شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / اچھے انداز میں بات چیت کر لینا مکمل اخلاق نہیں!

اچھے انداز میں بات چیت کر لینا مکمل اخلاق نہیں!

اچھے اندا زمیں بات چیت کرنا، لب لہجہ نرم اختیار کرنا اخلاق کا ایک ادنیٰ سا درجہ ہے ناکہ مکمل اخلاق ہے، ہمارے ہاں اچھے انداز میں بات کر لینا مکمل اخلاق سمجھا جانا عام ہو چکا ہے، اخلاق کا اعلیٰ ترین درجہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق کی خدمت کرنا ہے، اب اس خدمت سے بھی ہم سب ناواقف ہیں، ہم راہ چلتے پیشہ ور فقیروں کی مدد کرنا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ خدمت نہیں بلکہ ایک ہٹے کٹے، تندرست انسان کو ہڈ حرام بنانے میں اس کی معاونت کرنا ہے، یاد رکھیں حق دار انسان کبھی سڑکوں پر دوائیوں کے دس سال پرانے نسخے اُٹھا کر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا، آج کل روایتی بھکاریوں نے بہت سے انداز بھیک اپنا رکھے ہیں، ان انداز بھیک میں زیادہ نظر آنے والا یہ انداز ہے کہ اپنا یا پھر اپنی کسی ہمسائی یا رشتہ دار کا چھوٹا بچہ گود میں لیکر اس کی بیماری بیان کرکے یا پھر اس کی بھوک پیاس بیان کرکے مخیر و غیر مخیر حضرات کے آگے بھیک مانگنے کیلئے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں، حق دار انسان کبھی بھیک نہیں مانگتا، دراصل بھیک مانگنے میں حق دار غریب انسان کو موت نظر آتی ہے، پھر یہ غریب انسان غربت، گھر والوں کی بھوک پیاس برداشت نہ کرتے ہوئے یا تو صرف اپنی جان دے دیتا ہے یا پھر پورے خاندان کی جان لیکر خودکشی کر لیتا ہے۔
بات چل رہی ہے کہ اچھے اخلاق اصل میں ہیں کیا؟ اچھے اخلاق کو ہمارے ہاں بات چیت احترام سے کر لینا ہی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ اخلاق کا ادنیٰ درجہ ہے، میں اس بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ اچھے انداز میں بات کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن اختلاف اس بات کا ہے کہ اچھے انداز سے بات چیت کرلینے کو مکمل اخلاق سمجھنا غلط ہے، بات سمجھانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اچھے انداز سے بات کرنا اخلاق کی اعلیٰ منزل تک پہنچنے کی پہلی سیڑھی ہے، اس اخلاق کی بے شمار سیڑھیاں ہیں لیکن ہم پہلی سیڑھی پر چڑھ کر خود کو دنیا کا کامیاب ترین انسان تصور کرنے لگتے ہیں، کیونکہ ہمیں بچپن ہی سے ہمارے بڑے اخلاق صرف اچھے انداز میں بات کرنے کو ہی سمجھاتے ہیں، مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو کسی سے بات کرنے میں جمع کے صیغے استعمال کرنا سکھاتی ہیں، مثلاً ”بیٹا آپ مجھے وہاں سی کرسی اُٹھا کر دیدیں“۔ اب بچے کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ ”دیدو“ یا ”دیدے“ نہیں کہنا بلکہ ”دیدیں“ کہنا ہے، لیکن اس فقرے میں چھپی دیگر باتوں سے آگاہ نہیں کیا جاتا، حالانکہ اس فقرے کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو اس فقرے میں ماں کی خدمت چھپی ہے، اب نہ تو ماں بچے کو اس خدمت سے آگاہ کرتی ہے اور نہ بچہ ساری عمر اس خدمت سے واقف ہو پاتا ہے، بات بہت باریک ہے سمجھنے میں مسائل در پیش آسکتے ہیں، لیکن باریک بینی کی اس بات کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اخلاق کا اعلیٰ ترین درجہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوقات، اشرف المخلوقات کی خدمت کرنا ہے، اس خدمت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ سارے کام کاج چھوڑ کر صبح دوپہر شام ان کی ٹانگیں دبائیں، ان کا سر دبائیں، ہاں اپنے والدین، بہن بھائیوں کی ضرور خدمت کریں اس سے کوئی اختلاف نہیں، ماں باپ کو دن رات جب وقت ملے دبانا چاہئیں کہ ان کے ہمارے اوپر پیدا ہونے سے مرنے تک بہت احسانات ہوتے ہیں، اخلاق کا اہم درجہ ہے کہ والدین کی خدمت کی جائے اور بیوی شوہر کی خدمت کرے، افسوس کہ آج کل لوگ دوسروں کی خدمت تو دور کی بات اپنے والدین کی بھی خدمت نہیں کرتے اس میں خرابی کہاں سے آرہی ہے؟ اس میں خرابی بچوں کی پرورش میں آرہی ہے، بچوں کو تمیز سے بات کرنا سکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں انسانیت کی خدمت کرنا سکھائیں، بچے کا ذہن کھولیں، مثلاً اگر آپ بچے کو دس روپے روزانہ کھانے کی چیزوں کیلئے دے رہیں تو اس کے ہاتھ سے دوسرے بچوں کو چیزیں تقسیم کروائیں، اسے سکھائیں کہ دوسروں کو بھی اپنے حصہ میں سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلائیں کہ زندگی کی خوبصورتی دوسروں کی خدمت کرنے میں ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں بچوں کو سکول جانے کے وقت جو لنچ باکس دیا جاتا ہے تو اسے سختی سے منع کیا جاتا ہے کہ یہ لنچ باکس کسی اور کو نہیں دینا، کسی کو روٹی کا نوالہ تک نہیں دینا، خود ہی کھانا ہے، اب بچہ بات تو تمیز سے کرنا سیکھ گیا لیکن اخلاقیات کا اعلیٰ درجہ انسانیت کی خدمت سے فارغ ہو گیا، مثلاً اب یہ بچہ سکول جائے گا، لنچ باکس کھولے گا تو اگر اس سے کوئی دوسرا بچہ کھانا مانگے گا تو وہ اُسے بڑے ہی احترام سے کہے گا کہ یہ میرا لنچ باکس ہے، آپ مہربانی کریں میں یہ کھانا آپ کو نہیں دے سکتا، آپ اپنا کھانا کھائیں، اب یہ بات تو تمیز سے کرنا سیکھ گیا لیکن انسانیت کی خدمت سے کوسوں دور ہو گیا، اس کا نقصان اُس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ بچہ جوان ہو جاتا ہے، ایسے بچے جوان ہو کر سب سے پہلے اپنے والدین کی خدمت سے دور بھاگتے ہیں، پھر بہن بھائیوں کی، یعنی ان کی بچپن کی گئی پرورش کی غلطیاں سب سے پہلے اس کے گھر والوں کو بھگتنا پڑتی ہیں۔
ماؤں سے التماس ہے کہ بچوں کو اچھے انداز میں بات کرنا سکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں انسانیت کا مسیحا بنائیں، نہ کہ لوگوں (معاشرے) کیلئے درندہ بنائیں، نہیں تو یقین جانو اس کی درندگی کا شکار سب سے پہلے آپ خود ہوں گے، اب میں یہاں ذرا لوگوں کو بتاتا چلوں کہ اخلاقیات کا اعلیٰ درجہ کیا ہے؟ واضح رہے کہ میری بات کوئی پتھر پر لکیر نہیں، جو میرے تجزیہ میں آیا وہ لکھ رہا ہوں، میں غلط بھی ہو سکتا ہوں، چلیں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اخلاقیات کے اعلیٰ درجہ تک آپ کیسے پہنچیں گے، لوگوں کی بے لوث خدمت کرنا یعنی بغیر کسی صلہ کے بغیر کسی لالچ کے، کسی غریب کو دوائیاں لے کر دینا کہ اُس کی زندگی ان دوائیوں سے چل رہی ہے، غریب انسان کے بھوکے پیٹ میں روٹی کا نوالہ پہنچانا، کسی کے ننگے بدن کو کپڑے دینا، سردی ہے غریب لوگوں کو جرسیاں سویٹر دیں، غریب لڑکی یا لڑکے کی شادی میں اس کی مدد کرنا، معذور افراد کا خاص خیال رکھنا، چھوڑ دو یار ان روایتی فقراء کو نوازنا، اور حق داروں تک حق پہنچاؤں، حقداروں کی تلاش میں نکلو گے تو تمہیں اپنے ہی گھروں میں حقدار مل جائیں گے، یہاں ایک بات اور واضح کرتا چلوں کہ اعلیٰ درجے کا اخلاق یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے اپنے گھر، اپنے خاندان، اپنے ماں باپ، بہن بھائی، اولاد کو دیکھیں کہ انہیں کسی مدد کی ضرورت تو نہیں ہے؟ باہر آپ لاکھوں روپیہ امداد کر دیں اور گھر میں کوئی مستحق ہے تو آپ کو وہ اجر لاکھوں روپیہ باہر دیکر نہیں ملے گا جو اپنے بہن بھائی و دیگر رشتہ داروں کی تھوڑی سی مدد کرنے سے ملے گا، ہاں دیکر احسان جتلانا، طعنہ زنی کرنا اخلاقیات کی تباہی کا باعث ہوتے ہیں اور پھر اس تباہی کو صرف ایک انسان نہیں بلکہ نسلیں بھگتتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : تعزیتی اجلاس ،مرحوم منو بھا ئی اردو صحافت اور ادب کا درخشندہ ستارہ تھے . مقررین

What is your opinion on this news?