تازہ ترینکالمنسیم الحق زیدی

افغانستان سے امریکہ کا انخلا!شمشیر و سنا اول طاؤس و رباب آخر

سپہ سالار مجاہد اسلام جنرل حمید گل کا وہ قول تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا: ”ہم نے افغانستان کے اندر امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی پھر لکھا جائے گاکہ افغانستان کے اندر امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی“۔ آج سے 20 سال پہلے کسی کے خیال اور گمان میں بھی یہ بات امکانی طور پر نہیں تھی کہ نہتے افغانی سپر طاقت امریکہ کی پیشانی پر ذلت و رسوائی کا نشان ثبت کردیں گے۔ اس طویل جنگ میں امریکہ نے اپنی تمام تر جدید ایٹمی ہتھیار سے لیس ہونے کے باوجود افغان قوم کے اعصاب پر سوار نہیں سکا۔اس کے برعکس یہ فاقہ مست افغان قوم کسی حال میں اور کسی وقت امریکہ کو خاطر میں نہیں لائی اور نہ ہی کسی مسئلے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا۔یہ حسن اتفاق ہے کہ اس دوران طالبان کا تو نہ موقف بدلا اور اور نہ فرد تبدل ہوا لیکن امریکہ کا سب کچھ بدل گیا۔ قوموں کی تقدیریں یوں ہی نہیں بدلتیں، بلکہ قومیں اپنے فکرو عمل اور جدوجہد کی قوت سے اپنی تقدیریں بدلتی اور بناتی ہیں۔اپنے دین اور تہذیب کی حفاظت وہی قوم کرسکتی ہے جو بیدار، فعال،متحرک اور خطروں کا مقابلہ کرتی ہے۔ تاہم جو قومیں تعیش پسند اور کام سے جی چراتی ہیں حلال اور حرام میں اپنی سستی اور غفلت کے سبب تمیز کرنا بند کردیتی ہے۔مفاد پر ستی اور مفت خوری ان کی عادت کا حصہ بن جاتی ہے تو وہ قوم نہ خود زندہ رہ سکتی ہے اور نہ وہ اپنے قیمتی سرمایہ حیات کا تحفظ اور دفاع کرسکتی ہے۔بلکہ وقت اور حالات ان کے نام و نشاں کو حرف غلط کی طرح مٹا دیتا ہے۔دنیا کی تاریخ میں آج یونان، روم اور خود مسلم حکومتیں اسی طرح تہذیب و تمدن کے بڑے بڑے مراکز اور مینار قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔2001 ء میں طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر اس کے ہمنواوں تک کو غارت کرنے کا اعلان کردینے کی دھمکی دینے والی سْپر پاور نے طالبان کو امن کی امید بتاکر امن معاہدہ کرلیا۔مریکہ کو اپنی شکست کا احساس بہت پہلے ہوگیا تھا اس لیے اوبامہ نے جنوری 2012ء میں امن مذاکرات کے لیسے دوحہ قطر میں طالبان کا دفتر کھلوایاتھا۔ طالبان جسے امریکہ نے دہشت گرد کہا۔ اٹھارہ سالوں تک میزائل سے حملہ کیا۔ آسمان سے بموں کی برسات کی۔ ہر ٹھکانے پر چھاپہ مارا۔ مسجدوں اور مدرسوں کو بھی نشانہ بنایا۔ آج اسی طالبان کے سامنے امریکہ جھکنے پر مجبور ہوا۔ ہر شرط ماننے کیلئے تیار ہوا اور رات کے اندھیرے میں بگرام ائیر بیس سے بھی بھاگ نکلا۔اس ضمن میں بیس کے مقامی کمانڈر تک کو آگاہ نہیں کیا گیا جنہیں دو گھنٹے بعد امریکی اہلکاروں کے جانے کا علم ہوا۔ بگرام ایئر بیس کا سائز ایک چھوٹے شہر جتنا ہے جہاں بڑی سڑکوں کے ساتھ بیرکس اور کشادہ عمارتیں موجود ہیں۔اڈے پر دو رن وے ہیں اور لڑاکا طیاروں کے لیے ایک سو سے زیادہ پارکنگ کے مقامات ہیں جہاں بم دھماکوں سے محفوظ رکھنے والی دیواریں بھی بنی ہوئی ہیں۔ان دونوں رن ویز میں سے ایک 12 ہزار فٹ لمبا ہے اور اسے 2006 ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  چوہدری نثار کا عمران خان سے رابطہ ،چیئرمین کا صاف جواب

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker