امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

اَب یاد آیا

imtiazنفسا نفسی کے اس دور میں انسان کو چاروں طرف سے کل کی فکر،فکر روزگار،مہنگائی،بدامنی،بچوں کی تعلیم و تربیت اور صحت کی فکر کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی پریشانیوں نے بُری طرح گھیررکھاہے ۔پریشانیوں میں گھرا انسان تنہائی اورخاموشی کی تلاش میں رہتا ہے ۔آپ نے اکثر دیکھا ہوگا،بھری محفل میں بھی کچھ لوگ اور کبھی کبھی ہم خود بھی محفل کی سرگرمیوں سے بے خبر دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے گفتگوکررہے ہوتے ہیں ۔ میری طبیعت بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے اُداس اور خاموش سی تھی۔بہت سے دوستوں کی شکائت 100فیصد جائز ہے کہ میں بہت دنوں سے فون کال رسیو نہیں کرتا اور نہ ہی ایس ایم ایس کا جواب دیتا ہوں ۔میری اس حرکت کی وجہ سے کچھ دوست تو مجھے مغرور کہنے لگے ۔اُن تمام دوستوں میں خاص طورپر بہت ہی پیارے دوست چیف ایڈیٹرپاک نیوزلائیو وسیم نذر اور ایڈیٹر پاک نیوز لائیوعقیل خان کالمسٹ سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ میں مغرور بالکل بھی نہیں ہوا اور نہ کوئی مغرور ہونے کی وجہ ہے۔ نہ میں کسی دوست سے ناراض ہوں ۔نجانے کیوں طبیعت تنہائی پسند سی ہوگئی تھی اور کسی سے بھی بات کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا۔زندگی کے معاملات میں کچھ کچھ چڑچڑا پن بھی تھا ۔ یوں سمجھ لیں کہ اب تو ڈیپریشن کی علامات ظاہر ہونے لگی تھیں۔ممکن تھا کہ مجھے چند دنوں میں کسی ڈاکٹر سے رابطہ کرنا پڑتا۔لیکن بھلا ہوکالمسٹ کونسل آف پاکستان پنجاب کے صدر حافظ جاویدالرحمٰن کا جنہوں نے مجھے 23مارچ کے پروگرام میں شرکت کی دعوت اس انداز سے دی کہ میں چاہتے ہوئے بھی انکار نہ کرسکا ۔23مارچ کی صبح سے ہی موسم کافی سہانہ ہوگیا تھا۔صبح سے شام تک ہونے والی ہلکی بارش نے موسم انتہائی خوشگوار بنائے رکھا۔دن کے ایک بجنے میں ابھی چند منٹ باقی تھے کہ میں اور میرے اُستاد ایم ۔اے تبسم مون مارکیٹ لاہور کے ایک ہوٹل(بلیو فلیم) میں پہنچے ۔جہاں پر ہمارا استقبال چیئرمین ایکشن کمیٹی سی سی پی وسیم نذرنے کیا۔کچھ ہی دیر میں باقی تمام دوست بھی تشریف لے آئے جن میں شیخوپورہ سے ساحر قریشی،حافظ جاوید الرحمٰن قصوری،عقیل خان آف جمبرجناب مرزا عارف رشید جو خصوصی طور پراس پروگرام میں بہاولپور سے تشریف لائے ان کے ساتھ ساتھ حکیم کرامت علی اوربہت ہی شوخ وچنچل ملک ساجد اعوان بھی فیصل آباد سے تشریف لائے ۔سی سی پی کے جنرل سیکرٹری فیصل اظفر علوی اسلام آباد میں مصروف تھے اس لئے اُن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات ہوئی اور کچھ دوست اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے نہ تشریف لا سکے ۔تین گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی اس ملاقات میں دوستوں نے گلے شکوے بھی کئے اور بہت سی محبتیں بھی بانٹی ۔دوستوں کے درمیان خوشیاں بانٹتے وقت کیسے گزر گیا پتا ہی نہیں ۔ملاقات کا وقت ختم ہواتو سب دوست ایک دوسرے سے گلے ملتے ملاتے رخصت ہوگئے ۔ہوٹل سے باہر نکلا توبہت دنوں بعد مجھے لاہور کی فضا صاف اور نکھری نکھری محسوس ہوئی۔ میں اپنی طبیعت میں کچھ تبدیلی محسوس کررہا تھا ۔جس طرح بارش میں نہا کر پھول ،پودے اور فضا تازہ دم ہوچکی تھی اُسی طرح دوستوں سے ملاقات کے بعد میری طبیعت بھی سنبھل چکی تھی ۔گھر پہنچ کر رات بھر یہی سوچتا رہا کہ آخر اتنے مختصر وقت میں مہینوں کی اُداسی کس طرح دور ہوگئی؟سوچوں کی کھڑکی سے نرم سی آواز میں شاعر نے پکارا
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا
بات سمجھ میں آگئی کہ طبیعت پہ چھائی اُداس تاریخی کودوستوں کی محبتوں کی روشنی نے چاٹ لیا تھا اور اب موسم بالکل صاف تھا ۔اللہ تعالیٰ میرے تمام دوستوں کو ہمیشہ خوش رکھے (آمین)

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑا:2نامعلوم ملزمان بھرے بازار میں لیڈی کانسٹیبل کا پرس چھین کر فرارہوگئے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker