ا سے بھٹواور ابن بھٹو کے کنٹرول میں ہی ہے ،ملک کی دوسری بڑی پارٹی مسلم لیگ ن ہے جو ہمیشہ میاں نوازشریف کو ò بلا مقابلہ پارٹی کا صدر چن لیتی ہے اوراس طرح الیکشن کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ ۔کیونکہ جب نام ہی نوازلیگ ہے توپھر کوئی دوسرا ،اس پارٹی کا صدر کیسے بن سکتا ہے اس پارٹی الیکشن کی کوئی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ،تحریک انصاف حال ہی میں پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے لیکن جمہوریت کا تحریک انصاف میں بھی دور دورتک کوئی نشان نظر نہیں آتا ۔تحریک انصاف کے جو کارکن پچھلے 16سالوں سے عمران خان کے ساتھ دھکے کھارہے تھے ۔آج جب تحریک انصاف کو عوامی حلقوں میں مقبولیت نصیب ہوئی ہے تو تحریک انصاف اور عمران خان ان نظریاتی کارکنوں کو جانتے تک نہیں ۔اگر عمران خان حقیقی جمہوریت پسند ہوتے تو تحریک انصاف میںنئے آنے والوں کو پیچھے اور پرانے کارکنوں کو سامنے رکھتے ۔خیران باتوں سے کیا فرق پڑتا ہے ۔تحریک انصاف کے نئے سیاسی دامن میں اپنے بھیانک چہرے چھپانے والے سبھی پرانے حکمران ٹولے کے کارکن ہیں ۔جن کاشوق ہر حال میں حکمرانی ہے ۔اورملک کی چوتھی بڑی پارٹی چودھریوں کے قبضے میں ہے ۔جن کی بات ہی سمجھ نہیں آتی تو ان کا کردار کیسے سمجھ آئے گا۔جوکل تک پیپلزپارٹی کو چور ،ڈاکو،کرپٹ اور ملک دشمن قرار دیتے تھے اورآج پیپلزپارٹی کے اہم اتحادی ہیں۔سیاست دان ایک بات تو سچ ہی کہتے ہیں کہ سیاست میں حکومت حاصل کرنے کی خاطر کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔جوبھی حکمران آتا ہے اسے امریکا او راس کے اتحادیوں کی ضرورت عوام سے زیادہ ہوتی ہے ،اسی لیے عوام جیے یا مرے حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا،وہ اللہ کی بجائے امریکہ سے مدد مانگتے ہیں ، پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے پھر بھی پاکستان کے حکمران ہر قدم پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں،امریکی آقائوںنے پاکستانی حکمرانوں کو اپنی گرفت میں کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کوبھی پوری طرح انگریزی اور ہندئو کلچر میں اس قد
ر پھنسا دیا کہ آج ہم اپنا کلچر بھولتے جا رہے ہیں ہمیں ہمارے
تہذیب،وتمدن،نظریات،اور ثقافت سے دور کر کے دو وقت کی روٹی کے پیچھے پاگل کر دیا، اور ایک خودار قوم کوکبھی بینظیر انکم سپورٹ کی صورت اور کبھی دو روپے کی روٹی کی بھیک دی جاتی ہے،عوام بھی اس قدر بے حس ہوچکی ہے کہ اپنا حق نہیں مانگتی لیکن بھیک لینے کے لیے لمبی لمبی لائنوں میں ساری زندگی گزارنے میں بہت خوشی محسوس کرتی ہے ۔ملک کے معاشی حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ حکمران تو حکمرا ن آج محب وطن دانشور بھی یہ کہتے ہیں کے پاکستان امریکی امداد کے بغیر نہیں چل سکتا ، مگر میرے خیال میںاب ہمیںامریکی òغلامی کا طوق اپنے گلے سے اتار دینا چاہیے ۔کیونکہ غلامی کی سو سالہ زندگی سے آزادی کا ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے ۔ اسلحہ و طاقت اور بد تہذیب میڈیا کے بل بوتے پر امریکہ کسی بھی قوم کی زمینیں فتح کر سکتا ہے، ان کے جسموں پر حکومت کر سکتاہے ، مگر ان کے عقائدونظریات ،اور ضمیر کو قید نہیں کرسکتا ۔

یہ بھی پڑھیں  تھری جی کے دھوکے میں تاوان کی وصولی، موبائل صارفین ہوشیار ہوجائیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker