تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا چوک میں سیلاب زداگان کی امداد کے حوالے سے لگائے گئے این جی او کے کیمپ کی قانونی حیثیت مشکوک

ٹیکسلا(نامہ نگار)ٹیکسلا چوک میں سیلاب زداگان کی امداد کے حوالے سے لگائے گئے این جی او کے کیمپ کی قانونی حیثیت مشکوک ، اسسٹنٹ کمشنر ٹیکسلا نے این جی او کے کیمپ کی اجازت نامہ کے حوالے سے لا تعلقی کا اظہار کردیا، ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل بھی کیمپ لگانے کی لیگل حیثیت سے لاعلم،متاثرہ افراد کی این جی او کے خلاف احتجاج کی خبروں کی اشاعت ٹیکسلا میں این جی او کی فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں لگایا گیا امدادی کیمپ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ، رات گئے میوزک کنسرٹ کے پروگرام این جی او کی حرکات و سکنات موضوع بحث بن گئیں ٹیکسلا پولیس نے رات کو کیمپ بند کرایا صبح پھر کھل گیا،اجازت نامے کے بغیر ٹیکسلا کے حساس ترین مقام پر کیمپ کا انعقاد انتظامیہ کے لئے کھلا چیلنج بن گیا ، تفصیلات کے مطابق ٹیکسلا چوک میں سیلاب زدگان کی امداد کے حوالے سے گلوبل پیس فاونڈیشن نامی این جی ا وکی جانب سے کیمپ لگایا گیا ہے، اس ضمن میں مقامی میڈیا نے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے ان مردد خواتین کو موقف لگایا جس میں مذکورہ این جی او کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے واضح کیا گیا کہ ان لوگوں نے کئی غریب لوگوں سے راشن دینے کے بہانے پیسے وصول کئے جبکہ انکی تصاویر اور دیگر کوائف بھی حاصل کئے مگر اتنا اعرصہ گذرنے کے بعد بھی انھیں نہ راشن دیا گیا نہ پیسے،میڈیا نے حقائق پر مبنی خبروں کی اشاعت میں اپنا بے لوث کردار اد ا کر کے انٹظامیہ اور اعلیٰ حکام کو میسج دیا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث این جی او جو سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے گھریلو سامان اور فنڈز اکھٹا کر رہے ہیں نکی کیا قانونی حیثیت ہے کیا انھیں انتظامیہ نے باقائدہ ٹیکسلا جیسے حساس مقام پر کیمپ لگانے کی اجازت دی ، مگر میڈیا کے استفسار پر اسسٹنٹ کمشنر صاف مکر گئے اور بتایا کہ انھوں نے کسی این جی او کو ٹیکسلا چوک میں کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی جبکہ ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل نے بھی معاملہ سے لاعلمی کا اظہار کیا، ادہر یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ نے کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی تو کیا انھوں نے آنکھیں موند رکھیں ہیں ،پھریہ لوگ کس کی آشیر باد پر حساس ترین جگہ سر عام فنڈ ریزنگ میں مصروف ہیں ، جس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں کیا یہ ایکٹ قانون کو ہاتھ میں لینے کے مترداف نہیں ، اور کیوں نہیں میڈیا کے بار بار اجاگر کرنے پر ان لوگوں کی کوئی باز پرس نہیں ہورہی میڈیا نے اس کی حقیقت جاننے کے لئے اے سی اور ڈی ایس پی ٹیکسلاسے رابطہ کیا جنہوں نے مذکورہ کیمپ کی بابت قانونی اجازت نامہ دینے سے انکار کردیا ، اب کون سے عناصر ہیں جو ان لوگوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جن کی آشیر باد ان لوگوں کو حاصل ہے جبکہ پولیس اس ضمن میں کوئی کاروائی کرنے سے گریزاں ہے،جبکہ میڈیا کے نمائندوں کے دفاتر پر مذکورہ این جی او کے افراد کے حملوں پر ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل کو دی گئی قانونی کاروائی کے لئے درخواست پر بھی تاحال عمل نہ ہوسکا ،صدر ٹی یو جے سید رضوان حیدر نے حق کی آواز بلند کرنے پر غنڈہ گرد عناصر کے خلاف کے التوا پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ افسران سی پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقع ہ میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے بصورت دیگر انتہائی احتجاج پر مجبور ہونگے ، میڈیا کے انھوں نے میڈیا کے نمائندوں کے دفاتر پر حملوں کی بابت اعلیٰ قیادت کو بھی آگاہ کردیا قیادت کی مشاورت کے بعد اگلے لائح عمل کا اعلان کیا جائے گا۔انھوں نے واضح کیا کہ وہ انصاف کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔میڈیا کے نمائندوں کے دفاتر پر حملہ آزادی صحافت پر قدغن لگانے کے مترداف ہے،ہم قلم کا جہاد جاری رکھیں گے،اور حق اور سچ کی آواز کو دبانے والے عناصر کا بھرپور احتساب کریں گے

یہ بھی پڑھیں  بنو جیل پر حملہ،واپس آنے والے قیدی کے انکشافات

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker