تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

جمہوری دورمیں افراتفری اورانتشاروافتراق کیوں؟

maqsood anjum ہر خاص و عام کو یہ امید واثق تھی جمہوریت کا سورج طلوع ہوتے ہی انکی تمام پریشانیوں اور مشکلوں کے گہرے سیاہ بادل ایک دم چھٹ جائیں گے لیکن افسوس کہ ان کی یہ تمنائیں اور خواہش صوبوں اور مرکز کی محاذ آرائیکی نذر ہوگئیں ۔اس وقت ہر پاکستانی پریشانی کے عالم میں ہے باوجود جمہوری دور کے طمانیت قلب اور تسکین دولت سے محروم ہے ۔مہنگائی کے اس کٹھن دور میں ہر شہری خصوصاً متوسط طبقہ جو سفید پوشی کی لعنت میں جکڑا ہوا ہے انتہائی پریشان ہے۔موجودہ حالات کی سنگینی بھی اس بات کا کھلا الارم ہے کہ پاکستانیوں کو ان کی امیدوں کے چراغ روشن کرنے میں ابھی اور وقت درکار ہے۔پاکستانی شہری بھی کتنے صابر اور حوصلہ مند ہیں کہ انتظار جیسی چیز سے اپنا دل بہلا لیتے ہیں ۔مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری ہونے والے دھماکہ خیز اور پر فریب نعرے اور بیا نات ہی پاکستانی شہریوں کے لیے سراب سے کم نہیں ہیں۔قربان جاؤں پاکستان کے ان باسیوں سے جنہیں پس زندان بھی آزادی کا احساس ہوتا ہے ۔شاباش پاکستانی قوم کی ہمت اور جرات پر جو اپنا سب کچھ لٹا کر بھی آہ نہیں بھرتے۔پاکستانی قوم جیسی صبرو استقلال کی مالک راقم کے تصور میں اور کوئی قوم نہیں ہے۔
ٍ جرمن و جاپان جیسی اقوام جنہوں نے عالمی جنگوں کی صعوبتیں برداشت کیں ۔اپنا سب کچھ قربان کر کے آہ تک بھی نہ کی اور صبر و استقامت اور ہمت و جرات سے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور آج یہی اقوام سر خرو ہیں ۔حیران کن بات یہ ہے کہ ایٹم بموں کی ماری یہ اقوام آج دنیا کی تمام تر معیشت پر قابض ہیں بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ پوری دنیا معاشی طور پر ان کی غلام ہیں۔
راقم کو اندازہ ہے کہ پاکستانی قوم جرمن و جاپان کی اقوام سے بھی زیادہ دلیر ہیں۔ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔ایسی اور اقتصادی دھچکے کھا چکی ہے اور اب بھی سیاسی محاذ آرائی کے بھنور میں پھنسی ہوئی یہ قوم بڑی بے جگر ی سے اس بھنور سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔خدا جانے وہ دن کب آئے گا اور کب ان کی امنگوں کی شمع روشن ہو گی ۔اسی امید کے سہارے اپنی اصل منزل کی طرف رواں دواں ہے۔
ایسی بے یقینی کی سی کیفیت اور حالت میں بھی جہاں ان کے نمائندے بک رہے ہوں سیاسی سود ے بازی زوروں پر ہوبلیک میلنگ کے ذریعے اقتدار واختیارات کے مالک بن رہے ہوں مرکز اور صوبے کی محاذ آرائی و کشمکش کو طوالت دینے میں مصروف ہوں۔جائز و ناجائز اختیارات کا استعمال عام کر رہے ہوں ۔عوامی پروگراموں کو پس پشت ڈال کر ذاتی اغراض و مقاصد کے دیے روشن کر رہے ہوں سیاسی جلسے جلوسوں کے مقابلوں میں قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔بھاری قرضے حاصل کر کے بیرون ممالک جمع کروانے کی فکر میں ہوںیورپ کے لطف اندوز نظاروں سے محظوظ ہونے کے لیے سرکاری دورے بنانے کی کوششوں میں مصروف ہوں۔تعلیمی اداروں میں ایک دوسرے کو زیر کرنے کے چکر میں اسلحے کے انبارلگا رہے ہوں اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کی خاطر جیلوں سے دہشت گردوں کا ناجائز انخلاء کر رہے ہوں۔۔سونے اور ہیروئن کی سمگلنگ میں بڑے بڑے مگر مچھوں کی پشت پناہی کر رہے ہوں اور ان کی باز پرس کرنے والے ادارے بھی صبرو تحمل کا دامن ہاتھوں میں لیے ہوں یہ بھی پاکستانی قوم کی بہت بڑی قوم ہونے کی نشانی ہے۔ان حالات میں پاکستانی قوم کی مخلصی اور وفاداری پر شک کرنا کسی احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی و جمہوری ادارے اور پارٹیاں جن کو ملک کی تمام تر سنگینی حالات کی خبر ہے۔کیا وہ چاہتی ہیں کہ ایسا کوئی لائحہ عمل وضع کر لیا جائے جس سے ملک موجودہ کیفیت و حالات سے نکل کر ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو جائے اگر ایسی کوئی بات ہے تو پھر نیک و خیر کے کام میں تاخیر کیوں کسی باہمی تنازعات اور تفرقات کو ختم کرنے میں کاہے کی دیر۔جہاں پاکستانی قوم کے فرائض کا تعلق تھا انہوں نے ووٹ دے کر نمائندوں کو نمائندگی سونپ دی۔اب ان کا فرض تھا کہ دیانتداری اور مخلصی سے عوامی مسائل کو حل کرنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کرتے۔عوامی مسائل کی بھر مار جتنی بھی ہو اگر نمائندے چاہتے تو یہ ان کے لیے کوئی مشکل بات نہ تھی۔مگر افسوس یہ کہ عوامی نمائندوں نے پاکستان کی تاریخ پر ایسا بدنما داغ ثبت کیا ہے کہ آنے والی نسلیں ان کو اچھے نام سے ہر گز یاد نہیں کریں گی
حیرانگی تو یہ ہے کہ جانتے ہوئے بھی کہ قوم ان کے کردار و عمل سے بخوبی واقف ہو چکی ہے مگر یہ لوگ بڑی ڈھٹائی سے اپنی ڈگر پر گامزن ہیں۔یہ لوگ ناجائز دھندوں میں اس طرح ملوث ہیں کہ انہیںیہ بھی یاد نہیں رہا کہ یہ دنیا فانی ہے۔عوام کے ہاتھوں ان کے پر فریب نعروں اور بیانات کے عوض جان تو چھوٹ سکتی ہے مگر اللہ رب العزت کے ہاں یہ لوگ کیا منہ دکھائیں گے۔وہاں نہ تو کوئی بلیک میلنگ چلے گی اور نہ ہی کوئی سیاسی منافقت کی کوالیفیکیشن کام آئے گی۔وہاں کیے کی سزا و جزا کا عمل ہو گا۔مومنوں کو جنت الفردوس کھینچ رہی ہو گی اور پاکستانی ارکان اسمبلی کو دوزخ کی آگ پکار رہی ہو گی۔
خدارا باز آجاؤ ابھی وقت ہے بدل لو اپنی ان کیفیات کو،توبہ کر لو اپنے برے اعمالوں اور مانگ لو عوام سے معافی اور ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش میں لگ جاؤ۔مزید برآں کشمیری بھائیوں کی موجودہ آزادی کی تحریک کو اپنی جدو جہد سمجھ کر ان کے شانہ بشانہ لڑنے کی فکر کرو۔اب اس امر کی اشد ضرور ت ہے کہ باہمی افہام و تفہیم کے عمل کو جتنی جلدی ممکن ہو تقویت دو۔باہمی اختلافات و تنازعات کو اس طرح بھول جائیں جیسے حالات تھے ہی نہیں۔گزرا ہوا وقت پھر کبھی واپس نہیں آتااور نہ ہی وقت کسی کو معاف کرتا ہے۔ایسی سیاہ تاریخ جس سے آنے والی نسلیں شرمائیں رقم کرنے سے ہر گز گریز کریں۔تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔آج اگر ہم محکوم ہیں تو کل انشاء اللہ ہم حاکم بن سکتے ہیں۔بشرطیکہ ایک مسلمان قوم ہونے کے ناطے تمام سیاسی لسانی و مذہبی تفرقات کو بھول کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر بہ یک زبان ہنو دو یہود اور سامراجی و کمیونسٹوں کو للکاریں اور ان کو مسلمان اقلیتوں پر ہونے والے جورو ظلم سے باز کریں۔
تاریخ ایسے اوراق سے بھری پڑی ہے جہاں مسلمانوں کو ہر قوم پر فضیلت رہی ہے۔کفار و مشرکین کو بھی اس تاریخ کی ورق گردانی سے احساس ہوا ہے کہ مسلمانوں کو بھی اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے ہیں۔اس لیے کہ ان کی یہ اولین کوشش ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہیں ہونے دیتے یہ ان کی بھول ہے ۔انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب نیل سے لیکر تابخاک کا شغر مسلمانوں کی حکمرانی ہو گی۔اور آج کے حاکم کل کے محکوم ہوں گے۔ہم مسلمان ہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ ہر دکھ کے بعد سکھ ہے اور عروج کے بعد زوال ہوتا ہے۔آج جو عروج پر ہیں وہ تاریخ کے دھارے موڑنے کی غرض سے لاکھوں انسانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔انشاء اللہ تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہرائے گی۔یہ قدرت الٰہی کا سادہ اور اٹل اصول ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد سبی میں انتخابی گہما گہمی کا آغاز ہوگیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker