تازہ ترینحکیم شہبا ز انو رکالم

ا دیب کے فرائض

حضر ت محمد ﷺ پر جو پہلی و حی نا ز ل ہوئی وہ علم کے متعلق تھی ۔ارشا د با ری تعا لیٰ ہے۔ پڑ ھ اپنے پر و دگا ر کے نا م سے جس نے انسا ن کو جمئے ہو ئے خو ن سے پیدا کیا ،پڑھ تیرا رب بڑا کر یم ہے جس نے انسا ن کو قلم کے سا تھ علم سکھا یا ۔ اس وحی میں اللہ تعا لیٰ نے انسا ن کو دو مر حلے سکھائے پہلا مر حلہ جو تھا وہ (اقراء)یعنی پڑھنے کا تھا اور دوسر ا لکھنے کا ۔کو ئی بھی ا د یب جب اپنا قلم اپنے معا شر ے کی فلا ح و بہبو د کے لیے اٹھا تا ہے تو اللہ تعا لیٰ کے اس حکم کا مقصد و اضح ہو تا جا تا ہے۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس سے ا نسان کی تما م تر خوا ہش پو ری ہو تی ہیں۔ ہر بنی نو ح انسا ن کی صر ف تین ہی خو ا ہش ہیں ۔ عزت ، دو لت اور شہرت۔آ ج کے اس دور ے جد ید میں ان کا غذ پر لکھی گئی تحر یر وں کے ذ ر یعے وہ اپنا نا م و مقام معا شر ے میں بلند اور اجنبیوں سے محبت و عز ت اور شہر ت کا اک یقینی ذریعہ بھی ہیں۔ اک اچھے ادیب کی لکھے ہو ئے چند لفطوں کے بدلے معا شر ے میں بہت سی برا ئیوں سدِ با ب ہو جا تاہے۔ جو معا شرے میں بڑے حا د ثا ت کی شکل اختیا ر کر لیتی ہیں۔ اور ہا ں معا شرے میں ایسے انسان کو اپنی تحر یر وں کے ذر یعے سید ھے را ستے پر لا نا ادیب کے لیے قیا مت کے روز با عث نجا ت کا سبب بن سکتے ہیں۔ جہا د کو اسلا م کی چو ٹی کا عمل ہے اور جہا د کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی سر حدوں پر جا کر دشمن کا سا منا کر ئے ۔ سر حد وں پر بیٹھ کر اپنے عظیم و طن اور قو م کی حفا ظت کر نا ہما ر ا فر ض بنتا ہے ۔ہم نے ا پنی حفا ظت کے لیے سر حد وں پر اپنے محا فظ کو تو تعینات کر دیا ہے مگر اپنے ذہنوں پر مغر بی کلچر بیٹھا رکھا ہے۔ کسی بھٹکے ہو ئے مسلم کو اپنی تحر یر سے اسلام کے قر یب لا نا بھی کسی جہا د سے کم نہیں ہے۔ ہر انسان کا وجود فانی ہے جو ایک دن ختم ہو جاتا ہے مگراس کا نام کسی خوبی یا خامی کی بدولت زندہ رہتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ اگر کوئی اس دنیا میں اچھا کام کر گیا تو لوگ اس کے جانے کے بعداس کو اچھے الفاظ میں یاد کریں گئے اگر کوئی برائیاں ہی کرتا رہا تو اس کے مرنے پر لوگ شکر کریں گے۔اسی طرح ادیب کا قلم بھی ایک شمشیرِبے نیام ہے جس سے وہ جہاد کرتا ہے ۔اور اس کا یہ جہاد معاشرتی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ایک کالم نگار اپنے کالموں میں معاشرتی برائیوں کو واضع کرتا ہے اور پڑھنے والے اس کو پڑھ کر فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اگر کوئی زندہ ضمیر پڑھ لے تو عمل کے ذریعے اپنے اندر پائی جانے والی معاشرتی برائی کو ختم ضرور کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اور اس کی تحر یر کی ہو ئی تحر یریوں سے نسل نو بھی افا دہ حا صل کر تی ر ہتی ہے۔ اس نسل نو کا ان تحر یر یوں سے افا دہ حا صل کر نا اس چیز کا منہ بو لتا ثبو ت ہے کہ اک اچھے اد یب کا نا م اس دنیا میں تا قیا مت با قی ہے۔ مثال کے طو ر پر ابنِ انشاء،امتیا ز علی تا ج ،ڈاکٹر یو نس بٹ اور دیگر اد یبوں کا نا م آ ج بھی سر بلند ہے۔ان کی تحر یر کی ہو ئی تحریر یں آج کے ذی شعو ر انسا ن کے ذہین میں کُند ہ اور فا ضل ہیں ۔ ان کی تحریر کی ہو ئی شا عری ، کہا نیوں ، غزل ، افسا نوں اور نظموں سے اسلام کا پیغام ملتا ہے۔ انہوں نے ہمیں اپنی تحر یر وں کے ذر یعے غو ر و فکر اور تو حید و ر سا لت کا پیغام دیا ۔ اور بہت سے لو گ آ ج کی تصنیف کا مطا لعہ کر کے سید ھے اور اچھا ئی کے را ستے کا انتخا ب کر لیتے ہیں ۔ اس شا عری کے ذ ر یعے اپنا عقیدہ ، ایما ن درست کر نے کا مو قع حا صل کر ر ہے ہیں ۔ آ ج کا بر سر وں پُرا نا پو را ہو تا ہُو ا دیکھ کر ان کی رو حو ں کو تسکین اور فر حت تو ضر و ر ملتی ہو گی اور اپنی قو م کو اپنے چند تحر یر کیے ہو ئے سیا ہ لفظو ں کے ذریعے نیکی کی طر ف ر اغب کر نا ادیب کے لیے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہے۔ کیا پتہ کل کو ہم اس دنیا فا نی میں سا نس لینے کی فر صت ملے یا نہ ۔ ادیب کی یہ تحریریں کسی بھی موضوع پر ہو سکتیں ہیں مثلاّ. معاشرتی معاشی سماجی اقتصادی مذہبی یہ لکھاری کے ذہن پر منحصر ہے کہ وہ کیسا ذہن رکھتا ہے معاشرتی خوبیاں خامیاں معشیت کیا ہے جس میں اکلِ حلال کے ذرائع اور اس ہلال روزی سے گزر بسر کیسے کرنی ہے ۔سماج میں کیسے رہنا ہے اپنی تہذیب و تمدن میں کیسے زندگی بسر کرنا ہے اور اپنی اسی تہذیب کو کیسے ترقی کی راہ پر چلانا ہے نسلِ نو تک کیسے منتقل کرنا ہے ۔اور مذہبی زہن رکھنے والا مذہب کی تلقین کرے گا مذہب پر لکھے گا دین کی طرف لوگوں کو بلائے گا جس سے اس کے ساتھ قاری کا بھی بھلا ہو گا اگر اس کے کالم یا مضمون پر ایک بھی آدمی نے عمل کر لیا تو دونوں کی عاقبت سنور گی ۔مثبت سوچ کا مالک لکھاری مرنے کے بعد بھی اپنا نام زندہ کر جاتا ہے اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں  کراچی:اورنگی ٹٓاؤن میں امام بارگاہ کے قریب دھماکا،2ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker