تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

ادیب یا چور

کسی ادیب کو چور کہوبہت ہی نامناسب ہے۔مگر کچھ کہنا ضرور پڑے گا کیونکہ آج کل سستی شہرت کے کیے کئی میرے بھائی جو ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔وہ بجائے خود محنت کرنے کی بجائے دوسروں کے کالم اپنے نام سے مختلف اخبارات میں شائع کرواتے ہیں ۔جبکہ وہ ہی کالم اس سے پہلے اصلی کالم نگار کے نام سے کئی لوگ پڑھ چکے ہوتے ہیں ۔اب ایسے افراد کو میں کیا کہوں ۔ ادیب کو چور کہنا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔پہلے ذیشان انصاری صاحب کے دو کالم چوری ہوئے جو پکڑے گئے اب حافظ جاوید الرحمن صاحب قصوری کا کالم ، بھارت ہمارا دوست یا دشمن ، کے نام سے چوری ہوا اور چرانے والا ۔جناب نوید ائے ایڈوکیٹ صاحب ہیں ۔ادب سے دلچسپی یا ادبی ذوق بہت ہی اعلیٰ ذوق ہے مگر اس کے بھی کچھ تقاضے ہیں جن میں سب سے پہلا تقاضا مطالعہ ہے ۔میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ایک ادیب کے لیے مذہبی معاشی معاشرتی سماجی اقتصادی علوم سے کسی نہ کسی حد تک واقف ہونا چاہیے ۔اب یہ کام بھی معاشرے میں ایک برائی کی طرح پھیلتا جا رہا ہے ۔اور دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ادب میں اپنا نام اور مقام بنانا بڑی اچھی بات ہے مگر ۔اپنے علم اپنی سوچ و افکار سے نہ کہ دوسروں کی تحریریں چوری کر کے ۔چوری پکڑی جانے پرکس قدر شرمندگی ہوتی ہو گی ۔ایک کالم نگار کے کا کام معاشرتی برائیوں سے پردہ چاک کرنا ہے نہ کہ خود برائی کا حصہ بن جائے۔ہمارے معاشرے میں اکثر جب کسی کی کسی غلطی کی طرف کوئی زی شعور اشارہ کر دے تو اسے بڑا برا سمجھا جاتاہے۔جبکہ اگر کوئی غلطی ثابت ہو جائے تو بجائے دوسرے پر غصہ یا تنقید کرنے کے اپنی اصلاح کو لینی چاہیے۔تنقید اصلاح کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ تعریف انسان کے اندر غرور اور تکبر جیسی علامات پیدا کر تی ہے۔انسان کو ہمیشہ سیکھنا چاہیے ۔ہمارے پیارے نبیﷺ نے حکم دیا کہ گود سے گور تک علم حاصل کرو۔اور آپﷺ خود بھی ادبی ذوق رکھتے تھے۔
جو حضرت ادبی ذوق رکھتے ہیں انہیں دوسروں سے اصلاح کروانی چاہیے ۔اور جو سینر ز ہیں ان کو چاہیے کہ وہ جونیر کی اصلاح کریں تاکہ ایک دوسرے کے تعاون سے سب کو فائدہ ہو ۔ہر ایک کا شوق پیدا ہو جائے اور ہو سکتا ہے کہ چوری کرنا چھوڑ دیں۔میاں محمد شفع صاحب لکھتے ہیں کہ۔کالم خصوصی تجربے اور علم کی بنا پر لکھے جاتے ہیں ۔ظہیر کاشمیری صاحب لکھتے ہیں کہ سیاسی ثقافتی یا زندگی کے کسی بھی شعبے تعلق رکھنے والے وقتی اہمیت کے کسی مو ضوع پر لکھی گئی تحریر کو کالم کا نام دیا جاتا ہے۔اس کی نوعیت کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے ۔عطاء الحق قاسمی صاحب کا فرمان ہے کہ ۔کالم ایک تحریری کارٹون ہے جس میں کالم نویس الفاظ سے خاکہ تیار کرتا ہے ۔ابن انشاء کہتا ہے۔میں کالم کو ESSAY) )سمجھتا ہوں ۔جس طرح ESSAY) )ایک بیکراں چیز ہے ،کالم بھی ہے ۔کا لم پورے خبار کا حسن ہوتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری چیزیں جو ہیں ان میں ۔ تعلیم و تربیت ۔بے تکلفی۔فکری رہنمائی۔سیاسی شعور کی بیداری۔شخصی رنگ۔اعلیٰ اخلاقی اقدار کا فروغ۔غور و فکر کی عادت ڈالنا ۔معاشرتی برائیوں کو اجاگر کرنا اور طاقتِ قلم کے ذریعے ان کے سدِ باب کرنا ۔نیک مقاصد کے فروغ کے لیے کالم نویسی کرنا ۔اگر کوئی کالم نویس ان باتوں پر عمل پیرا ہے تو میں کہوں گا کہ وہ ایک مبلغ ہے ۔اور یہ عبادت سے کم نہیں ۔ان لوگوں سے گذارش کروں گا جو دوسروں کی لکھی ہوئی تحریروں سے شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہیں ۔ان کو چاہیے کہ اپنے اندر ایک اچھے کالم نویس کے خصائص پیدا کریں اور اپنا مقام بنائیں ۔جن کی راہنمائی کے لیے کالمسٹ کونسل آف پاکستان حاضر ہے

یہ بھی پڑھیں  پاکستان نےدہشتگردوں کی پناہ گاہوں کےخاتمےکیلئےآپریشن کئے،امریکی اعتراف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker