Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
شہ سرخیاں

ادبی خدمات

zeshanکوئی بھی تخلیق کار جب اپنی تخلیق کاری میں اپنی مٹّی کی مہک شامل کرتا ہے تو اس کا یہ عمل اپنی دھرتی سے محبت کا بیّن ثبوت ہوتا ہے، یہ اس بات کا بھی ثبوت ہوتا ہے کہ وہ اپنی دھرتی پر مضبوطی سے کھڑا ہو کر تخیل کے آسمان وزمین کی وسعتوں میں جھا نک رہا ہے اور اپنے مرکز سے جڑاہوا ہے، امجد جاوید بھی ایک ایسے ہی تخلیق کار ہے،وہ 1965 کو حاصل پور میں پیداہوئے، انہیں اپنے چولستانی ہو نے پر نہ صرف فخر ہے بلکہ وہ اپنی تخلیق کاری میں صحرا اور اس سے جڑے ہوئے استعارے اور علامتیں بھر پور انداز میں استعمال کرتے نظر آتے ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے روہی ان کے اندر بس چکی ہے اور وہ چولستان کی وسعتوں میں کہیں کھو گئے ہے، والد چوہدری عبدالعزیز ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ڈرائیورتھے والدہ سکینہ بی بی کا تعلق مشہور صوفی بزرگ بابافرید ؒ کے شہر پاکپتن سے تھااسی لیے ان کے مزاج سے صوفیانہ رویے کی خوشبو آتی تھی،امجد جاوید کے دو بھائی انجم ندیم اور سہیل عزیز اوراکلوتی بہن نازیہ عزیز ہیں، امجد سب سے بڑے ہیں ، والدین نے امجدجاوید کانام امجد عزیزرکھا لیکن جب انھوں نے ادبی دنیا میں قدم رکھا توامجد کے ساتھ جاویدکا اضافہ کرلیا،لیکن لطف کی بات ہے کہ ان کا خاندان اور والد کے دوست آج بھی امجد عزیز کے نام سے پکارتے ہیں،امجد کی دائی مائی نے ان کا نام فہیم الحق رکھا تھالیکن اس کو پذیرائی نہ ملی ،امجد جاوید کے آباء واجداد کاتعلق ضلع ہوشیار پور کا گاؤں دارا پور تھادادا فقیر محمد شہاب الدین کے اکلوتے بیٹے تھے قیام پاکستان کے بعد ریاست بہاولپور کے ضلع بہاولنگر کے ایک گاؤں چک ۳۶مراد میں ڈیرہ جما لیا ۔امجد نے ابتدائی تعلیم حاصل پور کے مقامی اسکول سے حاصل کی، امجد اپنی پہلی استادوالدہ کو مانتا ہے، والدہ خودتو کبھی کسی اسکول نہیں گئی تھی لیکن انہوں نے اپنی محنت سے حروف اور لفظوں کی شد بد حاصل کر لی تھی، امجدنے مولانا قمر الدین اور مولانا محمد سلیم سے قرآن پاک پڑھا۔ اسکول میں پہلے استاد محترم خورشید احمد صاحب تھے ۔امجد نے بچپن میں درسی کتابیں کم اوربچوں کے رسائل زیادہ پڑھئے ،امجد جاوید اپنے اظہار میں جا بجا خواجہ غلام فرید سرکارؒ ہی کا حوالہ دیتے ہے، جس طرح حضرت اقبال ؒ صحرا میں لالہ فام کھلنے کی بابت فرماتے ، بالکل اسی طرح امجد جاوید بھی ادبی مراکز سے دور جنوبی پنجاب میں ناول نگاری کرتے چلے جا رہے ہے، جیسے کوئی درویش کسی ٹیلے پر جنڈ کے درخت تلے اپنے ہی گیان دھیان میں مگن بیٹھا ہو، اس کی تخلیق کاری کو کون کس طرح لیتا ہے ، کس طرح دیکھتا اور پر کھتا ہے ، وہ اس معاملے میں بے نیاز ہے اور بس لکھتا چلا جارہا ہے،اب تک ان کے لکھے ہو ئے ناولوں کی تعداد اٹھارہ ہو گئی ہے۔امجدکا پہلا ناول ’’ چہرہ‘‘ ہے جس میں نفسیاتی الجھنوں اورفلسفہ کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے،مغلیہ عہد کی لازوال داستان ’’تاج محل‘‘ تخیل اور تاریخ کا بہترین امتزاج ہے، ناول ’’ جب عشق سمندر اُوڑھ لیا‘‘ اپنے نام کی طرح منفرد اور بامقصد تخلیق ہے، جس میں وطن کی محبت، عشق کا نیا فلسفہ اورمقصد کی اہمیت کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ناول’’ذات کا قرض‘‘ پاکستان میں رائج غلط سیاسی اقدار اور چند خانوادوں کی اجارہ داریوں کو موضوع سخن بنایا گیا ہے، پاکستان میں پہلی بار سیاسی ورکر پر لکھا گیا ناول’’سائبان سورج کا‘‘معاشرتی برائیوں اور معاشرے کی ان سچائیوں کا بیان ہے جن میں زندگی ہمکتی ہے۔ناول’’ عشق سیڑھی کانچ کی‘‘ اسلام اور مسلمانو ں کے خلاف جو مغربی میڈیا جارحانہ پراپیگنڈا کر رہا ہے، اس ناول میں اس کا انتہائی موثر جواب دیا گیا ہے، ناول ’’ عشق کسی کی ذات نہیں‘‘ شہید حجاب مصری خاتون الشربینی کے نام موسوم اس ناول میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے کی مسلم خواتین حجاب میں رہ کر بھی ملک و ملت کی خدمت کر سکتی ہیں، ناول امرت کور میں امجد نے تقسیم ہند کی ایک ایسی دل گداز کہانی بیان کی ہے کہ جس کا رابطہ آج کی نوجوان نسل سے جا ملتا ہے،ان کی ایک کتاب ’’ لکھاری کیسے بنتا ہے‘‘ پنجاب حکومت کی طرف سے پنجاب بھر کی سکول لائبریری میں پہنچ گئی ہے۔امجد جاوید نے ۱۹۸۸ء میں اپنی پہلی کہانی درد تھا عجب کوئی لکھی جوماہ نامہ سچی کہانیاں کراچی ڈائجسٹ رسالہ میں شائع ہوئی ، پھر اس کے بعد بقول خالد بن حامد’’ انہوں نے آنکھ نہیں جھپکی‘‘ وہ مسلسل لکھتے چلے گئے ، کہانی کے ساتھ ساتھ صحافتی لکھت بھی ان کی ہم سفر ہوئیں، مضامین، فیچر ، انٹر ویوز ان کے کریڈ ٹ پر آتے چلے گئے،روزنامہ جنگ میں انہیں سب سے زیادہ عابد مسعود تہامی،عبدالرحمن جامی سے سیکھنے کا موقعہ ملا،انہوں نے شروع شروع میں شاعری بھی کی لیکن جلد ہی وہ نثر ہی کے ہو کر رہ گئے ، دو ٹی وی سیریل ، سکھاں اور پہچان ان کے کریڈٹ پر ہیں،حاصل پور میں رسائل وجرائد کی اشاعت کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی ، ان کا نام سر فہرست ہوگا۔امجد نے عشق و تصوف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا، عشق ایک قوت ہے جو انسان کے اندر کوظہور دیتی ہے اورتصوف بزرگوں کا بتایا ہوا ایساطریقہ ہے جس سے انسان انسانیت کے درجے پر فائز ہونے کی کوشش کے لئے اس طریقے کو زاد راہ کے طور پر اپناتا ہے،یہ مسلسل عمل ہے اوراس کے درجات ہیں، روحانیت باتوں سے نہیں آتییہ ریاضت ہے ،روحانیت پوری سائنس ہے اور انسان کا لطیف ہونا ایک آرٹ ہے ، فنا فی اللہ وہی سمجھ سکے گا جو اس سائنس کو سمجھتا ہو اوراس کے مطابق اس ریاضت سے گذرا ہو،امجد کو مصوری کا بہت شوق تھا،باقاعدہ کہیں سیکھنے کا موقعہ نہیں ملا ، وہ رنگوں سے خود ہی کھیلتا اور خود ہی خوش ہو لیا کرتا تھاپھر پنسل سے چہرے بنانے لگااس میں کافی حد تک مہارت آ گئی تھی ،پھرکسی نے سمجھایا کہ تصویریں بنانا جائز نہیں توانہوں نے یہ سلسلہ یکسر ختم کر دیا، امجد کے نزدیک محبت ایک رویہ ہے جوپانی کی مانند،بے رنگ،بے بو،بے ذائقہ،لیکن زندگی بخش ہے،یہ جس من میں جاتی ہے،ویسی ہی ہو جاتی ہے،آلودہ من محبت کو بھی آلودہ کر دیتا ہے اور شفاف من،محبت آ جانے سے روحانی مقامات تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔محبت،چنبے کی وہ بوٹی ہے ،جو من ہی میں جا کر کھلتی ہے۔امجد نے صحافت کو پہلے ذریعہ روزگار بنایا پھر لاہورسے واپس آکرستمبر۱۹۹۵ء بطورانگلش ٹیچرگورنمنٹ پرائمری سکول چاہ حکیم والامیں مقیدہورہے ۔اس کے بعدجولائی ۲۰۱۰میں ہائی سکول پراناحاصل پورمیں تبادلہ ہوا اور تاحال اسی سکول میں علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں،امجد جاوید کی شادی ۲۰۰۴ ء میں ثمینہ غلام نبی سے ہوئی جو آرائیں خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ،امجدکے چاربچے ،سمن فاطمہ،احمدبلال امجد،احمدجمال امجد،عائزہ فاطمہ ہیں ،امجد جاوید کبھی محفل پسند تھے ، لوگوں سے ملنا، ان سے اپنی کہانیوں کے لئے نت نئے کردار تخلیق کرنے میں بڑی مدد لیتے تھے،تعلیم اور صحافت کے بعد جب باقاعدہ طور پر لکھنا شروع کیا تو ان کا طرز زندگی بھی بدل گیا، خلوت نشینی میں آسودگی محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا کہ جو وقت دوستوں کی محفل کی نذر کرنا ہے اسی وقت میں کئی صفحے لکھے جا سکتے ہیں ۔سفر اور آورگی ان کا شوق ہے ۔سیر وسیاحت کے لیے وہ اکثر دوسرے شہروں کارخ کرتے ہیں ۔ بڑی حد تک پاکستان کی سیر کر چکے ہیں۔ابھی تک بیرون ملک کوئی بھی سفر نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: ڈینگی کے خاتمے کے لئے معاشرے کے تمام طبقات بھر پور کردار ادا کریں،میاں منیر

note