بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ۔۔۔۔۔ احساس ،آزمائش اور عزم

bashir ahmad mirلکھاریوں کا آج کل معمول ہے کہ ہم اکثر و بیشتر سیاسی حالات کو زیر بحث لاتے ہیں ۔عوام کو سیاسی شعور سے آگاہی بھی ہمارا فرض ہے مگر ساتھ ساتھ مظلوم اور بے بس شہریوں کی آواز بھی ارباب اختیار تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے جس کا اس جہاں میں نہ سہی اگلے جہاں میں اجر کی امید رکھتے ہیں آج تین ایسے شہریوں کی حد درجہ مشکل اور مصائب پر محیط زندگی پر قلمبندی کر رہا ہوں ۔اس سے پہلے ایک واقعہ بیان کر کے توجہ دلاؤں گا۔’’ ایک آدمی بارے کہا گیا کہ وہ بہت مقروض ہو گیا ،اور قرض کی وجہ سے کافی پریشان رہنے لگا،اپنی پریشانی سے نکلنے کے لئے وہ ایک اپنے صاحب ثروت دوست کے گھر چل پڑا ،اور اس کا دروزاہ کھٹکایا۔دوست گھر سے باہر نکلا اور آنے کی وجہ دریافت کی ،اس نے دوست کو قرض کے بارے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ میری مدد کرو،دوست نے پوچھا کتنا قرض ہے تو اس نے کہا کہ چار سو درہم کی ضرورت ہے ،یہ سن کر دوست گھر کے اندر جاکر اپنی بیوی سے کہا کہ چار سو درہم دو،میرا دوست مجبور ہو کر میرے پاس آیا ہے اسے دینے ہیں ،بیوی نے چار سو درہم نکال کر دیئے اور دوست نے باہر جاکر اسے رقم تھما دی ۔رقم دینے کے بعد دوست گھر واپس داخل ہوتے ہی رونے لگا،بیوی نے کہا کہ اب کیوں روتے ہو ،پیسے دیکر رونا تھا تو دینے سے انکار کر دیتے ۔اس نے بیوی کی بات سن کر جواب دیا کہ میں پیسوں کے لئے نہیں رو رہا یہ سوچ کر رونا آیاکہ میں اپنے دوستوں سے کس قدر غافل ہوں کہ انہیں اپنی ضرورت کے لئے میرے دروازے پر آنا پڑا ‘‘ ۔
یہ وہ احساس ہے جو انسان اور حیوان میں تمیز کرتا ہے ۔ہم اللہ کے فضل سے انسان اور پھر مسلمان ہیں ۔ہماری مذہبی ذمہ داری کا تقاضہ ہے کہ ہم اہنے پڑوسیوں ،رشتہ داروں اور دوست و احباب کی مجبوریوں اور مشکلات کا ازالہ کرنے کا جذبہ پیدا کریں ۔اس دنیا میں ہم نے سدا نہیں رہنا کہ ہم جمع پونجی ساتھ ہی لیکر جائیں گے اس احساس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار لوگ انتہائی کسمپرسی اور مصائب و پریشانی سے زندگی گذار رہے ہیں جن پر ہماری نظر نہیں پڑتی مگر وہ حقیقتاً مدد کے مستحق ہوتے ہیں ۔
ہری پور ہزارہ کے ایک ایسے ہی نوجوان کی داستان رقم کر رہا ہوں جو گھر کا واحد کفیل ہے اس کا والد معذور اور اسکی چھ بہنیں گھر پر اپنے سوگ کو ترس رہی ہیں جبکہ مذکورہ نوجوان گذشتہ چھ ماہ قبل کراچی ائیر پورٹ روڑ پر دوران ڈرائیونگ حادثے کا شکار ہوا اور اسکی ایک آنکھ بالکل ضائع ہو گی جبکہ دوسری آنکھ بھی شدید متاثر ہونے سے نوجوان ناقابل حرکت ہے ۔بتایا جاتا کہ کہ ڈاکٹروں نے اس کی آنکھ کے علاج کے لئے 5لاکھ مانگا ہے جو اس خاندان کی طاقت سے باہر ہے ۔
اس متاثرہ خاندان کے گذر بسر کے لئے چند مقامی احباب امداد کر رہے ہیں مگر کوئی ایسا نہیں جو اس کے علاج کی ذنہ داری نبھا سکے اور اسکی بہنوں کی زندگی سنوار سکے ۔اس خاندان کی درد بھری اس داستان کو تحریر کرتے ہوئے کافی افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران ،عوامی نمائندے جب ووٹ لینے آتے ہیں تو ہزاروں خوشنما خواب دکھا کر چلے جاتے ہیں مگر کوئی عوام کی حقیقی صورت حال نہیں بدل رہا۔بہرحال مذکورہ خاندان جو بے بس اور بے کس زندگی بسر کر رہا ہے اس کی امداد کرنا پہلی ترجیح ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ازاں بعد مخیر حضرات اور عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں کی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس خستہ حال خاندان کی اشک شوئی کے لئے قدم بڑھائیں ۔ایسے بے شمار خاندان ہمارے معاشرے میں سسک سسک کر جی رہے ہیں جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے اس کالم کی وساطت سے اپیل ہے کہ وہ گاؤں لورا شاہ مقصود نزد جناح اسلامیہ پبلک سکول ہری پور کے مذکورہ شہری کامران کی مدد کے لئے خصوصی توجہ فرمائیں گے ۔نگران حکومت ہوا کا جھونکا ہے جو اللہ نے آپ کو عزت عطا کی ہے اب اس کا تقاضہ ہے کہ اس دنیا کے لئے نہ سہی آخرت کمانے کا یہ اللہ نے بہانہ دیا ہے ۔اگر آپ قوم کی فکر کا سوچیں تو یہ عمل آپ کے لئے دنیا و آخرت کے لئے کامیابی کی سبب بن سکتا ہے ۔
اقتدار اللہ کی عنائت ہے جس میں آزمائش اور امتحان ہوتا ہے ۔نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نیک سیرت اور انسان دوست شخصیت ہیں امید کی جاتی ہے کہ وہ پوری توجہ سے اس داستان کو پڑھ کر اپنا فرمان جاری کریں گے ۔۔ویسے بھی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے جان ،مال اور عزت کی حفاظت کرئے ۔اس بنیادی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ارباب اختیار سے امید ہے کہ وہ خدا ترسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذکورہ شہریوں کی امدا د کے لئے احکامات صاد ر کریں گے ۔بظاہر حکومت کے لئے دونوں معاملات حل کرنا مشکل نہیں ،احساس کی ضرورت ہے جس کے لئے اتنی طویل تمہید باندھ کر گذارشات کو قلمبند کیا ہے ۔اللہ یقیناً ہر اس کی امداد کرنے والے کی درد مندی ،احسانمندی اور عظیم صدقہ جاریہ کو قبول کرئے گا جو احساس کو بیدار کر کے ان کی مدد کرنے میں پہل کر ئے گا۔note

یہ بھی پڑھیں  دیپالپور کو جرائم پیشہ عناصرسے پاک کرنا میرا مشن ہے،اے ایس پی دیپالپور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker