تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

ا دھے خواب

sher muhammad sher logo

یہ کس ے ہم سے لہو کا خراج پھر ما گا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سر خرو کر کے

کراچی کی سڑکوں پر ظلم و بربریت کی داستا یں رقم کر ے والے ملک دشم ع اصر ’’  پر‘‘ پھیلا ے لگے ہیں اور اب کوئٹہ کی گلی کوچوں کو معصوم لوگوں کے خو سے س دھوری ر گ سے ر گ ے لگ گئے ہیں۔کوئٹہ میں بارود اور دھماکوں کی ظر ہو ے والوں کے خو کی سرخی ابھی باقی تھی کہ یا کہرام مچ گیا۔ آہوں اور سسکیوں کاوہ طوفا اٹھا جس ے پورے ملک کو اپ ی لپیٹ میں لے لیا۔کچھ عرصہ پہلے کوئٹہ کی سڑکوں پرسسکتے،بلکتے اور خو م جم د کرتی سردی سے ٹھٹھرتے لوگوں ے چھیاسی لاشوں کے ساتھ ا وکھا احتجاج کر کے ا صرف ئی تاریخ رقم کر دی بلکہ اپ ے مطالبات بھی م وا لیے۔اس وقت بھی پورا پاکستا اشکبار تھا۔اب ایک بار پھر وہی لوگ لقمہ اجل ب ے،پھر اسی کوچہ کے گھروں کے چراغ گل ہوگئے، پھر سے سی کڑوں ماؤں کے لعل گھروں کو ہ پلٹے اور ا کی سسکیاں دھماکوں کے قہقہوں میں ڈوب گئی۔ایک بار پھر سے سڑکوں پر لاشوں کے ساتھ احتجاج شروع ہوا اور پورے ملک ے یکجہتی کا اظہار کیا گیا بالآخر مطالبات تسلیم ہوئے۔خدا کا شکر ہے کہا کی تدفی ہوئی کیو کہ میت کو جلد سپرد خاک کر ا ہی اسلام کا درس ہے۔

فکر والی بات یہ ہے کہ کب تک ہمیں اپ ے مطالبات تسلیم کروا ے کے لیئے لاشوں کا سہارا لی ا پڑے گا۔سیاسی،فوجی قوتیں اور عدلیہ اسکا کوئی حل کیوں ہیں کالتی۔ٹارگٹ آپریش سے جو لوگ پکڑے ہیں ہو سکتا ہے اس میں چ د ایک بے گ اہ ہوں یک سوال یہ ہے کہ کیا ا کو پہلے ہیٰں پکڑا جا سکتا تھا۔کیا ایج سیاں اورمحافظ ادارے ات ے کمزور ہو چکے ہیں اور کیا حکمرا اورسیاستدا ات ے بے ضمیراوربے حس ہو چکے ہیں کہ جب تک لاشوں کا می ا بازار ہ دیکھیں ا کے کا وں پر جوں تک ہیں ری گتی۔بعض حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں کے اس کے پیچھے کہیں ہ کہیں حکومت کھڑی ہے۔خدا جا ے اس میں کت ی صداقت ہے لیک اگرایسا ہے تو پھر یہاں مقاصد تحریر کر ا ضروری ہیں کیو کہ ہر شخص بخوبی ا دازہ کر سکتا ہے۔
وط عزیز میں ایک بار پھر فرقہ وارا یت کی وبا پھوٹی ہے اور یہ گرتی دیوار کیلیے وہ دھکا ہے جو اسکی ب یادیں ہلا کے رکھ دے گا۔عی ممک ہے کہ وہ لوگ اس آگ کو ہوا دے رہے ہوں جو ہیں چاہتے کہ ایرا یا چاء ہ کے تعلقات پاکستا سے مستحکم ہ ہو پائیں۔یہ قیاس اارائی بھی کی جا رہی ہے کہ الیکش کے التواء کیلیے یہ سب کیا یا کرایا جا رہا ہو ۔تمام سیاسی راہ ماؤں اور حکومتی سپوتوں ے چ د مزاحمتی بیا وں کے علاوہ کیا ہی کیا ہے؟مزاحمتی بیا وں کی بجائے اگر اپ ے ام ہاد وعدوں کو عملی جامہ پہ اتے تو کت ا اچھا تھا۔خدارا سیاسی کشتی را ی کے لیے غریب عوام کا خو استعمال ہ کریں۔جیو اور جی ے دو کی پالیسی کو فروغ دیں اور فرقہ وارا یت کے ج کو چراغسے باہر ہ کالیں ور ہ لاشوں کا وہ بازار گرم ہو گا کہ سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
سیاستدا وں کے پیدا کردہ کرپٹ اور فرسودہ ظام سے لوگ ویسے ہی بہت ذلیل ورسوا ہوئے ہی اور ہو رہے ہیں۔اب مر ے کے بعد ا کی لاشوں کی بے حرمتی کے ذمہ دار بھی یہی کرپٹ حکمرا اور بے حس سیاستدا ہیں۔بحرحال احتجاج والوں سے بھی گزرش ہے اگرچہ ا کا دک بہت بڑا ہے اور ام کا تقاضہ بھی غلط ہیں ہے لیک اپ ے پیاروں کی لاشوں کو سڑکوں پر ظلم و بربریت کی تصویر ہ ب ائیں اور احتجاج میں روڈ اور ائیرپورٹ بلاک ہ کریں کیو کہ ا مریضوں کا کوئی قصور ہیں جوو راست ب د ہو ے کی وجہ سے آپکے پیاروں سے جا ملے۔حکومت کے جو چار د بچے ہیں اس میں کوئی ایک تو اچھا کام کرجائے۔اور مجرموں کو کیفرکردار تک پ ہچائے چاہے وہ کراچی میں ہوں یا کوئٹہ میں۔اور یہ صرف سیاستدا وں کا کام ہیں بلکہ دی اسلام سے جڑے ہر شخص کا کام ہے کہ وہ فرقہ پرستی کے ج کو پھر سے چراغ میں ب دکر دے اور س ی،شیعہ، وہابی ، دیوب دی،جعفری،قادری،چشتی،ہمدا ی، قوی،چیمہ،چٹھہ،جٹ،راجپوت،گجر،راجہ،ستی۔عباسی،چوہدری،اعوا اور سید ہو ے پر فخر کر ے کی بجائے مسلما ہو اقابل فخر سمجھے اور ملک کو ذات پات اور فرقہ وارا یت کی اس آگ سے کال ے کے لیے اپ ا کردار ادا کرے ر۔تا کہ پاکستا کے ا دھے خوابوں کو تعبیر کی روش ی صیب ہو۔۔۔۔note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. yar bohat ala hay laikn sara maza kerkra ker dia is { proof reading } nay,yar proof reading zroor kia kro plz..is m to bohat ghaltyaan hain yar

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker