بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

عافیہ کریم سے عدیقہ ناصر تک ۔۔۔۔۔ہمارے دشمن کون۔۔؟؟

bashir ahmad mir logoموت ایک اٹل حقیقت ضرور ہے مگر موت جب بھی گھیرا ڈالتی ہے تو کچھ انہونے اسباب ساتھ لیکر آتی ہے،کوئی خود کش حملوں ،بم دھماکوں اور کوئی کسی کے ہاتھوں مقتل گاہ میں سجتا ہے ،کسی کی موت بستر مرگ پہ آتی ہے اور کوئی ہنستا ہوا دار کو چومتا دکھائی دیتا ہے ،کہیں معالج موت کا فرشتہ بنتا ہے ،کسی کی جان زندگی کی جنگ میں کھو جاتی ہے۔لیکن کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی کے لئے کائنات دعا گو ضرور ہوا کرتی ہے مگر انجانے راستوں میں بھٹک کر موت اس پیاری زندگی کو اچک لیتی ہے ۔
آج ایک اور عافیہ کریم ہم سے جدا ہو گئی جس نے امت مسلمہ کا نام روشن کرنے کا عزم رکھا تھا مگر اجل نے اسے زندہ نہیں رہنے دیا ،اس کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا کہ ایک نا معلوم نہیں ’’نامزد قاتل‘‘ نے اسے اپنے ماں باپ اور اہل وطن سے چھین لیا ۔مگر قاتل معالج کے لبادہ میں اب بھی پورے آب و تاب سے کئی اور معصوم جانوں کو قربان گاہ کی نذر کرنے پہ مگن ہے اور کوئی اس قاتل سے پوچھنے والا نہیں۔۔؟؟؟
آٹھ سالہ حدیقہ ناصر دوسری جماعت کی مری کے معیاری سکول کی طالبہ تھی جو ہر سال 97%نمبرات لیکر اول پوزیشن حاصل کر کے اپنی خدا داد صلاحیتوں سے پوے علاقہ میں نمایاں شہرت کی حامل تھی ،اس کی ایک آنکھ میں معمولی ٹیڑھا پن تھا جس کے سبب اسے دیکھنے میں دقت ہوا کرتی تھی ،ماں باپ کی لاڈلی اور انہونے اوصاف کے حامل اس معصوم بچی کی آنکھ کا آپریشن کرنے کے لئے والدین نے فیصلہ کیا ، کسی کے مشورے سے ایک نجی ہسپتال جس کا ذکر بعد میں تفصیل سے کروں گا اس میں اسے 4فروری 7بجے شام لایا گیا ۔جسے ابتدائی تشخیص کے بعد داخل کر لیا گیا ۔کچھ دیر بعد اسے بے ہوشی کا ٹیکہ لگایا گیا جس سے اس کی حالت زیادہ خراب ہو گی اور نجی ہسپتال کے ڈاکٹر نے ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا جو چند گھنٹوں بعد رات 3بجے اللہ کو پیاری ہوگئی،اس معصوم جان نے آنکھ کا آپریشن کرنے کی آرزو کی تھی مگر بد بخت معالج کی معمولی سی غفلت نے اس کی جان لے لی ،کیا اس معصوم کلی نے بہوشی کا ٹیکہ لگنے سے پہلے سوچا ہو گا کہ یہ انجکشن اس کو اس نا پائیدار دنیا سے جدا کر دے گا ؟ اسے اب سکول نہیں جانا ہو گا اور نہ ہی وہ اپنے ماں باپ کو مل کے گی ۔۔؟؟اس لمحے اس نے کہا ہو گا کہ
اداسیوں کا سماں محفلوں میں چھوڑ گئی
بہار ایک خاش سی دلوں مٰں چھوڑ گئی
بچھڑ کے تجھ سے ہزاروں طرف خیال گیا
تری نظر مجھے کن منزلوں میں چھوڑ گئی
کہاں سے لائیے اب اس نگاہ کو ناصر
جو نام تمام امنگیں دلوں میں چھوڑ گئی
اب آتے ہیں اس بات پہ کہ کیا ایساحدیقہ کا مقدر طبی موت تھا یا کہ اسے قتل کیا گیا۔۔۔؟؟؟ سچی بات دل کو بری لگتی ہے اور انسان کی فطرت ہے کہ جب اس پر کوئی الزام لگے تو وہ اسے کسی نہ کسی انداز سے خدا کی رضا سمجھ کر اپنی جان کی خلاصی چاہنے کی کوشش کرتا ہے ،ویسے بھی ہم بطور مسلمان اندھے مگر معلوم قاتل کو انسانی قتل پر خدا کی رضا سمجھ کر اسے قابل سزا نہیں قرار دیتے حالانکہ ایسے اندھے ،ہوس زر کے بھوکے اور دنیا کے بد نصیب قاتل کسی معافی کے لائق نہیں ہوا کرتے ۔اگر کوئی ان زر پرست عناصر کی حمایت کرئے گا وہ بھی قتل میں برابر شریک تصور کیا جائے گا کیونکہ قاتل اور اس کے پشت پناہ برابر کے شریک جرم ہوا کرتے ہیں ۔
حدیقہ ناصر کی روح ہم سے سوال کرتی ہے کہ اس نے کون سا جرم کیا جس کی سزا میں اسے قتل کر دیا گیا،وہ پوچھتی ہے کہ کیا ایسے ہی انسانی جانوں کے قاتل سر عام لوگوں کی زندگیوں کو روپے پیسے کی لالچ میں زندہ در گور کرتے رہیں گے۔۔؟؟ کیا خادم اعلی جناب شہباز شریف کی حکومت میں ایسے ناسور جو عظیم شعبہ طب سے وابستہ ہیں کسی جزا و سزا کے مستحق نہیں ٹہرائے جا سکتے ہیں ۔۔؟؟؟
طب کا شعبہ عظیم و مقدس حیثیت رکھتا ہے ،جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ ہر صورت انسانی جان بچانے کی کوشش کرینگے کیونکہ ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہوتا ہے ،مگر بد قسمتی سے ہمارے معاشرے اور پورے ملک میں معالجین نے گھناؤنا کاروبار شروع کر رکھا ہے ،کہیں عطائیوں نے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا معمول بنا رکھا ہے اور کہیں بڑے بڑے نجی ہسپتال بنا کر شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا دستور حیات بنا دیا گیا ہے۔ہر گلی کوچے میں عطائی ڈاکٹر بیٹھے ہیں ،ہر شہر کے معروف علاقوں میں مختلف ناموں سے نجی ہسپتال کھلے ہوئے ہیں جن کے باہر درجنوں ڈاکٹروں کے ناموں کے بورڈز لگاکر اس ہسپتال کی افادیت کو روشناس کیا جاتا ہے ،انہیں کہیں بھی کسی نے پوچھنا گوارہ نہیں کیا کہ ان کی کیا اہلیت اس لائق بھی ہے کہ وہ کھلے عام انتہائی نازک آپریشن کرنے کے اہل بھی ہیں ۔۔؟؟انہوں نے فیسیں بھی اس قدر رکھی ہیں کہ کوئی عام آدمی وہاں سے علاج کروانا ایک خواب سمجھتا ہے لیکن مجبور اور مایوس لوگ ان کی باتوں میں آکر اپنی جانیں گنوا رہے ہیں ۔
حدیقہ ناصر ان بے گناہ انسانوں میں سے ایک ایسی شہری تھی جو بڑی ہو کر اس قوم کا نام روشن کرتی مگر ان جلاد نما معالجین نے اس کی زندگی کو چھین لیا،اب اصل مقدمہ پر آتے ہیں ،حدیقہ ناصر دختر ناصر عباسی ساکنہ روات مری کا قاتل کون۔۔۔؟؟؟ راوپنڈی میں قائم ایک نجی ہسپتال ’’راضی ہاسپیٹل ’’چاندنی چوک میں واقع ہے جس کے بیرونی گیٹ پر بہت سے معروف ڈاکٹرز کے نام آویزاں ہیں جہاں آنکھوں کے آپریشن کے علاوہ کئی امراض کے آپریشن و علاج معالجہ کا بندبست کیا جاتا ہے،سنا ہے کہ اس ہاسپیٹل کو چلانے والوں نے ایک مذہبی جماعت کی پشت پناہی بھی حاصل کر رکھی ہے ۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس مذہبی جماعت کے سایہ میں معالج قاتل کی صورت میں براجماں ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ،حدیقہ ناصر کو بے ہوشی کا ٹیکہ لگانے والے ڈاکٹر جاوید اقبال جو ابھی تک غائب اور لاپتہ ہیں ،ان کی غفلت اور لاپروائی سے ایک معصوم جان کو جان بوجھ کر موت کی وادی میں دھکیلا گیا ،یہ بات ہماری روایت میں ہے کہ ڈاکٹر کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھتا موت کا وقت مقرر ہے مگر کیا یہ پو چھا جا سکتا ہے کہ ہنستا ہوا مریض جب ان کے پاس لایا جائے تو وہ کیاں موت کے آغوش میں چلا جاتا ہے ۔۔؟؟ اس کا روایتی جواب یہی ہے کہ ’’جناب موت کا وقت مقرر ہے ‘‘مگر کیا موت کا وقت ان کی نالائقی اور لا پروائی سے ہی مقرر ہوتا ہے ،کیا ڈاکٹر موت کا فرشتہ ہوتا ہے ،صد افسوس ہے کہ ایسے ہاسپیٹلز جو پورے ملک میں موجود ہیں ان کا نہ کوئی پرسان حال ہے اور نہ ہی گورنمنٹ ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس رکھتی ہے ۔آج کل ینگ ڈاکٹروں نے ایک ہڑتالی سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ان کے اس کردار سے بھی عوام انتہائی متفکر ہیں ۔
حدیقہ کے والد ناصر عباسی نے اپنی پیاری بیٹی کے قتل کا ذمہ دار ڈاکٹر جاوید اقبال کو نامزد کیا ہے اور انہوں نے تھانہ بنی راولپنڈی میں ایف آئی آر بھی درج کر رکھی ہے مگر ایک ہفتہ سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود قانوں کے رکھوالوں نے قاتل کو نہیں پکڑ سکا،جو ایک اور المیہ ہے کہ ہماری پولیس شہریوں کے جان و مال کی محافظ ہونے کے بجائے اپنی کمائی مہم کو اولیت دیتی ہے ۔دراصل ہمارے ملک میں ہر ادارے کا حال قابل توجہ ہے ،ہر طرف یہی نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلہ نظر آتا ہے
بس یونہی سبھی الٹا نظر آتا ہے
آخر پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے توقع کی جاتی ہے کہ ہونہار طالبہ حدیقہ ناصر کے قاتل کو کیفر کردار کیا جانااز بس ضروری ہے ،حاکم وقت کی رعایا میں اگر قتل معالج کے روپ میں ایسی قیمتی جانیں لیتے رہے تو پھر دہشتگروں کو بڑا بھلا کہنا غلط ہوگا بلکہ یہی سماج کے دہشتگرد ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے ،حکومت پنجاب کو ایسے ہاسپیٹل سیل کرنے چاہئیں جو محض دولت کمانے کے لئے قائم ہیں ،ڈاکٹروں کو کھلی چھٹی دینا بھی ظلم ہے ،ان سطور میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حدیقہ ناصر کی اعلیٰ صڈلاحیتوں کے اعتراف میں ان کے والدین کو پنجاب ہاؤس بلواکر ان کی تشفی کے لئے ان کے قائم کردہ ٹرسٹ کے لئے تاریخ ساز اعلان کیا جائے ،نیز اگر ڈاکٹروں کے رویوں کا جائیزہ لیا جائے تو وہ عوام کی کھال سب سے زیادہ ادھڑتے ہیں ۔ان قصاب نما ،موذی اور عوام دشمن طبقہ کا سختی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے ،کالم کے اختتام پر حدیقہ ناصر کو اللہ اپنی رحمتوں میں اعلی مقام عطا کرئے ،اس کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے نیز ہمارے حکمرانوں کو بھی اللہ توفیق نصیب کرئے کہ وہ عوام کی ان شکایات پر ٹھوس ایکشن لیں ،ناصر عباسی نے اپنی پیاری بیٹی کے نام ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کیا ہے ،اللہ انہیں اس نیک سماجی خدمات کی ادائیگی کے لئے ہمت اور وسائل مہیا کرئے جو ان کی نسل کے لئے صدقہ جاریہ ہوں۔آمین۔
حدیقہ ناصرکے نام چند اشعار نذر کرتے ہوئے ۔۔۔۔
یہ بھی کیا شام ملاقات آئی
لب پہ مشکل سے تیری بات آئی
صبح سے چپ ہیں ترے ہجر نصیب
ہائے کیا ہوگا اگر رات آئی
بستیاں چھوڑ کر برسے بادل
کس قیامت کی یہ برسات آئی
کوئی جب مل کے ہوا تھا رخصت
دل بے تاب وہی رات آئی
سایہ زلف بتاں میں ناصر
ایک سے ایک نئی رات آئی
انشاء اللہ آئندہ راضی پاسپیٹل چاندنی چوک بارے اہم انکشافات نذر قارئین کروں گا جو حیران کن ہونگے ،کیا یہ پاسپیٹل کس کی فنڈنگ سے چل رہا ہے ،اس کی آمدن اور خرچ کیا ہیں ،یہاں کس درجے کے ڈاکٹرز ہیں ،یہاں کا عملہ کیا معیار رکھتا ہے ،اور بہت کچھ؟؟؟ اگلی قسط میں۔۔۔ انتظار فرمائیے۔۔!!!!note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button