تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

عبدالرشید گوڈیل – دہشت گردی یا ٹارگٹ کلنگ

imran farooqشجاع خانزادہ کی شہادت کے بعد عبدالرشید گوڈیل پر ہونے والے قاتلانہ حملہ نے سراسمیگی پھیلا دی ۔ گوڈیل صاحب اپنی رفیقِ حیات کے ہمراہ شاپنگ کے بعد واپس گھر جارہے تھے جب وہ بہادر آباد کے علاقہ میں پہنچے تو اُن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ۔ اِ س حملہ کے دوران اُن کا ڈرائیور جاں بحق ہو گیا۔ اُنہیں پانچ گو لیاں لگیں ۔ ابھی تک موت و حیات کی کشمکش جاری ہے ۔ عبدالرشید گوڈیل کا شمار ایم ۔کیو ۔ایم کے نسبتاً معتدل مزاج رہنماؤں میں ہوتا ہے ۔ اُنکی حُب الوطنی کسی قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہے ۔ گوڈیل نے ماضی میں ایم ۔کیو۔ ایم کی سرگرمیوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قومی اسمبلی میں اپنا مؤقف کھل کر پیش کیا۔ایم ۔کیو ۔ایم کے ایم۔ پی ۔ایز ،ایم۔ این۔ ایز اور سنیٹرز کے اجتماعی استعفوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے وقت اُنہوں نے برملا اظہار کیا کہ شائد وہ ستمبر کا سورج نہ دیکھ سکیں ۔ اُنکے بعد فاروق ستار کی باری آئیگی۔ ظاہر ہے کہ کوئی اپنی زندگی کے خاتمہ کا تذکرہ ازراہِ مذاق نہیں کرتا۔
عبدالرشید گوڈیل پر قاتلانہ حملہ کے وقت ایم ۔کیو ۔ایم کے اجتماعی استعفوں کی واپسی کیلئے مولانا فضل الرحمان مذاکرات کی غرض سے نائن زیرو یاترا پر تھے ۔ایم ۔کیو ۔ایم کی رابطہ کمیٹی کے تمام ارکان ،ایم ۔پی ۔ایز، ایم ۔این ۔ایزاور سنیٹرز کو نائن زیرو حاضر رہنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ وہ کونسا امر مانع تھا کہ عبدالرشید گوڈیل کو یہ ہدایت نہ کی گئی ؟گوڈیل صاحب کی غیر موجودگی نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس سے ایم۔ کیو۔ ایم کے حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی کا اظہار ہو تا ہے۔ ایم ۔کیو ۔ایم کے سنجیدہ حلقوں میں ایم ۔کیو۔ ایم کے عسکری ونگ کی منفی سرگرمیوں پر کافی تشویش پائی جاتی ہے ۔ ایم۔ کیو۔ایم کے سیکٹر انچارج صاحبان کا کردار انتہائی مشکوک ہے ۔ ایم۔ پی۔ ایز ، ایم۔ این۔ ایز اور سنیٹرز ان سیکٹرانچارج صاحبان کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہیں ۔ اپنی 23سالہ جلا وطنی کے دوران الطاف حسین نے پارٹی اور کراچی کو انہی سیکٹر انچارج صاحبان کے ذریعے قابو میں رکھا ۔ اِن سیکٹر انچارج صاحبان کو دیئے جانے والے بے جا اختیارات نے اِنکو بے قابو کر دیا ہے ۔ کراچی میں ہونے والی مختلف منفی سرگرمیوں میں یہ سیکٹر انچارج صاحبان یا عسکری ونگ کے لوگ ملوّث ہیں ۔
چند روز قبل مصطفٰے کمال سابقہ میئر /ناظم اعلیٰ کراچی کی اسلام آباد میں موجودگی کا الطاف حسین نے بہت برا منایا ۔ اُنکے نزدیک مائنس الطاف فارمولہ پر عمل ہو رہا ہے ۔ مصطفٰے کمال کی طرف سے مہیا کردہ معلومات نے بھی الطاف حسین اور اُنکی تحریک کے کارکنان کی کرتوتوں کو سب پر عیاں کر دیا ہے ۔ مصطفٰے کمال کی اسلام آباد میں موجودگی نے الطاف حسین کو سیخ پا کر دیا ہے ۔ اس لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر اجتماعی استعفوں کا فیصلہ کیا گیا ۔ وہ شروع دن سے ہی پریشر ڈالنے کی سیاست کر تے رہے ہیں ۔ لیکن حالیہ کراچی آپریشن اور بر طانیہ میں قائم شدہ مقدمات نے الطاف حسین کا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔ ان حالات میں گوڈیل پر قاتلانہ حملہ بھی کافی معنی خیز ہے ۔ ایم۔ کیو۔ ایم کے کئی رہنما زیرِ زمین چلے گئے اور کئی بیرون ملک فرارہوچکے ہیں ۔ عبد الرشید گوڈیل کی طرف سے ستمبر کا سورج نہ دیکھنے کی پشین گوئی کوئی مذاق نہیں ہو سکتا ۔ اِسی طرح حیدر عباس رضوی ایم ۔پی ۔اے بھی کافی عرصہ سے میڈیا سے غائب ہیں ۔ حالانکہ وہ کراچی میں ہی مقیم ہیں ۔ عبدالرشید گوڈیل ،حیدر عباس رضوی اور مصطفٰے کمال میں کافی قربت پائی جاتی ہے ۔ یہ قربت ہی اس حادثہ کا سبب ہے ۔ اِسے قاتلانہ حملہ نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ کہنا چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اِس محبِ وطن پاکستانی عبد الرشید گوڈیل کو جلد از جلد صحت عطا کرے اور لمبی عمر عطا فرمائے۔ (آمین )

یہ بھی پڑھیں  پنجاب حکومت بچوں کو قتل کرنے والے دہشت گردوں کو پکڑنے کی بجائے چائلڈ لیبر استعمال کرنے والے بھہ مالکان کو پکڑ رہی ہے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker