پاکستانتازہ ترین

جنرل﴿ر﴾ عبدالقیوم ملک کا مسلم لیگ ﴿ن﴾ میں شمولیت کااعلان

اسلام آباد﴿بیورو رپورٹ﴾ مسلم لیگ﴿ن﴾ کے صدر میاں محمدنواز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ملزمان کی حکومت ہے اور حکومت کے ناکردہ گناہوں میں اس کے اتحادی بھی برابر کے شریک ہیں۔ آئین توڑنے والے جرنیلوں کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔ ملک میں ایسے جرنیل بھی ہیں جو آئین و قانون کا احترام کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کردی ہے کہ آئندہ سال پوزیشن ہولڈرز طلبائ میں تین لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں۔ موجودہ حکومت نے کرپشن کے اپنے قائم کردہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں تقریب اور بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میں سندھ‘ پنجاب‘ بلوچستان‘ خیبرپختونخوا‘ فاٹا‘ کشمیر اور گلگت سے آنیوالے طلبائ کوخوش آمدید کہتا ہوں۔ ہمارا آج گزرے کل سے بدترہے مگر ہمارا ماضی میں آج اور کل دونوں بہتر تھے۔ اس دور میں خودکش حملے اور دہشت گردی نہ تھی۔ کراچی میں امن وامان اور بلوچستان امن کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔ پاکستان ترقی کی بلندیوں کو چھورہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد والے نہیں بلکہ دلی والے پاکستان آتے تھے۔ روپے کی قدر میں اضافہ ہورہا تھا۔ ہم نے ہر محاذ پر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا۔ ہم نے اپنے دور میں موٹروے بھی امریکہ یا کسی اور ملک سے بھیک مانگ کر نہیں بنائی تھی بلکہ اپنے وسائل سے تعمیر کی تھی۔ آج نئے نویلے سیاستدان کہتے پھررہے ہیں کہ یہ اپنی باریوں کاانتظار کررہے ہیں۔ ہمیں اپنی باری مکمل کرنے دی جاتی تو پورے ملک میں ترقی ہوچکی ہوتی۔ جرنیلوں کو 10 سال حکومت کا موقع ملتا ہے مگر جمہوری منتخب حکومت کو صرف 2 یا ڈھائی سال حکومت کا موقع دیاجاتا ہے۔ ہمیں اگر 10 سال حکومت کا موقع ملے تو ہم ملک کی تقدیر بدل دینگے۔ ہم ایشیائ کے ٹائیگر بنتے جارہے تھے لیکن ہماری حکومت ختم کردی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے علم نہیں ‘ ان طلبائ کا کس پارٹی سے تعلق ہے مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں پر سفارش نہیں چلتی بلکہ میرٹ پرکام ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ گارڈ آف آنر طلبائ کو پیش کیاگیا کسی مشرف کو نہیں مگر ہمارے حکمرانوں نے اس کو گارڈ آف آنر پیش کیا جس نے ملک کے آئین وقانون کو توڑا اور ججوں کو گرفتار کیا۔ اگر وفاقی حکومت پنجاب حکومت کی مدد کرتی تو بہت کچھ کیاجاسکتا تھا۔ میں اصولوں کی خاطر 7 سال جلاوطن رہا لیکن آج تک 7 ہفتے ملک سے باہر نہیں رہا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل﴿ر﴾ عبدالقیوم ملک نے کہا کہ میں مسلم لیگ﴿ن﴾ میں شمولیت اختیار کررہا ہوں۔ ﴿ن﴾ لیگ سے پارٹی میں شمولیت کی دعوت ملی تھی جسے میں نے قبول کیا ہے۔ میں نے جب ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ دیکھا تو مجھے میاں نوازشریف کے اندر نظر آیا اور میرے دل میں ہمیشہ ان کااحترام رہا۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ نواز شریف نے سیاچن سے فوجیں یک طرفہ واپس بلانے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ یہ کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں اور دونوں ممالک اس محاذ سے اپنی فوجیں واپس بلالیں۔ عمران خان بیان تراشنے کا ماہر ہے۔ اس کے پاس کسی قسم کا منشور نہیں ہے۔جنرل قیوم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے بے نظیر بھٹو کیساتھ بطور اے ڈی سی ڈیوٹی کی ہے مگر میں نے کبھی ان کی گھریلو زندگی میں دخل اندازی نہیں دی لیکن اس بات کا علم ہے کہ بے نظیر بھٹو کبھی آصف زرداری سے سیاسی مشاورت نہیں کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں  آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker