بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

ادنیٰ چنگاری اورتباہ کن لانگ مارچ کا اشارہ۔۔۔؟؟؟

bashir ahmad mir logoپاکستان کی تاریخ میں پہلا پر امن ،سب سے بڑا اور بے مثال ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ جسے ’’انقلاب ‘‘ کا نام دیا گیا تھا،ُآخر کار چار دن کے صبر آزماء دھرنے کے بعد گذشتہ روز اتحادی حکومت سے مذاکرات اور لانگ مارچ ڈیکلریشن کے بعد با خیریت اختتام پذیر ہوا۔ان چار دنوں کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے جس فہم و فراست سے ’’بقول انکے ملین مارچ ‘‘جس نظم و ضبط اور پر امن انداز سے منطقی انجام پہ پہنچا یہ ہماری تاریخ میں یقیناًیاد گار حیثیت کے حامل رہے گا۔جہاں تک اس لانگ مارچ اور دھرنے کی کامیابی یا ناکامی کا تعلق ہے اس بحث میں پڑے بغیریہ حقیقت تسلیم کرنے کے لائق ہے کہ ڈاکٹر صاحب بڑے خوش نصیب ہیں کہ ان کے ساتھ ان کے عقیدت مندوں نے یخ بستہ سردی میں بھر پور ساتھ دیا ،اتفاق کی بات یہ ہے کہ رینٹل کیس بارے وزیر اعظم کی گرفتاری کا فیصلہ بھی دھرنے کے پہلے دن آیا جسے ڈاکٹر صاحب نے خوب اور بر وقت ’’کیش‘‘ کیا اور اپنے مریدین کو خوشخبری سناڈالی ’’کہا آدھا کام ہو گیا اور باقی آئندہ دو دن میں ہو جائے گا ‘‘۔
ڈاکٹر طاہر القادری بلاشبہ فن تقریر کے بادشاہ ہیں انہوں نے گذشتہ روز تین گھنٹے سے زائد اپنے جوش خطابت سے شرکاء کو خوب گرمایا ،حوصلہ دیا اور امید دلائی کہ بس انقلاب آچکا ہے صرف تھوڑا انتظار کریں ،آخر انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے لاکھوں نہ سہی ہزاروں لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا کر اس مہم کو جاری رکھا جو واقعی کمال کی بات ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ایسے کارکن اس وقت کسی جماعت کے پاس نہیں لیکن کاش ان کارکنوں کو اپنے اپنے حلقوں میں بھی ڈاکٹر صاحب کی مانند رہنما مل جاتے تو پھر کوئی امید کی جا سکتی تھی کہ عوام کو بہتر مستقبل نصیب ہو جاتا مگر یہ سب ’’ون مین شو‘‘سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔رہی یہ بات کہ ان کے مطالبات کیا اور کس نوعیت کے ہیں جن سے کوئی بڑی تبدیلی کا امکان ہوتا ،یہ سب سراب ہی نکلا کیونکہ ان کے مطالبات اور خطابات میں کافی ابہام اور پیچیدگی کا ہونا بڑا المیہ رہا ،ایک طرف وہ موجودہ جمہوری نظام کو جاری رکھنے اور الیکشن کمشنر کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور آئین کی دفعات62اور63کے اطلاق کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف جب وہ اپنے خطابات میں موجودہ نظام کو بدلنے کا اظہار کرتے ہیں تو اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ سرے سے ہی موجودہ آئینی سیٹ اپ کے خلاف ہیں ،دراصل ان کے خطابات ہی ان کا مشن و منشور کہے جا سکتے ہیں ،تاہم جب انقلاب کی بات کی جائے تو اس میں مذاکرات نہیں ہوتے ،ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ ملک میں دو ہزار شخصیات قابض ہیں جن کے خلاف وہ صف آراء ہیں سچی بات بھی یہی ہے کہ اشرافیہ نے ہمارے ملک کو دونوں ہاتھوں سے خوب مزے لیکر لوٹنے کی ٹھان رکھی ہے ،بلاشبہ ملک بھر میں مسائل ہی مسائل ہیں ،بے روزگاری ،مہنگائی اور افراط زر نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ،قومی ادارے اپنی ساکھ کھو رہے ہیں ،معیشت روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے ،رشوت و سفارش نے میرٹ کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے،نوکر شاہی نے عوامی حقوق سلب کئے ہوئے ہیں ،منافع بخش ادارے پی آئی اے،ریلوے ،سٹیل ملز،واپڈا سمیت سبھی کرپشن کی نذر ہو چکے ہیں ،ملک میں دہشتگردی نے گھر گھر ڈیرے جما رکھے ہیں ،آذادانہ طور پر ٹارگٹ کلنگ معمول بن گیا ہے ،بم اور خودکش حملوں کا تسلسل ہماری معیشت کو کھوکھلا کرتی جا رہی ہے جبکہ ہماری اشرافیہ مزے سے عوام پر جاری مظالم کا مذاق اڑانا ’’سٹیٹس کو ‘‘ سمجھ بیٹھی ہے ۔یہ وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر عوام کی ابھی کچھ تعداد باہر نکلی ہے مگر یہ صبر کا پیمانہ زیادہ دیر نہیں چلے گا،اگرچہ گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے سربراہ نے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیکر واضح کیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری غیر آئینی ،غیر قانونی اور غیر جمہوری رویہ رکھے ہوئے ہیں جو ناقابل تسلیم ہے جبکہ حکومت سے کہا کہ فوری نگران حکومت باہمی مشاورت سے بنائی جائے اور انتخابات کا اعلان کیا جائے۔جناب عمران خان بھی تبدیلی کے جس فلسفے پر ’’سونامی‘‘ کی بات کر رہے ہیں ان کا کردار بھی واضح ہو چکا ہے ،اسی طرح مجموعی طور پر تمام سیاسی جماعتوں نے لا تعلقی کا اظہار کر دیا ۔مسئلہ یہ ہے کہ عوام واقعی ایک طرف اپنے فکر معاش میں سرگرداں ہیں اور دوسری طرف عوام میں سے عوام کے بد دیانت،بے ایمان اور کرپٹ لوگ کئی رنگوں ،شکلوں اور نقالوں میں عوام پر مسلط ہیں ،ڈاکٹر طاہر القادری نے بے شک عوام کی دکھتی رگ کو پکڑا ہے مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ابھی ،فوری اور جلدی میں اشرافیہ کا حصار ہر گز نہیں توڑ سکتے ہیں ،مجھے کل ڈاکٹر صاحب کے کسی عقیدت مند نے ایس ایم ایس کیا جس میں ان صاحب نے لکھا’’کہ بشیر احمد میر تم کریک ڈاؤن لکھنے کا زرداری سے کتنے پیسے لیتے ہو‘‘ بقول ان کہ کچھ اخلاق سے گری ہوئی بات بھی لکھی گئی تھی ،میں نے انہیں شکریہ کے ساتھ جواب دینے تک اپنا موقف محفوظ رکھا اب سنئے!!
میں بھی اسی طبقہ کا بے بس ،بے کس اور بے زبان شخص ہوں جس کا تعارف ڈاکٹر طاہر القادری کر رہے ہیں مگر نکتہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے جس بے ترتیبی،بناء منصوبہ بندی اور یکدم انتہائی قدم اٹھایا ہے اس سے اختلاف پہلے دن سے رہااور عوام نے دیکھ بھی لیا کہ جو کچھ ’’کریک ڈاؤن ‘‘ میں شائع ہوتا رہا وہ یقینی طور پر اللہ کی مہربانی سے ذمینی حقائق کی عکس بندی رہی ،بہر حال ڈاکٹر صاحب نے انتہائی حساس ایریا میں بہت بڑا رسک لیکر دھرنے کو جاری و با عزت اختتام پذیر کیا جس پر انہیں کھلے دل سے مبارک با دینا ان کا حق بنتا ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے ہر طرف کی مخالفت کے باوجود جس دانشمندی سے مذاکرات کو اپنایا یہ وقت کا تقاضہ اور حکومت کی بھی سنجیدہ پن کی علامت کہی جا سکتی ہے بلکہ یہ ٹیم کپتان صدر آصف علی زرداری کا سارا کمال ہے کہ وہ جس طرح بحرانوں کا مقابلہ کر کے آگے بڑھ رہے ہیں ان کی سیاسی حکمت عملی قابل داد ہے ورنہ جس طرح کا سماں بندھا تھا ایسے میں لال مسجد جیسا ایک اور سانحہ ممکن تھا جو واقعی دانشمندی سے ٹل گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کے باوجود جب انہیں تنہا کر دیا گیا ، کوئی انہیں کینیڈین کہتا ہے، ایک معروف مولانا نے انہیں ’’جے سالک‘‘ کہہ دیا ،کوئی انہیں مداری اور کوئی انہیں جنرل مشرف کا تسلسل کہہ رہا ہے ،کسی نے کہا کہ یہ کسی درپردہ سازش کے لئے خام مال کے طور استعمال ہو رہے ہیں ان سب حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے ’’محفوظ راستہ ‘‘پا لیا ،مگر سوال یہ ہے کہ اس سے عوام کو کیا ملا ،کیا رشوت ،سفارش ختم ہو گئی،کیا مہنگائی میں کمی آ گئی ،کیا عام آدمی کی زندگی میں کوئی ریلیف پہنچا ،کیا سکول میں پڑھنے والے بچوں کو فیسوں اور کتب کی قیمتوں میں ریلیف میسر ہوا ،کیا محنت کش کو اس کی ضروریات کے مطابق اجرت ملے گی ،کیا تھانوں میں انصاف کا بول بالا ہوا،کیا ہسپتالوں میں علاج و معالجہ مفت ملے گا ،کیا دہشتگردی ،سٹریٹ کرائمز کا خاتمہ ہو گیا،کیا قومی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو جائیگی ،کیا روز مرہ کے دیگر مسائل حل ہو گے۔۔۔۔؟ یہ وہ سوال ہے جو عوام پوچھ رہے ہیں ۔یقینی طور پر عوام ایک اور لانگ مارچ کا انتظار کریں گے ،یہ حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا مگر کافی حد تک راہ ہموار بھی کر چکا ہے،شاہد احساس کرنے والے ہوشمند ہوں ۔
ڈاکٹر صاحب آپ نے مذاکرات کی کامیابی جس انداز سے کی ہے اس سے وہی لوگ سر خرو ہوئے جن سے عوام کی بڑی تعداد کسی نہ کسی طرح جان چھڑانا چاہتی ہے ۔آج پھر ایک بار نہ مانتے ہوئے بھی یہ کہتے ہوئے کہ ’’ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘ کا فلسفہ جیت گیا ۔کیا یہی لانگ مارچ کا ماحاصل تھا۔۔؟کالم کی طوالت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان الفاظ پر اختتام کرتا ہوں کہ حضرت امام حسینؓ کا فرمان ہے ’’اگر دنیا میں انقلاب لانا چاہتے ہو تو تہذیب نفس کا آغاز خود سے کرو ،دنیا بدل جائے گی‘‘۔ان اشرافیہ کو بھی انتباہ ہو کہ
نظر انداز مت کرنا سمجھ کہ ادنیٰ چنگاری
یہ شعلہ بن بھی سکتی ہے ،جلا بھی سکتی ہے محلوں کو
آنکھیں کھول کر رکھئے ،برا وقت آ بھی سکتا ہے
پہچان نہیں ہوتی ،گداگر سلطان کی سیلابی ریلوں میں

یہ بھی پڑھیں  مقبوضہ کشمیر میں فیس بک سمیت سماجی رابطے کی تمام ویب سائیٹس پرپابندی لگادی گئی

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. بھت لوگوں کا خیال ھے کہ سب کچھ طے شدہ تھا- ورنہ موجودہ حالات میں کوئی بھی اتنے بڑے ھجوم کو اسلام آباد جیسے حساس شھر میں جمع ھونے کی اجازت نھیں دے سکتا- وزیر داخلہ کے بیانات بھی مشکوک تھے- البتہ زرداری صاحب کا جواب نھیں جو سب کو مات کر گئیے -یعنی "وہ تڑپتے رہ گئے ھم مسکرا کر چل دئیۓ” اب چند دنوں کے بعد مولوی صاحب کھل کر حکومت کے حامی اور "ن” والوں کے تخت کی باتین کرنا شدوع کر دیں گے-

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker